تازہ ترین تحقیق کے مطابق “پاپ” موسیقی ہمارے دماغوں پہ تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔
(نیشول کی کالم نگارٹیلر سلوان کے کالم سے اخذ کردہ کچھ گذارشات)
تحقیق سے ثابت ہورہا ہے ہے کہ موسیقی کے بارے میں ہمارے بڑے بزرگ جو کہتے تھے سچ تھا۔ اگر آپ پاپ موسیقی کے دیوانے ہیں تو یہ آپ کی تخلیقی ہنر کی حس پہ منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ مارکیٹ میں اس کی کمرشل اہمیت پہ زیادہ زور دیا جاتا ہے ، جبکہ انسانوں اور خصوصاً ہمارے نو عمروں کے ذہنون پہ اس کے منفی اثرات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انیس سو آٹھ میں شمالی سکاٹ لینڈ کی ہیریٹ واٹ یونی ورسٹ میں ادریان نامی ایک محقق نے اپنی ایک تحقیق پیش کی جس پہ تین سال میں ساٹھ ممالک سے چھتیس ہزار لوگوں نے حصہ لیا۔ اس میں ہر حصہ لینے والے کو اپنی پسند کی موسیقی کی درجہ بندی ترتیب سے کرنے کہا گیا۔ اس چارٹ کے حساب سے جب جانچ کی گئی تو پاپ میوزک پسند کرنے والوں میں تخلیقی صلاحیت بہت کم تھی۔
گو حتمی طور پہ یہ نہیں کہا جاتا کہ پاپ پسند کرنے والے سارے ہی بیوقوف ہیں لیکن اتنا ضرور ثابت ہو اہے کہ پاپ میوزکے مداح زندگی میں تخلیقی صلاحیتوں کو کم ہی بروئے کار لاسکتے ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ موسیقی ہمارے دماغوں پہ بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ ا س لیے جب کوئی موسیقی کا ادارہ اس قسم کی نقصان دہ موسیقی متعارف کرواتا ہے جو ہمارے لیے مناسب نہیں تو وہ ہماری زندگیوں میں ایک واضح منفی تبدیلی لاتا ہے۔
ایک اور تحقیق کے مطابق گذشتہ پچاس دہائیوں میں موسیقی پاپ میوزک روز بروز بد سے بدتر ہوتا چلا گیا۔ اورا سطرح ہمارے ذہنی نظریات کو مختلف سمعی اور بصری ذرائع ابلاغ کے ذریعےغارت کرنے کی کوشش جاری ہے۔
“پاپ موسیقی” ہمیشہ سے سے ایسی نہ تھی۔ محقّقین نے گزشتہ پچاس دہائیوں کے پاپ موسیقی کے گانوں کے الفاظ ، راگ کے اتار چڑھاؤ اور صوتی حجم کی جانچ کی تو ا س نتیجے پہ پہنچے کہ یہ سب گانے گئے وقتوں کے جان ، پال ، جارج اور رنگو نامی گلو کاروں کے وہ گانوں کی بگڑی ہوءی گءی گزری شکل ہیں جو کسی وقت میوزک چارٹ پہ بہترین درجہ بندی حاصل کرتے تھے۔ آج کے گانوں میں لَے کی گہرائی کم ہو گئی ہے اور موسیقی کی ردھم یکسانیت کا شکار ہو چکی ہے۔ الفاظ میں معنویت کا فقدان ہے۔ سارا گانا بے وجہ کے بے ہنگم شور اور غل غپاڑے پہ مشتمل ہوتا ہے۔ ا ن میں معنی خیزی کم ہوتی گئی ہے۔ا ور اب ہمارے گانے تقریباً گونگے ہو رہے ہیں۔ موجودہ صورت میں میوزک کو میوزک کہا کہنا بھی عبث ہے۔ اب تو یہ کچھ اور ہی ہے ۔ اس میں موسیقی کو کم اور بے ہنگم اچھل کود کو زیادہ ابھارا جاتا ہے۔ انسان کے ذہن کو حساس نزاکت دینے کی بجاءے کرختگی کو ابھارا جاتا ہے۔
مثال کے طور پہ نکی مناج کا اگانا ایناکونڈا پہلے کسی کی سمجھ مین نہیں آیا تا آنکہ ا س کی ہوشربا آگ لگانےو الی فلم ا س کےساتھ ریلیز نہیں ہوئی۔ یعنی صرف صوتی نغمگیت کسی کومتاثر نہ کر سکی۔ ٹیڈ اور گیویا جیس میوزک کے نقّادوں نے کہا یہ آج کا وہ کلچر ہے جو ہمارے دماغوں کو گلا سڑا کے رکھ دے گا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ا س کا کوئی انت نظر نہیں آتا۔ گانوں کے ان گرتے ہوئے معیاروں نے ذہنی تباہی پھیلا دی ہے۔ یہ نوعمری میں نوخیز ذہنوں پہ ٹیلی ویژن کمپیوٹرا ور دوسرے ذرائع ابلاغ سے بھی زیادہ مہلک اثرات مرتب کررہے ہیں۔
یہ خطرناک رجحان بڑھتا ہے چلا جار رہا ہے کیونکہ جگہ جگہ اس کو کوریج ملتی ہے، اشتہاروں میں، سی ڈیز میں ہر جگہ یہ موسیقی میسر ہیں۔ اس سے بچنا ناممکن ہے۔ مگر اگر ہمیں اپنے کلچر کی ، اپنے ذہنوں کی اپنی اولادوں کی ضرورت ہے۔ ہم دنیا میں مثبت اذہان دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کو ناپسند کرنا ہو گا تا کہ ان کی پذیراءی کر کےجومعاشی ایندھن ہم ان کمپنیوں کو پہنچا رہے ہیں اس کی ترسیل بند ہو جائے۔ تبھی ہمار ے اصل میوزک کا رجحان دوبار واپس آسکے گا۔
ترجمہ اور خلاصہ، طاہرہ مسعود












