شاعری میں آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ نفیس ھمدانی

0
3651

مشتاق احمد یوسفی نے اپنی ایک تحریر میں دو شعروں کے مصروں کو یکجا کر کے مزاح کا نیا رنگ تخلیق کیا۔ مثال کے طور پر

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

اسی طرح کچھ اور اشعار درج ذیل ہیں جن کے مصرعے مختلف شعرا کے کلام سے لئے گئے ہیں

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
اقبال / فیض

وہ کہتی ھے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے…!!
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی….
آتش/ جون

جَھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جَھپٹنا
ساری مستی شراب کی سی ہے
اقبال/ میر

“جان تم پر نثار کرتا ہوں”
“جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا”
غالب/ مومن

اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
شرم تم کو مگر نہیں آتی
غالب /جون

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد
علامہ اقبال / فرحت عباس

موت آۓ تو دن پھریں غالب
قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا
غالب/ ساغر

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
جانے کس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

پروین / ساغر

انتخاب۔ نفیس ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY