وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی جنہیں حال ہی میں سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے کیس سے بری کیا تھا، اب بھی پاکستان میں ہیں اور قانونی کارروائی پوری ہونے تک ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گی۔
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ’آسیہ بی بی بالکل پاکستان ہی میں ہیں‘۔
انہوں نے آسیہ بی بی کی ملک بدر ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جھوٹا پروپگینڈا‘ قرار دے دیا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 295-سی (توہین مذہب کا قانون) کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین کا حصہ ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اسے تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت توہین مذہب کے قانون کو ہر فورم پر دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ وزیر اعظم عمران خان ہی تھے جنہوں نے سفارتکاری کے ذریعے ہالینڈ میں ہونے والے توہین آمیز مقابلے کو منسوخ کروایا تھا‘۔
انہوں نے بتایا کہ ڈچ حکومت کو تحریک انصاف کی حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے مقابلوں کو منسوخ کرنے کے لیے مجبور کیا تھا، ہر مسلمان کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ان ہی سب باتوں کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت اس بار عید میلادالنبی کو بھی سرکاری سطح پر منایا جارہا ہے۔












