انسان کی ایک فطرت یعنی قانون ہے

0
2755

انسانی ہستی میں درک کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ ۔ ۔ سادہ معنوں میں درک کرنا یعنی محسوس کر لینا یا جان جانا ۔ ۔ ۔
خصوصاٙ جب انسان کی ہستی کے اندر ہی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو انسان کی عقل کے ذریعے یہ خبر قلب تک پہنچائی جاتی ہے جو ردِ عمل کیلیے روح کو تیار کرتا ہے ۔ ۔ ۔ کیونکہ ارادہ روح کی آمادگی کا نام ہے ۔ ۔ ۔
پھر انسان کی ایک فطرت یعنی قانون ہے ۔ ۔ ۔ جو خدا کی طرف سے پری انسٹالڈ ہے ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کی طرف سے تخلیق کے ساتھ ہی انسان کے اندر موجود ہیں ۔ ۔ ۔ جسے کسی صورت بدلا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ یعنی انسان فطرتاَ محبت کرنے والا ہے ، تو انسان کی یہ فطرت اگرچے بعض اوقات دب جائے لیکن ختم نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔
اس فطرت یا قانون کا ایک حصہ وہ ہے جنہیں ہم اقدار ، ہیومن ویلیوز یا انسان کی قیمت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مثلاَ عزتِ نفس ، شرافت ، شجاعت ، عدل ، صبر ، غیرت ، حیا ، وغیرہ ۔ ۔ ۔
تو بنیادی طور پر غیرت ، انسانی ہستی کے اُس ردِ عمل کا نام ہے ، جو تب ظاہر ہوتا ہے جب انسان کے اقدار پامال کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ۔ ۔
لیکن یہاں اک بات کی وضاحت کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ ضروری نہیں کہ انسان کیلیے جو قانون مقرر ہے وہ اس پر کاربند بھی رہے ۔ ۔ ۔ نہیں بلکہ وہ اس معاملے میں خود مختار ہے ۔ ۔ ۔ اکثریت فطرت کو چھوڑ کر مزاج و طبیعت اور اپنی ہی ہستی کے اندر موجود دوسری قوتوں کے پیروکار بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مثلاَ انسان عقل رکھتا ہے تو جہل کے انتخاب کا اختیار بھی رکھتا ہے ، انسان عادل ہے تو ظلم بھی کر سکتا ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ردِ عمل فطری ہو ۔ ۔ ۔ اس پر بہت سی دوسری قوتوں کا قبضہ بھی ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ یعنی فطری ردِ عمل صبر ہو سکتا ہے ، عدل ہو سکتا ہے ، حیا ہو سکتی ہے ، عاقلانہ اقدام ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اگر فطرت کے خلاف رد عمل ہو تو وہ ظلم ، بے انصافی ، بے غیرتی ، بزدلی ، اور جہالت بھی ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔
اسی لیے اسلام کو دینِ فطرت بنا کے بھیجا گیا تاکہ یہ انسان کی اصل فطرت کی حفاظت کر سکے اور بیرونی اور اندرونی ہوس پسند و شر پسند قوتوں سے انسان کو محفوظ رکھ سکے ۔ ۔ ۔
تو اس لیے غیرت کے نام پر انجام دیا گیا ہر ردِ عمل اصل میں

غیرت نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔
جسٹن سنو۔ ۔ ۔

SHARE

LEAVE A REPLY