میری سوچ گھٹنوں کے بل بھی مشکل سے چل پاتی ہے ، لیکن میں بول رہا ہوں ، مجھے ابھی یہ سیکھنا چاہیے کہ سوچنا کیسے ہے ، لیکن میں یہ سِکھانے کی ضد میں ہوں کہ بولنا کیسے ہے ۔ ۔ ۔
اس نابالغ روِش کے ساتھ ، داغدار کردار اور جذباتیت کے جام میں وراثتی عقیدے کھا پی کر میں نظریات کی دنیا میں اُترتا ہوں اور مزید اختلاف ، الجھن ، نفرت اور دوریوں کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ باطل اور غلط طرف کی کمر مضبوط کرتا رہتا ہوں ۔ ۔ ۔
جسٹن سنو
انتخاب۔فائزہ عباس













