تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں پہلے دن سے تجزیہ نگار یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ انکو کسی دشمن کی ضرورت نہیں یہ خود ہی اپنے لیئے کافی ہیں اور اب تازہ ترین اقدام سے حکومت کے وزیر اطلاعات نے اس خیال کو اور تقویت دی ہے
اسوقت جبکہ ملک کو معیشت سمیت متعدد دیگر بہت اہم مسائل درپیش ہیں تو بے وجہ اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر کی سات منزلہ عمارت کو لیز پر دینے کا شاخسانہ شروع کر دیا گیا ہےجس سے ادارے کے افسران اور کارکنوں میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے اور ملازموں کی یونینوں نے راست اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد اور دیگر شہروں سے ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف نشریاتی مراکز پر کارکنوں کا مورال بے حد کم ہوا ہے جس سے کارکردگی میں نمایاں کمی آئی ہے
اکثر ریڈیو کے ریٹائرڈ افسران اور ماہرین نے وزیر اطلاعات کی اس دلیل کو محمل قرار دیا ہے کہ عمران خان اس عمارت میں انفارمیشن اکیڈمی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ سات منزلہ عمارت میں اکیڈمی دیوانے کا خواب لگتا ہے اور پھر یہ کہ اس عمارت میں موجود درجنوں شعبوں کے افراد کو کھپایا جائے گا
اسوقت تک ریڈیو کی جس اکیڈمی کا ذکر کیا جارہا ہے وہاں اتنی گنجائش نہیں کہ فقط ایک شعبے کے لوگ وہاں سما سکیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ریڈیو کے افسران اور کارکنوں نے اسکی سخت مزاحمت نہ کی تو اگلے مرحلے میں لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے













