حُسین شناسی کا سفر۔15۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
649

قسط پندرہویں

یا ایہالناس
روح کربلا تم کیا جانو
واقعہ کربلا کی روح و حقیقت یہ ہے
کہ ۔۔
امام حسین علیہ السلام
ایک لشکر یا انسانوں کی ایک گروہ کے مد مقابل نہیں تھے
بلکہ آپ انحراف و ظلمات کی ایک دنیا کے مد مقابل کھڑے تھے
سالار شہیدان
اُس وقت
کج روی، ظلمت اور ظلم کی ایک پوری دنیا کے سامنے دیوار تھے
اور یہ پوری دنیا
تمام مادی اسباب اور وسائل کی مالک تھی
گویا مال و دولت ، طاقت ، شعر و کتاب
جھوٹے راوی اور درباری ملا اور مورخ
یعنی جہان ظلم و ظلمت اور انحراف ان کی وحشت کا سبب تھا
ایک معمولی انسان اور سالار ہوتے تو
اُس دنیا ئے ظلمت و ظلم کی ظاہری حشمت
شان وشوکت اور رعب و دبدبہ کو دیکھ کر لرز اٹھتے
لیکن ۔۔۔
وہ سرور شہیداں تھے
آپ کے قلب اور قدم
اُس جہان شر کے مقابلے میں ہرگز نہیں لرزے
آپ میں کسی بھی قسم کا ضعف و کمزوری نہیں آئی
آپ نے
اپنی راہ کے حق اور مدمقابل گروہ کے باطل ہونے پر
کوئی شک اور تردد نہیں کیا
آپ نے انحرافات اور ظلم و زیادتی کو سمجھا
اور ۔۔۔
آپ فوراً میدان میں اتر آئے
عظمت حسین ہے یہ کہ خالصتاً خدا ہی کیلئے قیام کیا
اور ثابت کر دیا
جس طرح
پیغمبر اکرم نے تن ِ تنہا پوری ایک دنیا سے مقابلہ کیا تھا
امام حسین علیہ السلام نے بھی
واقعہ کربلا میں جہانِ با طل کے مد مقابل تھے
جس طرح حضرت رسول اکرم بھی ہرگز نہیں گھبرائے تھے
راہ حق میں ثابت قدم رہے اور منزل کی جانب پیش قدمی کرتے رہے
اسی طرح
سید الشہدا بھی نہیں گھبرائے، ثابت قدم رہے
اور دشمن کے مقابل آکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں
تحریک نبوی
اور ۔۔۔ تحریک حسینی کا محور و مرکز ایک ہی ہے
دونوں ایک ہی جہت کی طرف گامزن تھے
یہ وہ مقام ہے
جہاں’’حُسَین و مِنِّی وَاَنَا مِنَ الحُسَینِ ‘‘ کا معنی سمجھ میں آتا ہے
امام حسین علیہ السلام نے دو محرم 61 ھ بروزجمعرات
کربلا میں ورود کیا
واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے
جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا
زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا
جس سے آپ کے چہرہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے
یہ دیکھ کر
اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں
صاحب مخزن البکا میں لکھتے ہیں
کربلا میں ورود کے فوراَ بعد
جنابِ ام کلثوم نے امام حسین (ع) سے عرض کی
“بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارادل دہل رہا ہے”
امام حسین (ع) نے فرمایا
“بس یہ وہی مقام ہے
جہاں بابا جان نے صفین کے سفر میں خواب دیکھا تھا
یعنی یہ وہ جگہ ہے ۔۔ جہاں ہمارا خون بہے گا
کتاب مائتین میں لکھا ہے
” اسی دن ایک صحابی نے
ایک بیری کے درخت سے
مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہو گیا “

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY