امریکی شہری کے جبری اٹھائے جانے پر دہلی اقلیتی کمیشن کا پولیس کو نوٹس
نئی دہلی: پچھلے ۱۶ اکتوبر کو بیکانیر (راجستھان ) سے آئی ہوئی ایک پولیس ٹیم جامعہ نگر پولیس تھانے سے امریکی شہری محمد یاسین پٹیل کو بغیر کوئی کاغذات دکھائے گرفتار کرکے بیکانیر لے گئی۔ محمد یاسین پٹیل ذیا بیطس کے مریض ہیں اور ان کے دماغ کی سرجری بھی ۲۰۱۳ میں ہوچکی ہے جس کے لئے ان کو مستقل دوائیں کھانی پڑتی ہیں لیکن ان کی بیٹی طوبی کی شکایت کے مطابق پولیس نے یہ دوائیں ان کواپنے ساتھ نہیں لے جانے دیں۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے ضلع جنوب مشرقی دہلی کو نوٹس بھیج کر جواب مانگا ہے کہ پٹیل کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، انھیں کیوں کسی وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے اور کیوں ان کو اپنے ساتھ ضروری دوائیں نہیں لے جانے دی گئیں۔ اسی کے ساتھ دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بیکانیر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت دی ہے کہ یاسین پٹیل کو ضروری دوائیں مہیا کی جائیں اور ان کو طبی نگہداشت فراہم کی جائے۔

ترشول بانٹنے کے سلسلے دہلی اقلیتی کمیشن کی دہلی پولیس کو سرزنش
نئی دہلی: پچھلے دنوں سونیا وہار اور گوکل پور نہر روڈ پر علانیہ ترشول بانٹنے کے سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کے نوٹس پر شمال مشرقی دہلی کے ڈی سی پی نے اپنی رپورٹ میں کمیشن کو بتایا ہے کہ ترشول کی تقسیم سے کوئی قانون نہیں توڑا گیا اور یہ کہ یہ ترشول رمزی قسم کے تحفے (میمنٹو) تھے۔ کمیشن نے اس جواب پر اپنی خفگی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ ڈی سی پی کو لکھا ہے کہ آپ کا جواب بہت عجیب وغریب ہے۔ ترشول تقسیم کرکے طاقت کا مظاہر ہ کوئی رمزی چیز نہیں ہے اور نہ ہی ترشول کوئی ’’تحفے ‘‘ کی چیز ہے بلکہ وہ مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ ڈی سی پی کو ہدایت دی ہے کہ پبلک زمین پر، جیسے سڑکوں اور پارکوں میں ، اس طرح کے کسی طاقت کے مظاہرے کی اجازت نہ دی جائے اور ترشول کی علانیہ تقسیم کسی طرح برداشت نہ کی جائے۔ کمیشن نے متعلقہ ڈی سی پی کو مزید ہدایت دی ہے کہ اپنے ماتحت تمام افسران تک یہ ہدایت پہنچادی جائے اور اس بات کی تعمیل کی اطلاع کمیشن کو دی جائے۔

بجواسن مسجد کے سلسلے میں دہلی پولیس کو نوٹس
نئی دہلی: پچھلے چند ہفتوں سے ہر جمعہ کو نماز کے وقت کچھ شریر لوگ جامع مسجد بجواسن گاؤں واقع جنوب مغربی ضلع کے سامنے ہنگامہ کرتے ہیں، باہر کے لوگوں کو نماز نہیں پڑھنے دیتے ہیں اور اگر صفیں مسجدکے باہر تک آجائیں تو ہنگامہ کرتے ہیں۔ شر پسندوں نے مسجد کا لاؤد اسپیکر بھی اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ کمیشن کے کہنے پر پولیس اس جگہ چند ہفتوں سے متحرک ہوئی تھی لیکن شر پسند اب بھی نمازیوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ اس لئے دہلی اقلیتی کمیشن نے جنوب مغربی ضلع کے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کرکے معاملہ کی تفتیش کا حکم دیا ہے اور شرپر آمادہ لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سعید نقوی کی کتاب ’’وطن میں غیر ‘‘ کا اجراء اگلے جمعہ کو حامد انصاری کے ہاتھوں
نئی دہلی: معروف صحافی سعید نقوی کی انگریزی کتابBeing the Other کا اردو ترجمہ فاروس میڈیا نے ۲۹۰ صفحات پر مشتمل ’’وطن میں غیر:ہندوستانی مسلمان‘‘ شائع کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ فاروس میڈیا نے کتاب کا ہندی ترجمہ بھی شائع کردیا ہے۔دونوں ایڈیشنوں کا اجراء اگلے جمعہ کو کانسٹی ٹیوشن کلب کے ڈپٹی اسپیکر ہال میں میں ۵ بجے شام حامد انصاری سابق نائب صدر جمہوریہ کریں گے۔ اس موقع پر بولنے والوں میں حامد انصاری،سعید نقوی ، ہندی صحافی اوم تھانوی، امرت لال (انڈین اکسپریس)،اردو صحافی سہیل انجم اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان شامل ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY