جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ نیب مقدمات میں سب کو پکڑے یا سب کو چھوڑے، کس کو پکڑنا ہے اور کس کو چھوڑنا یہ فیصلہ آخر کون کرتا ہے؟
جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بینک فراڈ ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ میں بینک فراڈ ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب مقدمات میں سب کو پکڑے یا سب کو چھوڑے نیب مقدمات میں دونوں آنکھیں کیوں نہیں کھولتا؟ ایک ماہ کے اندر حتمی ریفرنس دائر کر دیا جائے گا، سپیشل پراسیکیوٹر نیب کی یقین دہانی۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سات لوگوں نے ٹرانزیکشن کی لیکن نیب نے صرف دو کو پکڑا، کس کو پکڑنا ہے اور کس کو چھوڑنا یہ فیصلہ آخر کون کرتا ہے؟ سب کو پکڑا جائے یا سب کو چھوڑ دیں۔
سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب گرفتاری کی پالیسی بنا رہا ہے، ملزمان کے غلط فیصلوں کے باعث مجموعی طور پر 170 ملین روپےکا نقصان ہوا، ملزمان نے غلط پالیسی بنائی اور پھر اس پر بھی عمل نہیں کیا۔
سپیشل پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مختلف بینکوں سے پیسے نکلوا کر اے پلس ریٹنگ بینک میں نہیں رکھوائے۔
عدالت نے کہا کہ اب کیس حتمی ریفرنس دائر ہونے کے بعد ہی سنیں گے، کیس کی مزید سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔











