سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے ہاتھوں قتل ہونے والے منیجر کے حوالے سے فیکٹری مالک کا موقف سامنے آگیا، انہوں نے کہا کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔
فیکٹری مالک نے کہا کہ جب اس معاملے کی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھےچڑھ گیا تھا۔
فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ پولیس کو تقریباً صبح پونے 11 بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی۔
فیکٹری مالک نے مزید کہا کہ پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔
واضح رہے کہ سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی تھی۔
مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ غیرملکی منیجر کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔
عثمان بزدار نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔












