طارق بٹ ۔۔ زبان سنبھال کے

0
63

کہا جاتا ہے کہ زبان انسانی جسم کا وہ عضو ہے جسے ہم اگر سنبھال کے استعمال کریں تو ہمارا ککھ بھی نہیں لگتا اور ہم لکھ کا بندہ خرید لیتے ہیں ۔ ہمارا بولا ہوا میٹھا بول سننے والے کا دل موہ لیتا ہے۔ جدید سائینس بھی بتاتی ہے کہ اگر ہم نرم اور دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں تو ہمارے جسم کی صرف ایک رگ متاثر ہوتی ہے جبکہ زبان کی تلخی اور چیخنے چلانے سے ہمارے اپنے ہی جسم کی تقریباً اکیاسی رگیں متاثر ہوتی ہیں اس طرح ہم جو کسی اور پر غصے ہو رہے ہوتے ہیں اور اپنے دل کی بڑھاس نکال رہے ہوتے ہیں دراصل اپنے جسم اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ تمام عمل دیکھی بھالی مکھی نگلنے کے مترادف ہے جسے ہم آئے روز دھرائے چلے جا رہے ہیں ۔

لد گیا وہ دور جب ہمارے گردونوح میں نستعلیق لوگ بسا کرتے تھے وہ لوگ جو پہلے آپ ، پہلے آپ کے چکر میں کئی بار ٹرین میں سوار ہونے سے رہ جاتے مگر ادب آداب نہ چھوڑتے کہ انہوں نے بزرگوں سے سیکھے ہوئے آداب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ اس دور میں آپس کے چھوٹے موٹے اختلافات آپس میں ہی بیٹھ کر ختم کر لئے جاتے کورٹ کچہری تک شدید نوعیت کے اختلافات ہی جاتے جرائم کی شرع بھی کم تھی اور کچہریوں کے مناظر بھی جلسہ گاہوں کی طرح دکھائی نہ دیتے تھے۔

وقت کو پر لگے اور حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ آپ سے تم اور تم سے تو ہونے لگی ۔ صرف تو ہی نہیں بلکہ تو تکار ہونے لگی ۔ وہ رہبر اور رہنما جنہوں نے ہماری رہبری اور رہنمائی فرمانی تھی خود تو تو اور اوئے اوئے کر کے خطاب فرمانے لگے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے پیروکاروں نے ادب آداب کا وہ حشر کیا کہ اب ادب آداب کو کہیں جائے پناہ نہیں مل رہی۔ گزشتہ ادوار کے فیصل رضا عابدی ، نبیل گبول ، عابد شیر علی، مشاہداللہ خان ، دانیال عزیز ، نہال ہاشمی ، رانا ثناء الله اور طلال چودھری موجودہ دور کے فواد چودھری ، فیاض الحسن چوہان ،مراد سعید اور فیصل واوڈا کے سامنے پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ بازار کی زبان دربار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے عوام کے کروڑوں ووٹ حاصل کر کےبہت سارے پڑھے لکھے جاہل اس مقدس ایوان کا حصہ بن چکے جس کے ماتھے پر چمکتا کلمہ طیب اس ایوان کی افادیت اور اہمیت اجاگر کرتا رہتا تھا مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس ایوان کے اندر بازار کی زبان کاچلن اتنا عام ہو گیا ہے کہ اس سے اٹھنے والے تعفن نے ہمارے اسلاف کی روحوں کو بھی بےچین کر دیا نئی نسل کا تو ذکر ہی کیا کہ ان سے بڑوں کی عزت و احترام کی توقع رکھنا اب عبث ہے۔ وہ بےچارے تو جو آئے روز دیکھیں اور سنیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔

اس مقدس ایوان میں جہاں اب بے چین روحوں کا بسیرا ہے گزشتہ تقریباً تین ماہ میں سوائے مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد پاس کرنے کے ایک ٹکے کا کام نہیں ہوا حالانکہ ملک کی ابتر معاشی صورت حال ، سیکورٹی کے دگرگوں مسائل ، روزافزوں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بےروزگاری اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندگان ان مسائل کے حل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کو ان مسائل سے نکالنے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کریں مگر وہاں چور ڈاکو ، لوٹ کے کھا گئے، کسی کو این آر او نہیں ملے گا متذکرہ تین موضوعات کے علاوہ کسی موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ سینٹر رضا ربانی ، سینٹر راجہ محمد ظفر الحق اور سینٹر شبلی فراز جیسے سنجیدہ لوگ نئی ایجاد کی جانے والی پارلیمانی روایات پر سر جھکائے شرمندہ شرمندہ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔اس نئے چلن پر گزشتہ دنوں سینٹر رضا ربانی نے خوب دل کی بڑھاس نکالی مگر نئے نئے پر نکالنے والوں کی بے ڈھنگی پرواز میں تھکان کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

قوائد و ضوابط اور پارلیمانی روایات سے نا آشنا گروپ تاحال اپنی کارروائیوں سے اپنے ہی منتخب کردہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے اگر پارلیمان میں ان کی لمبی اور بےقابو زبان کو قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان جیسے کردار الیکٹرانک میڈیا پر آ نمودار ہوتے ہیں اور وہاں کالے کیمروں کے سامنے اپنی گز گز بھر لمبی کالی زبان سے جو گُل افشانی فرماتے ہیں اس سے باقیوں کے پردے تو کیا چاک ہونے ہیں خود ان محترم صاحبان کی خوشنما صورتوں کے پیچھے چھپی بدصورتی مزید نمایاں ہو کر قوم کے سامنے آتی جا رہی ہے۔ زیادہ قابل افسوس پہلو تو یہ ہے کہ اپنے مخالفین پر روزانہ ایک جیسے الزامات لگاتے ہوئے یہ دونوں دوست اب تک اکتائے بھی نہیں محسوس یوں ہوتا ہے جیسے میوزک ڈسک پر دھری سوئی ایک جگہ پر اٹک گئی ہے اور باربار وہی بول سماعتوں سے ٹکرا رہے ہیں اب آپ ہی بتائیے کہ کسی قسط وار ڈرامے کی ایک ہی قسط کتنی بار دیکھی اور برداشت کی جا سکتی ہے ۔ بجا کہ کسی کے بولنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے مگر اظہار کرنے والے پر بھی لازم ہے کہ وہ زبان سنبھال کے بات کرے۔۔۔!

SHARE

LEAVE A REPLY