ملک بھر میں عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جارہی ہے ،شہر شہر،گائوں گائوں نماز عید کے جھوٹے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے،جس کے بعد سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کی گئی ،قربانی کا سلسلہ کل صبح سے پھر شروع ہوگا ۔
بڑی عید کا دن،ایثار اور قربانی کا دن جس کا آغاز عید کی نماز پڑھ کر ہوا ،لوگ ایک دوسرے سے گلے ملے اور تمام گلے شکوے دور کیے ۔
نماز کے بعد مرحلہ تھا قربانی کا،صبح صبح قصائی صاحب کی تلاش شروع ہوئی،پروفیشنل قصائیوں کے ساتھ اناڑیوں کے بھی مزے آگئے،بکرا تو آسانی سے لیٹ گیا ، گائے نے ہوش اڑائےاور چودہ طبق روشن کردیے،مشکل سے قابو آئی، پھر اناڑیوں نے کام دکھایا گوشت کا قیمہ اور ہڈیوں کا سرمہ بنا ڈالا۔
قربانی سے فارغ ہو کر ناشتے میںتازہ بھنی ہوئی کلیجی اڑائی گئی،گوشت بانٹنے کے بعد نمبر تھا مصالحے دار بریانی کا،مہک کچن سے نکلی تو ڈائننگ روم تک مہکاگئی۔
بریانی کے لیے سینے کا گوشت، تکا بوٹی کے لیے ران اور دستی آئی کڑاہی کے کام ، تلنے کے لیے چانپ، بونگ نہاری کیلئے مزیدار ،سری پائے مغزبھی قصاب سے بنوائے۔
عید کا دن ہو اور بچے گھومنے پھرنے کے منصوبے نہ بنائیں ،ایسا کبھی ہوا ہے،قربانی کے بعد والدین سے فرمائشی پروگرام شروع ہوگئے،پھر مل کر خوب جھولے جھولے، گھوڑے پر بھی سواری کی ، آئسکریم بھی خوب اڑائی۔
اب باربی کیو اڑانے کے لیے کھانے والے بے تاب، رات میں گرما گرم تکہ بوٹی، کٹا کٹ اور کباب وہ بھی پورے خاندان یا دوستوں کے ساتھ ہوگا،کل کھائیں گے پائے ،پھر نہاری کی باری آئے گی۔
تو مزے دار مسالے دار گرما گرم کھانے ضرور کھائیں، عید ہے بھائی خوشیاں منائیں،خوشیا بانٹیں،لیکن مستحقین کے چہروں کی مسکراہٹ یاد رکھیںکیونکہ قربانی کا اصل مقصد تو یہی ہے ناں۔













