آئینی ترمیم کی ممکنہ منظوری؛ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس آج طلب

1
970

صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس جمعرات کو طلب کر لیے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو چار بجے جب کہ سینیٹ اجلاس تین بجے شروع ہوں گے۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے ایم بی سومرو نے وزارتِ پارلیمانی امور کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اجلاس طلب کیے ہیں اور ممکنہ طور پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری لی جائے گی۔

مبصرین کے مطابق حکومت کو آئینی ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت درکار ہے۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں 224 ارکان جب کہ سینیٹ میں 64 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔

اس وقت حکمران اتحاد کے قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر 215 جب کہ سینیٹ میں 55 اراکین ہیں۔

حکومتی ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے حکومتی جماعتوں کے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔

بدھ کو لاہور میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات میں معاملات طے پانے کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کی آئینی ترمیم کی حمایت کی صورت میں حکمران اتحاد کو کچھ ووٹ تو ضرور مل جائیں گے۔ اس کے بعد حکومتی جماعتیں پارلیمان میں اپنے اراکین کے 100 فی صد ووٹ یقینی بنالیں تو بھی قومی اسمبلی میں چار اور سینیٹ میں ایک ووٹ کی کمی کا سامنا رہے گا۔

گزشتہ ماہ 16 ستمبر کو آئینی ترمیم منظور کرانے میں ناکامی کے بعد حکومتی اتحاد آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے سیاسی جماعتوں خاص طور پر جے یو آئی (ف)، سول سوسائٹی اور وکلا سے مسلسل رابطوں میں ہے۔

پیپلز پارٹی آئینی ترمیم کا اپنا ڈرافٹ جے یو آئی (ف) کو پیش کر چکی ہے جس کو عوام کے لیے بھی پیپلز پارٹی نے جاری کر دیا ہے۔

جے یو آئی نے بھی آئینی ترمیمی بل کا ڈرافٹ پیپلز پارٹی کو دے دیا ہے۔

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY