پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی جانب سے اسلام آباد میں نیشنل براڈکاسٹنگ ہاوس کی عمارت کو لیز پر دینے اور اس سات منزلہ عمارت کے ملازمین اور دفاتر کو اسلام آباد ایچ نائن میں ریڈیو اکیڈمی کی ایک بہت مختصر سی عمارت میں منتقل کرنے کے غیر دانشمندانہ اعلان نے ریڈیو کے ملازمین میں سخت بے چینی پیدا کر رکھی اور ملک بھر کے نشریاتی اداروں کے ملازمین کی کارکردگی اس بے یقینی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے
عالمی اخبار نے ریڈیو پاکستان کے کچھ اہم نشریاتی مراکز کے سربراہوں سے ٹیلی فونک سروے کیا ہے جسکے نتیجے میں نوے فیصد سے زیادہ ملازمین کو حکومت کے اس فیصلے پر افسوس ہوا ہے اور انکا خیال ہے کہ لیز پر دینے کا یہ معاملہ حکومت اور آگے بڑھائے گی جسکے بعد ملک کے باقی نشریاتی مراکز بھی اسکا نشانہ بنیں گے کیونکہ یہ عمارتیں مصروف ترین کمرشل جگہوں پر ہیں اور ان پر ان لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہین
سروے کے مطابق نواسی فیصد لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وزارت نے اس ضمن میں کسی سے بھی کوئی مشاورت نہیں کی اور ایک نادر شاہی فیصلہ صادر کر دیا ہے جس سے ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور اس عمل میں ریڈیو پاکستان کے موجودہ سربراہ شفقت جلیل کا رویہ ملازمین دشمن ہے کہ اس مسلے کے شروع ہونے سے اب تک انہوں نے ملازمین کو دو الفاظ حوصلے کے بھی نہیں کہے
مختلف نشریاتی مراکز پر اب سفارشات تیار کی جا رہی ہیں جو وزارت اطلاعات کو بھیجی جائیں گی لیکن سروے میں ملازمین اور افسران کی غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ سفارشات بھجوانے کا کہنا وزیر اطلاعات کا وقت حاصل کرنا ہے ورنہ فیصلہ وہ وہی کریں گے جو انہوں نے انا کا مسلہ بنا لیا ہے
کارکنوں کا ہنا ہے کہ ہماری بربادی کے یہ عوامل کارفرما ہیں۔
1۔حکمرانوں کی یہ سوچ کہ آج کل ریڈیو کون سنتا ہے۔۔۔
2۔ہمارے سینیرز کی یہ سوچ،کہ ہم تو ریٹائرڈ ہو رہے۔بس یہ ایک ماہ یا ایک سال عزت سے گذاروں۔ادارے کے لیے پنگا لینے کی کیا ضرورت۔۔بس یس اور نو کرتے جاو۔
3۔ یونین کا فعال کردار نہ ہونا۔اگر یونین کئ سال پہلے اتنی فعال کردار ادا کرتی تو شائد آج یہ نوبت نہ آتی۔
4۔ادارے کو خیراتی سمجھنا۔بے تحاشا بھرتیاں کرنا۔جو بجٹ پروگرام کے لئے مختص تھا اس سے زیادہ لوگوں کی تنخواہوں میں دینا۔
5۔ کارکردگی دیکھانے والے اور کارکردگی نہ دیکھانے والے میں کوئی فرق نہ ہونا۔اس وجہ سے ویژن نہ رکھنے والے افراد بڑی کرسیوں پر بیٹھ کر صرف اپنی ریٹائرمنٹ کے دن گن رہے ہوتے ہیں۔
6۔ وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونا۔
7۔ ہماری صرف نوکری کرنے کی سوچ۔
عالمی اخبار جلد ہی اس ٹیلی فونک سروے کو مکمل شائع کرے گا













