مریکہ کی جانب سے ایران کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی شعبے پر پابندیوں کا اطلاق ہو گیا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ’فخریہ طور پر‘ امریکہ کی ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا۔

ایران اور بین الاقوامی ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ایران کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی شعبے پر پابندیوں کا مقصد تہران پر اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے رہنماؤں پر یہ دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اپنا ’تباہ کن رویہ‘ ختم کر دیں یا پھر ’اقتصادی بحران ‘ کی جانب بڑھتے جائیں۔

ایران کے خلاف عائد کی جانے والی نئی تعزیرات کی مزید تفصیلات وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر خزانہ اسٹیون منوچن پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں بیان کریں گے۔

امریکہ کے اس اقدام کے بعد ایران کے خلاف وہ تعزیرات دوبارہ بحال ہو جائیں گی جو 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ختم ہو گئی تھیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY