وڈیو کالم ۔اے کربلا کی خاک پر سوئے ہوئے غریب،ماہ پارہ صفدر

0
1329

کربلا نجف سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ عراق کے کچھ قبائل میں اب تک یہ روائت ہے کہ وہ ہر برس چہلم امام حسین منانے کے لیے جوش عقیدت و محبت میں نجف سے پیدل چل کر بلا پہنچتے ہیں۔
ہماری بس کربلا میں داخل ہونی، تودور سے حرم امام حسین کا سنہری گنبد سورج کی کرنوں میں نہا رہا تھا۔ گنبد پر نظر پڑتے ہی خود بخود انکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
مجھے لگا جیسے شہر پرمظلومیت سی برس رہی ہو
شہر کے گلی کوچے
عمارتیں اور بازار دیکھ بلکل ایسا نہیں لگا کہ یہ کوئی ایسا شہر ہے جو چودہ سو برس پہلے آباد ہونا شروع ہوا تھا۔
شہر بستا تو تب ، جب اسے بسانے کی کوشش کی جاتی۔
بلکہ یہ شہر بار بار اجڑتا رہا۔
اسلامی تاریخ کی کتب میں ایسے واقعات تواترسے ملتے ہیں


اموی اور عباسیوں کے دور حکومت میں امام مظلوم ان کے عزیزوں کی قبروں کے نشانات مٹانے کی کوشش کی جاتی رہیں مگرشائد نبی کے خانوادے کا خون اتنا ارزاں نہیں تھا کہ صحرا کی ریت میں گم ہو جاتا۔ تخت و تاج والوں کی خواہشات کے برعکس
صحرائے کربلا ایک ایسی زیارت گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے جو چوبیس گھنٹے، بارہ مہینے عقیدتوں کی مہک میں معطر اور زائریں سے لبریز رہتا ہے۔
سیکورٹی کے کم از کم چار حصار یعنی چار بڑے کشادہ مہرابی دروازوں سے گزر کر میں
امام حسین کی قبر کے اندرونی حصے میں پہنچ توگئی،مگرقبر تک پہنچنا تقریبا ناممکن نظر آیا، خواتین کا ہجوم قبر کی جالی سے لپٹی آہ بکا کررہاتھا۔ ہمارے مقدس مقامات پر چاہے وہ مکہ ہوِ مدینہ، ایران شام کہیں بھی پیچھے والوں آنے والوں کو جگہ دینے کا رواج نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے صدام حسین کے جانے کے بعد تمام مقدس مقامات کا انتظام اور سیکورٹی کے معاملات غیر اعلانیہ طور ایرانیوں کے پاس ہیں،
امام حسین اور ان کے بھائی حضرت عباس کے روضے ہمہ وقت زائرین سے بھرے رہتے ہیں، دونوں روضوں کے درمیان چمکتے ہوئے سنگ مرمر استعمال کر کے ایک ایسی گزر گاہ بنائی گئی ہے جو شب کوبھی روشنیوں سے نہائی رہتی ہے، یہاں ہر وقت زائرین کے گروہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے نظر آئے۔ جن میں اکثریت ایرانی زاہرین کی تھی، وہ اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہین جن میں ہر عمر کی مرد وخواتین تھیں۔
سیکورٹی کے چاق و چوبند دستے بھی دن میں دو چار مرتبہ پریڈ کرتے ہوئے نظر آئے۔ انتہائی چست و مستعد، چھوٹی چھوٹی عمروں کے یہ نوجوان جو بظاہر مسلح نظر نہیں آتے، حرم امام حسین اور حرم حضرت عباس کے درمیان چکر لگا تے رہتے ہیں۔ اکثر یہاں آنے والے ہمارے گروپ میں شامل ایک صا حب
کا کہنا تھا سیکورٹی دستوں میں اکثر حزب اللہ کے جوان بھی شامل ہوتے ہیںَ،
کربلا کا ذکر ہو اور دریائے فرات کی بات نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں
دریائے فرات پر اسقرر اشعار لکھے گئے، جو اگر جمع کیے جائیں تو دیوان بن جائے، دریائے فرات کو شاعری میں نہر علقمہ بھی کیا جاتا ہے
پیاسا رھا جان نبی اے وائے نہر علقہ،
اٹھتی رہیں موجیں تری اے وائے نہر علقمہ
نجم آفندی کا یہ نوحہ دھیرے دھیرے گنگناتی ہوئی میں دریائے فرات تک پہنچی تو
تصورات کو ذرا جھٹکا سا لگا
دریائے فرات اٹھتی ہوئی موجوں کے بجائے ایک چھوٹی سی نہر میں تبدیل ہوچکاہے۔ جس کی دونوں کناروں پر سمینٹ کے پشتے تعمیر کردئے گئے ہین۔

دریائے فرات اورزیارات کے ارد گرد بسا شہرکربلا عجب اجڑا اجڑا سا اور بے ترتیب سا لگا، مکانوں کی خستگی نمایاں تھی، سٹرکیں اکثر شکستہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر ائیں، جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر،
عالم اسلام کا ایک متبرک شہر اس حالت میں دیکھ کر صدمہ ہوا۔
اور شہر بھی عراق کا جو تیل پیدا کرنے والا ایک ملک ہے،
یہاں پر حکومت کرنے والے فرمارواؤں کے محلات پر کتابیں لکھ دی جائیں،
مگر میرے گروپ کے لوگ کہتے تھے، ’ آپ پہلے یہاں نہیں آ ئیں اب تو آپ اسے بہت اچھی حالت میں دیکھ رہی ہیں،
شاید یہ غلط بھی نہیں، صدام حسین کے جانے کے بعد مناظر بدلے ہیں۔ بارہ مہنے زائرین کی آمد سے کمرشل سرگرمیاں بھی بہت بڑھ چکی ہیں۔ روضوں کی توسیع اور تزئین و آرائش ایسی کہ انکھیں دیکھ دیکھ کر تھکتی نہیں، دل داد بغیر رکتا نہیں۔
مگر روضوں کی شان و شوکت پر سے نظر ہٹا کر باہر کی جانب دیکھیں تو روضوں کے ارد گرد غربت کے بوجھ میں گھرے ہاتھ پھیلائے ہوئے بچے اور حسرت و یاس کی تصویریں بنی عورتیاں نظر ائیں۔ ضعیف مرد سامان کی بھاری بھاری ریڑھیاں گھسیٹ رہے تھے،
اے کربلا کی خاک پر سوئے ہوئے غریب
غربت کے یہ مناظر کب بدلیں گے،

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY