وقت زندگی کے غموں پر دھیرے دھیرے مرہم کا کام کرتا ہے اور لگتا ہے کہ زخم مندمل ہو گئے مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کہ بھرتے ہی نہیں ایسا ہی ایک غم میرے جواں سال بھائی کی موت کا تھا جو دو چھوٹےسے بچے چھوڑ کر عین عالم شباب میں داغ مفارقت دے کر چلا گیا
محمد فہد اس وقت 5 سال کا تھا اور نورالعین صرف 1 سال کی یہ صدمہ ہم سب کے کتنا اندوہناک اور روح فرسا تھا اس کی شدت اس کی شدت وغم کی گہرائی وگیرای کے الفاظ نہیں سب سے زیادہ غم بھابھی اورامی کو تھا جن کا جمیل عرف جگنو (جو اسم بامسمٰی تھے)جو واقعی جمیل وشکیل تھے مردانہ حسن و جمال کا پیکر نیلی آنکھیں چمکتی ہوئی، روشن پیشانی، سنہری مونچھیں، اور رنگت ایسی کھلتی ہوئی کہ بات کرتے تو کااور گال سرخ ہو جاتےہنستے ہوئے ڈمپل پڑتے تو اور حسین لگتے اللہ سبحان و تعالٰی نے ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی حسن سے بھی نوازاتھا اس لئے سب کی آنکھوں کا تارا ہم تین بہنوں کے بعد منتوں مرادوں سے آنے والا یہ شہزادہ جب راہ عدم کا مسافر ہوا تو سب کو غمگین (خاص طور پر بھابھی اور امی)کو آنسو دےگیا کہ مرتے دم تک امی کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر نام رہا
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر، بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارا شام بن کے آیا، برنگ خواب سحر گیا وہ

تین بیٹیوںکے بعد اس کے آنے سے خوشیوں کے رنگ اور اجالے پھیل گئے تو یوں بھری بہار اور عالم شباب میں چلے جانے سے غم کے اندھیرے چھا گئے اور آنسوؤں کی وہ گھٹا کہ آج اتنے سالوں بعد بھی اس کا نام لیتے ہی برس پڑتی ہے ماں جب زندہ رہیں بقول ان کے کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ یاد کر کے روی نہ ہو اب دادا دادی کی محبتوں کا مرکز و محور اسکے بچے فہد اور نورالعین تھے جو سارے گھر کی آنکھوں کے تارے تھے
وقت کا کیا ہےگزرتا چلا جاتا ہے پھر جب فہد بنک میں اعلی عہدے پر فائز ہوا تو امی خوشی سے نہال ہو گئیں ان کی خواہش تھی کہ جلد از جلد سہرا دیکھیں امی کو کانچ کی چوڑیاں اور مہندی بہت پسند تھی مگر اس حادثے کے بعد عمر بھر پھر مہندی نہیں لگائی اکثر کہا کرتیں فہد کی شادی ہر مہندی بھی لگاونگی اورچوڑیاں بھی پہنونگی اپنا سونے کا لا کٹ بھابھی کو دیا کہ سنبھال کر رکھ لے اگر زندہ رہی تو دلہن کو خود پہناونگی اگر نہ رہی تو نصرت پہنادےگی شاید اندازہ تھا کہ وہ جس خوشی کی منتظر ہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گی جنوری کی صبح وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ان کے جانے کے بعد انکی تمام دعائیں رنگ لائیں جو وہ ہسپتال وہ بستر پر مانگا کرتیں نور ڈاکٹر بن گئ اور 25 دسمبر کو وہ بھی پیا دیس سدھار جاے گی آج فہد کا نکاح ہے وہ ساعت سعید جس کا ارمان لئے وہ چلی گئیں دیکھیں امی میں نے مہندی لگائی ہے کتنے چہرے کتنی یادیں کتنی باتیں میرے آس پاس ہیں یادوں کے حصار میں میرا گلا رندھ گیا میوزک ہے شور ہے خوشی کا سماں ہے مگر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ خوشیوں کے پس منظر میں غم ودکھ کی داستان چھپی ہوتی ہے خوشی و غم کا یہ کیسا سمبندھ ہے
نکاح کی رسم ادا ہوئی اورفہد کو اندر لے کر آئے تو اس کے ساتھ ساتھ تم تھے میرے جگنو اپنی مخصوص چمک دمک کے ساتھ تمہاری نیلی آنکھیں خوشی سے چمکتی ہوئی، روشن پیشانی،حسب معمول سرخ گال اور گالوں میں ڈمپل پڑ تے ہوئے کسی نے کہا دولہا میاں کا باپ بہت خوب صورت ہے تو کسی کا کہنا تھا کہ بڑا بھائی لگ رہا ہے میں اپنے بازو وا کیے بےاختیارآگے بڑھی سامنے میرا چھوٹا بھائی تھا وہ بھی ایسی ہی کیفیت میں تھا شاید اس نے بھنگڑے کے لیے ہاتھ اٹھا دیے
یہ بھنگڑا تھا یا رقص درویش
اس لمحے کی کیفیت بیان کرنے سے قلم عاجز ہے اف اتنا جذباتی لمحہ احاطہ تحریر میں نہیں آسکتا بس سٹیج سےنیچے اتر کر خوب روئی ایک طرف جا کر۔
خوشی کا رنگ ہو کہ غم کا موسم،نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY