افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ سرکش طالبان کو ہمسایہ پاکستان کے اسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے اور اُنہیں طبی امداد فراہم کی جاتی ہے؛ جو حالیہ دِنوں غزنی کے جنوب مشرقی شہر میں افغان افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔

غزنی میں اہلکاروں، عالم دین اور مقامی مکینوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، صدر اشرف غنی نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگجو لڑائی میں شریک ہونے کے لیے سرحد پار پاکستان سے آتے ہیں۔

غنی نے لڑائی کے شکار اس شہر کا دورہ کیا، جہاں چند ہی روز قبل امریکی فضائی فوج کی مدد سے افغان افواج باغی سرکشوں کو غزنی سے نکال باہر کرنے کے لیے نبردآزما ہیں، تاکہ وہاں طالبان قبضہ جما سکیں؛ حالانکہ مضافاتی اضلاع میں جھڑپیں جاری ہیں۔

غنی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان فوج کے سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنہیں یقین دلایا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

غنی نے کہا کہ ’’جنرل باجوہ آپ نے ہمارے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے اور ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں بارہا کہا تھا کہ جب (پاکستان میں) انتخابات ہو جائیں گے، آپ اس جانب دھیان دیں گے۔ اب مجھے جواب دیا جائے۔۔۔ وہ کہاں سے آئے اور انہیں آپ کے اسپتالوں میں طبی امداد کیوں فراہم ہو رہی ہے؟‘‘

پاکستان فوج کی جانب سے غنی کے الزامات کا فوری رد عمل دستیاب نہیں آیا۔ پاکستان نے 25 جولائی کو پارلیمانی انتخابات منعقد کیے، اور ہفتے کے روز جب منتخب وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف لیں گے، جمہوری دور مکمل ہوگا۔

جمعرات کو وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے غزنی کے تنازعے میں پاکستان کے منسلک ہونے کی سماجی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جن میں یہ الزامات بھی شامل ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کو پاکستانی اسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے۔

فیصل نے اسلام آباد میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’اِن جعلی الزاموں کا ہمیں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اور ہم اِن بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔

ایک ہفتہ قبل طالبان نے غزنی پر دھاوا بول دیا، جس صوبے کے دارالحکومت کو بھی غزنی کہا جاتا ہے۔ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے دوران 500 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سرکاری فوجی، باغی اور شہری شامل ہیں۔

افغان فوج کبھی کبھار نام نہاد غیر ملکی شورش پسندوں پر لڑائی میں حصہ لینے کا الزام لگاتی ہے، جن میں عرب، چیچن اور پاکستانی شامل بتائے جاتے ہیں، جبکہ ابھی تک ذرائع ابلاغ کو اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY