پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 13 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت شروع ہوا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔
گورنرپنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا۔
اجلاس میں ارکان کو اسمبلی میں حاضری ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے نوٹیفکیشن کے بعد کی حکمت عملی پرغور کیا گیا۔
تحریک انصاف اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ختم ہوتے ہی پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے تیرہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوگیا، جس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کررہے ہیں۔
تحریک انصاف، ق لیگ اور ن لیگ کے اراکین ایوان میں پہنچ گئے ہیں، جب کہ پرویز الہیٰ بھی ایوان میں پہنچ گئے ہیں۔
اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی شروع ہوگئی، اسپیکر کی جانب سے آرڈر ان ہاؤس کی ہدایت کے باوجود نعرے بازی جاری ہے۔
گورنر کی جانب سے ڈی نوٹیفائیڈ وزیر اعلی نے ایک مرتبہ پھر ایوان میں بلوں کی بہار لگا دی، اور حکومت بل پاس کراتی رہی جب کہ اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے رہے۔
ایوان میں بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ جو مرضی کرلیں ہماری حکومت قائم رہے گی، بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد پنجاب کابینہ کو تحلیل کر دیا گیا۔
سیکرٹری پنجاب کابینہ کی جانب سے کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
سیکرٹری پنجاب کابینہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق پرویزالہٰی نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب تک کام جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔
پنجاب کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا سیکرٹری پنجاب کابینہ کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے — فوٹو: ٹوئٹر
پنجاب کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا سیکرٹری پنجاب کابینہ کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے — فوٹو: ٹوئٹر
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یقین ہے وزیراعلیٰ کو اراکین اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں، اس نوٹی فکیشن کے بعد پنجاب کابینہ ختم ہوگئی ہے۔
واضح رہےکہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا، پرویز الٰہی نےمقررہ دن اور وقت پراعتماد کا ووٹ لینے سےگریزکیا تھا۔












