بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم ورحمت اللہ۔
جب ھم دوسروں کے عقائد ونظریات کی ایسی تشریح کرتے ھیں جو خود ان کی نظر میں درست اور قابل قبول نہیں ھوتی، پھر اپنی خودساختہ تشریح کی بنیاد پر ان کے خلاف فیصلے اورفتوے صادر کرتے ھیں اور طاقت ور ھونے کی صورت میں طاقت کے ذریعے انہیں دبانے یا صفحہ ھستی سے مٹانے کی کوشش کرتے تو ھم انتہاپسندی ، دھشت گردی اور فساد کے مرتکب ھورھے ھوتے ھیں ۔ ۔ لیکن ھم اپنے آپ کو انتہا پسنداوردھشت گردماننے کے لیئے تیار نہیں ھوتے۔ جب یہی رویہ دوسرے ھمارے ساتھ اختیارکرتے ھیں توھم انہیں انتہاپسند، ظالم، دھشت گرد اور فسادی قرار دے کر واویلاہ کرنے لگتے ھیں ۔ ۔ ۔ یہ دھرامعیار اور دوغلا رویہ کسی بھی معاشرےکے لیئے تباہ کن اثرات کا حامل ھوتا ھے ۔ اللہ تعالی ھم سب کو عادلانہ رویہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
محتاج دعا
نیازھمدانی













