بعض علماء کے رویوں نے لفظ “عالم” کا تقدس ختم کردیا ہے. اس لفظ کو دوبارہ اس کا مقام دلانے کے لئے اہلِ علم کو آگے آنا پڑے گا. ایک فکری تحریک کی ضرورت ہے جو مسالک کے تفرقوں سے پاک ہو. اُس میں شامل اہلِ علم دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم سے بھی واقفیت رکھتے ہوں. اُن میں لچک ہو. اکڑ نہ ہو.
اُن کا فہم ِدین کسی محدود دائرے میں بند نہ ہو. دورِجدید کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے اجتہاد کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں.
بس یوں سمجھ لیجیے کہ مفتی تقی عثمانی، مولانا مودودی، ڈاکٹر ذاکر نائیک، جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا طارق جمیل، محترم احمد جاوید، محترم عرفان الحق، محترم احمد رفیق اختر، پروفیسر ھود بھائی، پروفیسر مبارک علی اور پروفیسر مہدی حسن… ان سب اصحاب کی فکر کو ایک جوسر بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کرلیں اور پھر اسے تھوڑا تھوڑا اس نئی بنائی جانے والی تحریک کے ممبران کے ذہنوں میں انڈیل دیجئے .
لیجیے دنیا سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک جدید اسلامی تحریک تیار ہے.












