عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں کہا گیا کہ سیاحتی مقامات پر لاکھوں بے روز گار نوجوان کو ملازمت کے مواقع ملیں سکیں گے خصوصاً شمالی علاقہ جات، ساحلی، مذہبی اور تاریخی مقامات پر قابل نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بیرون اور اندورن ملک سیاحتی مقامات کی تشہیر کی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ماحولیاتی، مذہبی اور ایڈونچر سیاحت کے علاوہ سیاحتی ریزورٹ بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر یاسر ہمایوں، محمد عاطف اور عبدالخالق ہزارہ، آزاد کشمیر کے وزیر سیاحت مشتاق مہناج، صوبائی اور وفاقی سیکریٹریز علی توقیر شاہ، وقار ذکریا، سراج الملک اور ذوالفقار علی خان نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پبلک ریسٹ ہاؤس کو صاف اور شفاف طریقے سے نجی اداروں کو دینے سے سیاحت فروغ نہیں پائے گی بلکہ اثاثوں کا ٹھیک استعمال ہی سیاحت کے فروغ کا اصل وجہ بنیں گے۔
وزیراعظم نے تمام صوبائی ترجمان بشمول ٹاسک فورسز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے صوبوں میں سیاحتی مقامات کی نشاہدی کر کے ایک ہفتے میں سیاحتی مرکز قائم کریں۔اس ضمن میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبائی حکومت کو ٹاسک فورسز کے ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں مربوط پالیسی اور ٹائم فریم بنانے کی ہدایت کردی۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ان تمام مشکلات کی نشاندہی کی جائے جو سیاحت کے فروغ کے لیے رکاوٹ پیدا کرہی ہیں تاکہ وفاقی حکومت ممکنہ حل کے لیے صوبائی حکومت کو بھرپورتعاون پیش کرے۔












