بنے گا نیا پاکستان، دس کی روٹی پندرہ کا نان،م ش جونیر

0
1579

صاحبو تبدیلی سرکار نے اتنے یو ٹرن لئے ہیں کہ اب بروٹس کو یو ٹو کہنے کی بھی ھمت نہیں رہی ۔ اسی بھرمار میں پوری قوم چکرا کر رھ گئی ہے اور اب غش کے عالم میں ہر کوئ پکار رھا ہے” بنے گا نیا پاکستان، دس کی روٹی پندرہ کا نان”۔ اسی افراتفری میں ھماری بابو کریسی نے بھی نئ نویلی حکومت کے ساتھ روایتی واردات کر ڈالی یعنی اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر کبھی بھینسوں کو ہانکنے پر لگا دیا تو کبھی نئ دکھا کر اینٹوں پر کھڑی کھٹارہ گاڑیوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا ۔ آئ ایم ایف کے سامنے بس ناک رگڑنے کی دیر ہے ان مظلوم افسران کو نئ گاڑیاں بھی مل جائیں گی ۔ ہر حکومت کو گولی دینے میں ماہر بابو کریسی نے خود پرستی کا شکار وزیر بے تدبیر فواد چوہدری کے کانوں میں “بیچ دے” کی شرگوشی کرتے ہوئے انھیں ریڈیو پاکستان کی جانب دھکیل دیا ۔ وہ بھی آگے سے عظمت کا سر نگوں مینار ثابت ہوئے اور اپنے بوجھ کو محسوس کرنے کی بجائے ریڈیو پاکستان کو ہی حتمی مجرم سمجھنے لگے ۔ اب غلط اور زائدالمعیاد اعدادوشمار کی جو پھکی انھیں دی گئ تھی اس کے مسلسل اور بےتحاشا استعمال نے ریڈیو ملازمین کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ۔ تبدیلی کے اصل اور جائز خواہشمند دھائ دیتے رھ گئے کہ سرکار بابو کریسی کی چالاکی کو سمجھیں اور کچھ چھان بین کر لیں، ریڈیو کے لوگ آپ سے بھی پہلے اور زیادہ تبدیلی کے آرزومند ہیں ۔ اپنے منشور میں کئے وعدے کے مطابق اس بستی کے چاک گریبانوں کو اکھٹا کریں اور اس ادارے کو فعال بنانے کے لئے ان کے تجویز کردہ نسخے کو آزما لیجئے،امید ہے حسب منشاء افاقہ ہو گا ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوئی ریکارڈ کی اسی تنگنائی میں پھنسی ہوئی ہے اور سنجیدگی کافور ہے۔ دوسری جانب ریڈیو پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو اعدادوشمار کچھ اور ہی کہانی سناتے دکھائ دیتے ہیں ۔ اس وقت ریڈیو پاکستان کے مستقل ملازمین کی ماھانہ تنخواہ 12 کروڑ 31 لاکھ 86ہزار 8 سو 22 روپے اور سالانہ 1 ارب 47 کروڑ 82 لاکھ 41 ہزار 8 سو 64روپے بنتی ہے ۔ اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق ان ملازمین کی ماھانہ ہاوس ہائرنگ 2 کروڑ 76 لاکھ جبکہ سالانہ 33 کروڑ 12 لاکھ بنتی ہے۔ اس طرح ریڈیو ملازمین کی سالانہ تنخواہ اور ہائرنگ 1 ارب 80کروڑ 94 لاکھ 41ہزار 8 سو 64روپے بنتی ہے ۔ الفاظ اور ھندسوں کے اس سونامی میں اگر غوطہ زن ہوں تو سب سے پہلے ان لوگوں کی چیِخیں سنائ دیتی ہیں جنھوں نے اپنے زندگی کے قیمتی ترین ماہ وسال ریڈیو پاکستان کو دیئے لیکن وہ بقول فواد چوہدری گھوسٹ ملازمین تھے جو خون بہائے بغیر ہی شہداء میں جا شمار ہوئے ۔ کاش دوران ملازمت ان پر کٹے پرندوں کو اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق شجر و شاخ کے انتخاب کی آزادی ہوتی ، پھر یہ بھی وزیر صاحب کی طرح اپنی پسند کے شجر سے اپنی ٘پسند کا میوہ ٹھونگتے ۔ابھی بھی 107 لوگ ایسے ہیں جنھوں نے ریڈیو کی ملازمت میں تیس سے چالیس سال گزارے، اپنی تنخواہوں سے کٹوتیاں کروائیں اور اب منتظر ہیں کہ وہ گھوسٹ سے کب زندہ انسانوں میں شمار کئے جائیں گے ۔ ادارے اور حکومت نےان رئٹائرڈ اور قابل احترام لوگوں کے 28کروڑ 58لاکھ 61 ہزار 6سو 20 روپے دینے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے رئٹائرڈ ملازمین کی ماھانہ پنشن 13کروڑ 20لاکھ روپے جبکہ سالانہ 1ارب 58کروڑ 40لاکھ روپے بنتی ہے ۔ وعدہء فردا یعنی اس سال کے بجٹ میں اعلان کردہ دس فیصد اضافہ ڈال کر موجودہ مالی سال میں یہ رقم 1ارب 74کروڑ 24لاکھ بنے گی۔ یوں پنشن اور بقایاجات کی مجموعی سالانہ رقم 2 ارب 2کروڑ 82لاکھ 61 ہزار 6سو 20روپے بنتی ہے ۔ وزیر اطلاعات کو خبر ہو کہ ریڈیو پاکستان کے حاضر و رئٹائرڈ ملازمین کا سالانہ خرچہ 3 ارب 83کروڑ 77لاکھ 3ہزار 4سو 84روپے بنتا ہے ۔اب برائے مہربانی تھوڑی سی محنت کرکے ریڈیو کے بجٹ کا ناک نقشہ درست کرلیں اور بابو کریسی نے اپنا خرچہ چھپانے کے لئے جو اضافی صفر ریڈیو کے کھاتے میں ڈالے ہیں ان پر ضرب کاری لگائیں تاکہ حقیقی ردالفساد ہو سکے

م ش جونیر کے قلم سے

SHARE

LEAVE A REPLY