میرے بچپن کا محرم،دوسری قسط، نصرت نسیم

0
1555

ہاں تو ہم ذکر کر رہے تھے کہ نویں اور دسویں محرم کوبڑے اہتمام سےکھیر بنا کر دوستوں رشتہ داروں میں بانٹی جاتی بچوں کے لئے مٹی کی چھوٹی سی پرچ نما پلیٹ جسے وارے کہا جاتا اورمٹی کی گول سی ڈولی ہوتی، وارے میں کھیر اورڈولی میں شربت،ہرگھر میں جتنے بچے ہوتے ان کے لئےالگ سے رکھا جاتا اصغر معصوم اورننھے بچوں کی بھوک پیاس کومدنظررکھ کر بچوں کے لئے خاص طور پر کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا جگہ جگہ ٹھنڈے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائ جاتیں اور سنی یہ سبیلیں لگانے میں پیش پیش ہوتے
ہرمکتبہ فکر اورہر زبان کے لوگ اپنے اپنے انداز وروایات کے مطابق امام حسین علیہ السلام کونذرانہ عقیدت اورمختلف پکوان پکاکردوستوں رشتے داروں میں بانٹ کر صلہ
رحمی کا مظاہرہ کرتے میری اردو بولنے والی دوستوں کے ہاں حلیم کی دیگ پکتی
دسویں محرم الحرام کی صبح اداسی غم اورسناٹااوردکھ کی چادر سی تنی ہوتی دکھ کی اس فضا کو بنانےمیں نانی اماں کےان آنسوؤں کا بھی کافی عمل دخل تھا جو وہ اپنے دوپٹے کے پلوسے صاف کر کے بیبیوں پر گزرنے والےمصائب وآلام بیان کرتی جاتیں اور زیڈ اے بخاری کی آواز کابھی
دس بجے کے قریب وہ چپکے سے ہمیں لےکر نکل جاتیں اپنی اس دوست کے گھر جو مرکزی امام بارگاہ کے بالکل سامنے تھاوہاں سے جب ذو الجناح نکلتا تومنظر دیدنی،زنجیروں، چاقووں سےجبکہ کچھ لوگ بلیڈ کے ساتھ ماتم اورسینہ کوبی کرتے خون میں لت پت سینہ پیٹنے کی آواز اور زنجیروں کاشور دل بند سا ہوجاتا آنکھیں بھرآتیں اورنانی سےمطالبہ کہ چلیں واپس گھر ابھی تو سارے راستے بند ہیں دیکھوآرام سےیہ کہہ کر وہ دوبارہ روتےہوے دعائیں کرنے لگتی اورہم آنکھیں بند کرکے عزا داروں کی سلامتی کی دعاکرنے لگتے
تو یہ تھا ہمارے بچپن کامحرم جس کی کچھ یادیں تازہ کیں

SHARE

LEAVE A REPLY