بابا گورونانک سے پہلے سکھ مذھب کا کوئی وجود نہیں تھا۔ گورونانک (1469 تا 1539) برصغیر پاک و ہند کی وہ ایسی محترم شخصیت ہیں جن کو سب اپنا کہتے ہیں۔ وہ پاکستانی پنجاب کے علاقے تلونڈی کے ہندو جاٹ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ باپ کا نام کلیاں چند عرف کالو مہتہ تھا جبکہ ماں کا نام ترپتا اور بڑی بہن کا نام نانکی تھا گورو نانک نے سنسکرت پنڈت شاستری تلونڈی سے سیکھی اور عربی فارسی مولوی قطب الدین سے پڑھی، گورونانک مذکورہ تینوں زبانوں کے اعلیٰ پایہ کے شاعر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گورونانک ہندو گھر میں پیدا ہوئے مگر وہ اپنی تبلیغ اور تعلیمات کی رو سے اس حد تک مسلمان تھے کہ ان کے مسلمان دوست احباب ان کی بحیثیت مسلمان تدفین پر بضد تھے۔ گورونانک کے ہندو رشتہ دار انہیں ہندو رسم و رواج کے مطابق جلانا چاہتے تھے جبکہ مسلمان انہیں نو مسلم مجذوب سمجھتے تھے اور ان کی میت کو جلانے کے مخالف تھے۔ القصہ انکی میت جلائی گئی، نہ دفنائی گئی۔ یہ معاملہ تاحال اک مُعمّہ ہے۔
گورونانک مسلمان تھے یا ہندو، اس امر کا فیصلہ مشکل ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ سکھ قوم ہندو ہے نہ مسلمان، یہ ایک علیحدہ جداگانہ تشخص کی عکاس اور غماز ہے۔ سکھ بھارتی آبادی کا ڈھائی فیصد ہیں اور دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ بھارتی پنجاب میں ان کی آبادی 54 سے 56فیصد ہے۔ سکھ تاریخ میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ ایسا فرد فرید پیدا ہوا جس نے ببانگ دھل اعلان کیا کہ سکھ ہندو نہیں، سکھ موحد ہیں اور بت پرست ہندو برھمن کے دشمن ہیں۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کا موقف تھا کہ سکھ مشرک ہندو برھمن کے ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ ہندو برھمن سکھ قوم کے جداگانہ تشخص کے خاتمے کیلئے مختلف سیاسی، سماجی، آئینی اور دھرمی حربے، حیلے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ لہذا سکھ قوم کو مسلمان قوم کی طرح علیحدہ شناخت اور ریاست دی جائے آج کا نوجوان سکھ چاہتا ہے۔ کہ جس طرح 14 اگست1947 ء میں ہندی مسلمانوں نے پاکستان بنایا ہے، بھارتی سکھ بھی اسی طرح دو قومی نظریے کی بنیاد پر خالصتان ریاست کی بنیاد رکھیں۔
گورونانک کو ان کے مسلمان دوست احباب اس لئے مسلمان سمجھتے تھے کہ باباگورونانک سال سے زیادہ مکہ و مدینہ یعنی حرمین شریفین میں رہے۔ حج اور عمرے کئے بعد ازاں تقریباً دس سال بغداد شریف میں مقیم رہے۔ بابا بہلول کے مرید بنے۔ ہندوستان واپسی (مرجعت) کے وقت ان کے مذکورہ بالا مرشد نے انہیں کلمات الٰہی اور کلمہ طیبہ سے منقش چغہ (چولا) عطا کیا۔ جس کی زیارت عامہ چولا دربار کے تہوار کے طور پر آج بھی منائی جاتی ہے۔ بابا نانک کا آخری دور کرتار دربار (نارووال) میں گزرا۔ جہاں انہوں نے اپنے مسکن میں مسجد بھی بنائی۔ بعض متنازع روایات کی رو سے بابا نانک کی دوسری شادی علاقے کی مسلمان رئیس زادی سے ہوئی۔ قصہ مختصر بابا نانک کے مسلمان ہونے کے شواہد کم نہیں سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کے 36 ابواب ہیں30 ابواب من و عن قرآن کے 30 پارے ہیں جبکہ باقی 6 ابواب بابا نانک ، بابا فرید شکر گنج ؒاور دیگر مسلمان روحانی شعرا کا کلام ہے۔ قرآنی احکامات (نص) کی روشنی میں کوئی غیر مسلم حرمین شریفین کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ۔ جو قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔ لہذا بابا نانک کا بحیثیت غیر مسلم حرمین شریفین جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سکھ قوم مسلمان حکمرانوں کے دور میں طاقتور اور باعزت رہی ہے۔ مسلمان اور سکھ قوم کا باہمی محبت اور مودت کا نتیجہ تھا کہ سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد معروف روحانی مجذوب اور بزرگ حضرت میاں میرؒ نے رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ سکھ قوم مسلمانوں کے دور حکومت میں مضبوط رہی اور محفوظ بھی۔ مسلمانوں نے کسی دور میں بھی سکھ قوم کو اسلام کا فرقہ، گروہ یا حصہ قرار دیکر ضم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سکھ ہندو روابط اس کے برعکس ہیں۔ ہندو برھمن نے سکھ قوم کو ہندو بنائے رکھنے کی سازش ہر دم جاری رکھی۔ مغل دور میں ہندو برھمن چندو لال وغیرہ کے لبادے میں مسلم سکھ روابط میں ناراضی، بدگمانی اور بداعتمادی کیلئے ہمہ وقت ساز باز کرتے رہے۔ انگریز دور میں ہندو برھمن نے سکھوں کو ہندو فرقہ اور گروہ بنا کر ختم کرنے کی بھرپور سعی کی حتیٰ کہ گوردوارہ ننکانہ صاحب کے متولی بابا نانک کے ہندو رشتہ دار تھے جن کے خلاف جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی طرح سکھ نوجوانوں نے بغاوت کی، سینکڑوں سکھ مارے گئے مگر گوردوارہ ننکانہ صاحب کو ہندو متولی گھرانے سے نجات دلا دی۔ 1925ء میں انگریز سرکار نے سکھ گوردوارہ ایکٹ جاری کیا۔ جس کی رو سے سکھوں کا ہندوئوں سے جداگانہ تشخص آئینی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ گو مذکورہ گوردوارہ ایکٹ 1925ء کے بعد بھی ہندو برھمن کی سکھوں کے خلاف سازش جاری رہی اس سازش کا رخ مسلمان اور پاکستان تھا۔ یہ سازش ماسٹر تارا سنگھ اور کانگرس قیادت کے سرکردگی میں پروان چڑھی اور قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کے قتل عام پر منتج ہوئی۔ یاد رہے کہ ماسٹر تارا سنگھ کی ماں ہندو برھمن تھی۔ قیام پاکستان کے وقت کرم داس گاندھی نے سکھ قوم کو یقین دھانی کرائی کہ آزاد بھارت میں سکھ قوم کی مذہبی آزادی اور آئینی جداگانہ تشخص بحال رکھا جائے گا۔ گاندھی نے مزید کہا کہ اگر بھارتی سرکار سکھوں کو مذکورہ آئینی تحفظ اور مذہبی آزادی دینے سے انحراف یا لیت و لعل کرے تو سکھ قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے شمشیر بکف ہو جائیں۔ بھارتی برھمن ہندو سرکار نے پہلی بار 1950ء اور دوسری بار 1966ء میں سکھوں کو آئینی طور پر ہندو مت میں ضم کرنے کی کوشش کی جو باعزم سکھ عوام اور قیادت نے ناکام بنائی۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے گاندھی کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں بھارتی ہندو برھمن سرکار کے خلاف اور آزاد سکھ ریاست خالصتان کے حق میں ہتھیار اٹھائے۔ گو جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت کانگرسی وزیراعظم اندرا گاندھی کے آپریشن بلیو سٹار1984ء میں مارے گئے مگر ان کا جشن اور تحریک آج بھی کونسل آف خالصتان اور دیگر سکھ تنظیموں کے نام سے بھارت، امریکہ، کینیڈا، یورپ وغیرہ میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں بابا نانک اور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی برسی بصد احترام اور جوش و خروش سے بناتی ہیں گو بھارتی برھمن سرکار نے سکھ قوم کو ہندو مت میں مدغم کرنے کی پالیسی تاحال ترک نہیں کی اور2008ء میں ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک بنج تشکیل دیا ہے جو یہ طے کرے گا کہ سکھ کون ہیں؟ ان کی تعریف اور تاریخ کیا ہے؟ کونسل آف خالصتان کے چیئرمین (سربراہ) ڈاکٹر گورمیت سنگھ اولکھ کا کہنا ہے کہ سکھ گوردوارہ ایکٹ 1925ء میں سکھ قوم کی تعریف اور تاریخ واضح الفاظ میں درج ہے اور موجودہ ہائیکورٹ ججز کے بنچ کی تشکیل بھارتی ہندو سرکار کی بدنیتی کی نشاندھی کرتی ہے۔ اس امر کا فیصلہ وقت کرے گا کہ آیا سکھ اپنے عزم ارادہ اور استقامت سے منزل پا لیتے ہیں یا راہ میں مارے جاتے ہیں یعنی کیا سکھ اپنے جداگانہ تشخص کو بحال رکھ سکیں گے یا ہندو مت کا حصہ بن کر ختم ہو جائیں گے۔ فیصلہ سکھ قوم کا عزم اور وقت کرے گا۔













