ہر سال 10 دسمبرکو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے

0
853

استحصال ، اقربا پروری، میرٹ کی ناقدری اور پامالی حدوں کو چھورہی ہے، شاید اس لیے بھی کہ انسانی حقوق، حق، انصاف اور قانون کی آوازیں دھری نہیں رہ جاتیں۔ بے اماں و بیکراں سناٹوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ حال میں جیتا اور حال سے زیادہ سے زیادہ نچوڑنا چاہتا ہے۔ آخرت کی نہ اسے فکر لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی دنیاوی گورکھ دھندے اسے فرصت لینے دیتے ہیں۔ آفاقی سچائی ہے ملکوں اور قوموں کی ترقی، ان کی بقا اور وہاں بسنے والوں کے حقوق کی پاسداری اہل، با کردار، بصیرت افروز اور سچی قیادت کی مرہون منت ہوتی ہے اور صرف انہی خوبیوں والی قیادت قوم کو متحرک کرتی اور ملک کا مقدر بدلتی ہے۔

اہلیت، بصیرت، وژن اور کردار سے عاری قیادت ملک میں کوئی بڑی تبدیلی لاسکتی ہے اور نہ قوم کی صلاحیتوں کو ابھارسکتی ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری اور اس کا تحفظ اس صورت ممکن ہوسکتا ہے جب ملک میں آئین اور قانون کے لیے یکساں ہو کسی کو ووٹ کی دیوار اور وردی کے حصار کے پیچھے چھپنے کی سہولت میسر نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی جس معاشرے میں عقل وشعورگھنگھرو باندھ لیں وہاں نفس بھی ناچتا ہے اور انسانیت بھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY