یہ ریڈیو پاکستان ہے ۔سید ناظر کاظمی

0
951

دانیال گیلانی قومی ادارےکے سابق ڈی جی مرحوم  سلیم گیلانی کے بیٹے ہیں ۔جن کو ایک بڑے باپ کے نام کی وراثت ملی ہے۔اور وزارتِ اطلاعات کاحکم ہے کہ اب قومی ورثہ لیز کر دیا جائے ۔اور اسلام آباد کی کئی منزلہ عمارت کی مشینری ۔سٹوڈیوز۔ایڈمن دفاتر کو ایک وقت میں کئی زبانوں کی نشریات کو ایک ڈبیہ میں بند۔۔۔۔۔ تبدیلی اور نئے پاکستان کا منفرد تصور ۔میں نے تحریک انصاف کو ووٹ کرنے کی خاطر اپنا دورِہ ابوظہبی کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی کیا ایک نئی صبح امید کے لیے ۔میں اس ادارے سے تقریباً بیس سال سے وابسطہ ہوں ۔باوجود اس کے کہ میں نے 38سال ایچ بی ایل میں باوقاراور باعزت گزارے ہیں ۔انعام لیے ہیں اس کے سسٹم کو درست کیاہے اعزاز کے ساتھ ریٹائیر ہوا ہوں مگر پہلا تعارف کراتے وقت ریڈیو پاکستان کا نام لیتا ہوں ۔جہاں میں نے ریڈیوپاکستان کانام لیا مجھے عزت اور توقیر ملی اس تعارف کا مظاہرہ پاکستان ٹیلی وژن میں پہلی بار اس وقت ہوا جب قران حکیم (فرمان الہی)کے ترجمہ کے لیے مجھےبلایا گیا میراخیال تھا کہ میری آواز کو آڈیشن سے گزرنا ہے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب مجھے کہا گیا کہ بسم اللہ کریں ریڈیو سےآئے کو کیا سننا اور پرکھنا۔ایسی کئی مشالیں ہیں ۔ریڈیو حرم شریف ہو یا ابوظہبی کا انڈین ریڈیو ۔ریڈیو پاکستان کانام آتے ہی عزت کا دروازہ خوش آمدید کہتا نظر آیا ہے اور اب یہ عزت یہ شہرت گہنانے کو ہے ۔اثاثہ جات کو لیز پہ اٹھا دینے کی خبر گویا بجلی کوند جائے مبینہ طور پر یہ تو سب کے علم ہے کہ
ریڈیو پاکستان کی اسلام آباد کی یہ بلڈنگ پہلے ہی بطور رہن برائے قرضہ؛ سابقہ حکومت گل کھلاچکی ہے
۔ریڈیو کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے کارنر کرنا دانش مندی نہیں ہے ۔ امریکہ جو سپر پاور کہلاتا ہے کا صدر ماہانہ قوم سےخطاب ریڈیو سے کرتا ہے ۔ وائس آف امریکہ۔ وائس آف جرمنی ۔بی بی سی ۔ ریڈیو چائنہ آل انڈیا ریڈیو ۔ریڈیو سیلون اور رشین ریڈیو وغیرہ آج بھی اپنے ملک کی شناخت ہیں ۔ ریڈیو ۔ پوسٹ آفس۔ پی آئی اے اور ریلوے کو عدم توجہی کے باعث بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔حکومت وقت کا اپنے مقاصد کے لیے استعمال۔۔۔۔ ۔پرائیویٹ ریڈیو چینل۔ کوئیر سروس۔ نجی ایر لائنز ۔اور کورین بس سروس (ڈیو)تو پرافٹ میں ہیں۔ مگر جو ادارے حکومت کا فیس ہیں ان کو لازمی سروسسز میں شمار ہونے باوجود ان کے بجٹ میں روز بروز کمی ۔ان اداروں کی مشنری ۔ بلڈنگ کی دیکھ بھال اور سٹاف کو پروفیشنل ماحول سے دور رکھاجانا اچھا قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔تربیت کے نئے رجہانات سے شناسائی کے لیے بیرون ملک تربیت کے اداروں میں کورسسز کو غیر ضروری سمجھا جاتا رہا ہے ۔بیرونی دوروں ۔ انٹرنیشنل کانفرنسوں ۔ سمپوزیم ۔ اپنے ملک میں بیرونی دنیا سے رابطہ کانفرنسوں جیسے اہم اقدامات کےفقدان نے کوالٹی ۔کپیسٹی پر برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اور اب رہی سہی کسر ان اداروں کو تنگ اور بند گلی میں دکھیل دینا قطعی خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ ہمارے ملک کی اشرفیہ خاص طور پر سیاسی اشرفیہ نے کلچرل سرگرمیوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔اقتدار اقتدار کی میوزیکل چیر نے بہت سارے اہم اداروں کی ٹانگیں توڑی ہیں جس سے ادارے مفلوج ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ عوامی سروسسز کے اداروں کو منافع بخش تصور کرنا پہلی حماقت ہوتی ہے ۔ ان اداروں کو روز بہ روز بہتر بناکر عوام کو رلیف اور حکومت کاعوام کی ضرورتوں سے واقفیت کا اظہار ہوتا ہے ۔ٹیکس کلیشن صرف حکمرانی عیاشی اور اثاثوں میں اضافے کے لیے نہیں ہے ۔بہتر سہلوتوں کی فراہمی کے لیے ۔بہترین طرز حکومت کا قیام ہوتا ہے ۔ اگر اداروں کا منافع بخش ہونا لازمی ہے تو محکمه جیل ۔محکمه پولیس ۔ انٹیلی جنٹس اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم ادارے بھی ان تصورات کے تناظر میں کیوں نہیں دیکھے اور پرکھے جاتے ۔دراصل یہ ادارے اقتدار کو تحفظ دینے اور بقا و ترقی کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں ۔دنیا اب گلوبل ولیج بن چکی ہے ریموٹ کے کنٹرول سے نکل کر آواز اور ابرو کے اشاروں میں سمانے کو ہے اور ہم رفتارِ جہاں سے کوسوں دوربچھڑتے چلے جا رہے ہیں ۔ اگر حکومت اداروں کو بہتر کر نے میں سنجیدہ ہے تو نوشتہِ دیوار پڑھے ۔مذید غیر سنجدگی کا اظہار ان اداروں کے بے کس۔ پسے ہوئے۔ مجبور اور محکور ملاذمین کا امتحان نہ لے اور وہ گرانٹ جو ان اداروں کی رفتہ رفتہ کم سےکم تر کی گئی ہے بحال کرے ۔فن کاروں موسیقاروں صداکاروں کی بہبود ۔کے لیے مثبت قابل عمل اقدامات کو یقینی بنائے ۔ ملازمت کاتحفظ ۔ بہتر مشاہرہ اور محفوظ مستقبل ادارے کے ملازمین اور وابسطہ افراد کو خوش دلی سے اپنے پروفیشنل کام کی طرف بھرپور توجہ مرکوز کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوگا ۔ ادارے بلڈنگ۔ مشنری وسائل اور افراد کے باہمی اشراک سے وجود میں برقرار رہ سکتے ہیں ان میں سے کسی ایک ستون کی کمزوری پورے ادارے کی تباہی بن جایا کرتی ہے ۔ ہڑتال ۔قلم چھوڑ تحریک یا اثاثوں کو نقصان کسی طور بھی کسی مسلہ کا حل نہیں ہوا کرتا ایک میز پر اور ایک پیج پر ایڈمنسٹریشن اور ملازمین باہمی ہم اہنگی سے مسائل کو حل کر سکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حکومتی طاقت اور عوامی ردعمل سے ستر سالوں میں بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے ۔اب نیا پاکستان پھر سے تاریخ کی تلخ حقیقتوں کو آزمانے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ہمیں ماضی سے سبق لے کر مستقبل کو روشن اور تابندہ رکھنا ہے ۔ کیامیڈیا اکیڈمی پرانے لیبل میں نئی ٹافی نہیں ہے کیا پاکستان کی فلم میڈیا انڈسٹری ریڈیو کی تربیت پر فخر نہیں کرتی ہے کیا اس ادرارے کی تربیت میں نہ آ سکنے والے اینکر کتاب چہ کو کتابچہ نہیں پڑھرہے ۔ کیا ریڈیو کے تلفظ کو حتمی نہیں مانا جاتا ۔کیا اس کے تربیت یافتہ پروڈیوسر صداکار بیرون ملک ریڈیو پاکستان کی عزت اور نیک نامی میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں ۔۔،۔ کیا ریڈیو نے اعلان نہیں کیا تھا یہ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس ہے (مصطفی علی ہمدانی کی آوازسے )اور پاکستان وجود میں آکیا ۔ ستمبر 1965کی جنگ محاذ جنگ کے علاوہ ریڈیو نہیں لڑی ہے ریڈیو سے وابسطہ ملازمین اور فن کار ہر روز اپنا حصہ اداکر رہے ہیں اس وطن کی آبرو کے لیے۔

نہ ستائش تمنا نہ صلے کی پرواہ

۔جناب عالی نئے ادارے وقت کی یقینا ضرورتیں ہیں تو ان کو جدید ماحول اور ضروتوں سے ہم اہنگ ٹیکنالوجی سے لیس بنیادوں پر قائم کریں روایات کے امین ادروں کی بقا کے ساتھ ۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو
پاکستان زندہ باد

سید ناظر کاظمی ۔لاہور

SHARE

LEAVE A REPLY