میرے بچپن کا محرم،پہلی قسط، نصرت نسیم

0
1264

جب بھی محرم الحرام کے یہ دن آتے ہیں بچپن کی یادیں، رونقیں، پکوان اورآوازیں اپنے حصار میں لے لیتی ہیں
چاند کے ساتھ ہی گہری اداسی، سنجیدگی اورتقدس کی فضا چھا جاتی ریڈیو ٹی وی گانے تو دور کی بات کوئی دھن بھی سنائی نہ دیتی ڈرامے موقوف نوحے،سوز خوانی، محفل مسالمہ اورمرثیوں کے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جاتے مجھے ریڈیو کے پروگرام زیادہ پسند آتے خاص طور پر زیڈ اے بخاری کی آواز میں میر انیس کے مرثیے سننے سے تعلق رکھتے بخاری صاحب کی آواز، گھن گرج اتار چڑھاو نقشہ کھینچ کر رکھ دیتے دل درداورآنکھیں آنسوؤں سے بھر آتیں
کیامذہبی رواداری کا زمانہ تھا سنی شیعہ سے بڑھ کر ان دنوں کااحترام کرتے ایک طرف امام بارگاہ سے آوازیں سنائی دیتی تو دوسری طرف مسجد حاجی بہادر صاحب (جو کہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے )میں ملک کے نامور علمائے کرام سیرت اہل بیت بیان کرتے مسجد کےملحقہ میدان میں دیگیں پکوا کرغرباءمیں تقسیم کی جاتیں
جگہ جگہ ٹھنڈے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائ جاتیں
ہماری رشتے کی نانی اماں ان دنوں طرح طرح کے پکوان بناتیں محرم الحرام کے 5ویں یا چھٹے دن بہت سارے دانے (آجکل پاپ کارن )بھنوانے جاتےپھر انہیں کشروں (بڑے ٹوکرےسمجھ لیں)میں ڈال کر یہ کشرہ وہ اپنے سر پر رکھ کر ہماری انگلی پکڑ کر چل پڑتیں راستے میں اورخواتین بھی اسی انداز میں یعنی شٹل کاک برقع اورسرپربڑا ساٹوکرا اٹھائے ہوئے نظر آتیں کافی دیر چلنے کے بعد گیلانی خاندان کی کسی بی بی صاحبہ کےگھرپہنیچ جاتے جوسب دانوں کوملا کر دعا کرتیں اورپھر کچھ حصہ رکھ کر باقی واپس کردیتیں
ساتویں محرم کو”دل”پکانے کا اہتمام کیا جاتا جس کے لئے بطور خاص موٹی موٹی گندم پسوای جاتی یہ گڑ کے ساتھ ساری رات ہلکی آنچ پر پکتی رہتی صبح اسےمزید گھوٹ کر تڑکا لگا کربرتنوں میں جما کر تقسیم کردیا جاتا تھا یہ میری پسندیدہ ترین ڈش میں اس میں مکھن اور دودھ ملا کر کھاتی آج بھی اس کی لذت اور ذائقہ زبان پر محسوس
نویں دسویں محرم کوکھیر کا اہتمام کیا جاتا اس کے اوپر چاندی کے ورق لگا کرزعفران سےگول ٹکیہ لگای جاتی

SHARE

LEAVE A REPLY