وزارت توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 1 ہزار 124 میگا واٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے اراضی کا حصول رواں برس دسمبر میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس ضمن میں 70 فیصد کام تکمیل پاچکا ہے۔

واضح رہے کہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ملک کے شمالی مشرق میں واقع ہے جو دریا جہلم پر قائم کیا گیا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں مذکورہ منصوبہ سب سے بڑا ہے۔

اس حوالے سے ڈان کو بتایا گیا کہ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ دسمبر تک میگامنصوبے کے لیے اراضی کا حصول مکمل ہو جائے گا اور اگلے سال مارچ تک منصوبے پر باقاعدہ کام شروع ہو جائےگا۔

چائنا تھری گوریز (سی ٹی جی) کی ذیلی کمپنی کوہالہ ہائیڈروپاور کمپنی کے مطابق منصوبے سے سالانہ 5.079 بلین کلو واٹ سے 122 میگا واٹ توانائی پیدا کی جا سکے گی اور اس میں کیپیسٹی انسٹالیشن 4 ہزار 617 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ سی ٹی جی کے تحت مذکورہ منصوبہ 7 برس میں مکمل ہو گا اور قوائد و ضوابط کے مطابق کمپنی ہی اگلے 30 برس تک پراجیکٹ کے تمام امور سرانجام دے گی، جس کے بعد کمپنی پاکستانی انتظامیہ کو منصوبے کا کنٹرول تفویض کرسکے گی۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پرساری لاگت سی پیک منصوبوں کے تحت چین بردارشت کررہا ہے جبکہ منصوبے پر 15 فیصد یعنی 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی عالمی اداروں سے وصول کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے 15 فیصد عالمی فنڈز چین کے لیے بڑا مسئلہ نہیں ہے، اگر امداد فراہم کی گئی تو فائدہ اٹھایا جائےگا‘۔

حکام نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت 870 میگاواٹ کا سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 720 میگا واٹ کا کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر انتظامی نوعیت کا کام شروع ہو چکا ہے۔

کروٹ منصوبے پر تعمیرات اور سول ورک پر مشتمل 35 فیصد اور سکی منصوبے پر 10 فیصد کام ہوچکا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY