محترم جناب فواد چودھری صاحب کل سے میں ایک عجیب سی کشمکش میں ہوں جب سے میں نے ُسنا کہ آپ نے ملکی مفاد میں فصیلہ کیا ہے کہ ریڈیوپاکستان کی سات منزلہ عمارت کو بہتر کرنے کے بجائے لیز پر دے دیا جائے مجھے آپ کی ذہانت قابلیت اور خلوض پر کوئی شک نہیں لیکن ایک سرکاری ملازم کی مجبوری ہے کہ وہ لازمی پشہ وارانہ انداز میں سوچے گا اور بات کرے گا آپ بھی سرکاری ملازم ہیں اس بات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں ریڈیوپاکستان کو قوم کی آواز کہا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ریڈیو درحقیقت حکومت پاکستان کی آواز ہے ریڈیو ملازمین ہی ہیں جو حکومت کے ہر اقدام کے متعلق اپنے سامعین کی مثبت انداز میں ذہین سازی کرتے ہیں ان کی رائے کو منفی ہونے سے بچاتے ہیں ہمارا لسنرر پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہے اور کھیت کو پانی کھاد دیتا ایک کسان بھی گھروں میں ہماری آواز کے ساتھ ہی پہلا پراٹھا توئے پہ ڈالا جاتا ہے یاد رہے یہ ڈالا وہ ڈالا ہرگز نہیں جس کے بارے کہا جاتا ہے مجھے کیوں نکالا آج ریڈیوپاکستان کے ملازمین اس موڑ پر ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ بھی سڑکوں پر پوچھتے پھریں کہ ہمیں کیوں ریڈیوپاکستان کی عمارت سے نکالا لیکن نہایت ہی محترم فواد چودھری صاحب ایک سر کاری ملازم کسی عمارت کا محتاج نہیں خاض کر بڑی عمارت کا اگر آپ کیں گے تو یہ ریڈیوپاکستان کے ملازمین خیمہ لگا کے بھی کر لیں گے پروگرام لیکن سر آرٹسٹوں کی جزباتی وابستگی جیسے اپنے کام سے ہوتی ہے ویسے ہی اپنے اداروں سے بھی ہوتی ہے یہ ریڈیوپاکستان کے سٹوڈیوز عام سٹوڈیوز نہیں یہ وہ ہیں جن میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ملکہ ترنم نورجہاں فریدہ خانم کی یادیں ہیں انداز اور باتیں ہیں میں کون کون سے نام لوں وقت نہیں ہو گا آپکے پاس لیکن سرکار کاش کے آپ ایک مشاورتی اجلاس ریڈیوپاکستان کے ملازمین سے بھی کر لیتے ہم نہ بولتے کہ ہمیں میڈیکل نہیں ملتا ریڈیوپاکستان کے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی ہم نہ بولتے کہ ہماری اکثر عمارتوں کی خستہ حالی عروج پر ہے لیکن یہ ضرور بتا سکتے تھے کہ حکومتی تعاون سے کس طرح پیسہ بنایا جاسکتا ہے جو ملازمین اور حکومت دونوں کے مفاد میں ہو ملکی مفادات کے ساتھ ساتھ ۔۔ایک بار میری ایک دوست نے بولا تھا کہ ُاس کا شوہر بولتا ہے پلاٹ فروخت کرکے کاروبار کرتا ہوں میں نے ُاسے بولا جس میں دم ہو وہ کھبی فروخت کی طرف نہیں آتا تم حوصلہ دو صرف اس کو پلاٹ نہیں ۔۔اور ایسا، ہی کیا، ُاس نے آج کاروبار بھی ہے اور پلاٹ بھی ۔۔لیکن لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے آپ طاقت ور ہیں اور میں سرکاری ملازم اس لئے نہ حوصلہ دے سکتی ہوں اور نہ تجویز بس ایک خط لکھ سکتی ہوں جو لکھ دیا سرکاری ملازم چوہدری صاحب مجبور ہوتا ہے معاشی قتل سے ڈرتا ہے کیونکہ گھر میں ماں بھی ہوتی ہے اور بہت سے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی سچ کہوں تو ہمیں حکومتی حکم ماننے کی آفشل سطع پر عادت ہوگئی ہے اب کی بار بہت دکھ ہو گا ہمیں کیونکہ یہ حکم ریڈیوپاکستان کے مفاد میں نہیں اس لئے مانا نہیں جاسکتا دکھ آپکو بھی ہو گا کہ میری بات کو اہمیت نہیں دی تو کیوں نہ ہم دکھ کو طاقت بنا لیں آپ ریڈیوپاکستان کے ملازمین سے تجاویز لیں ریڈیوپاکستان پر فی الحال پیسہ کچھ لگایں یقین کریں لیز سے زیادہ پیسہ ملے گا آپکو ۔۔پیسہ ہی اگر مجبوری اور معیار ہے قابلیت کو پرکھنے کا ۔۔۔اور آخری بات یہ کہ سامعین کے ساتھ یہ ظلم نہ کریں جو ریڈیوپاکستان کو اپنی آواز قوم کی آواز بولتے ہیں ۔۔
نسرین فرید














اپنے ورثے سے جڑی ایک بہترین تحریر ۔کیسے کیسے نایاب لوگ ھیں اس ملک میں ۔آج جب میں ان کو دکھی دیکھتا ھوں تو مجھے ایک آرٹسٹ یاد آتا ھے جس نےپچیس برس پہلے پینٹنگ چھوڑ دی تھی اور کہا تھا کہ تین سو سال بعد بھی اس ملک کو پینٹر کی ضروت نہی ھوگی ۔چنانچہ جان لیں کہ