رب لعنت کرے ہر ظالم اور جھوٹے پر. فائزہ عباس

0
1079

معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے مولویوں کی پکڑ کرنے والا یے کوئی….؟

کوئی ہے جو بچا سکے معصوم بچوں کو بربادی سے…؟

کوئی ہے جو انکے ہاتھ کاٹے… انکو الٹا لٹکائے….؟

کوئی ہے جو ان ماں باپ کو عقل دے کے ان بربادی کے گڑھوں میں معصوم بچوں کو مت جھونکیں…؟

کیوں پیدا کرتے ہیں اولاد کو اپ جب بعد میں انکی پرورش کی زمہ داری نہیں نبھا سکتے اور پھر حیواںوں کے ہاتھوں میں دیکر سکون سے بیٹھ جاتے ہیں…

کہ ایسے مدرسوں میں پڑھنے والے معصوم بچوں کی عزت نفس… انکی عزت انکی زندگی اخلاقیات اور زندگی کا نظریہ برباد ہو کر رہ جاتا ہے پہلے خود وہ حیوانییت کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور ہھر یا تو خود حیوان بن جاتے ہیں یا ہھر زہنی مریض کہ جسکا تدارک بھی کرنے والا کوئی نہین ہوتا…

انکی جزباتی، نفسیاتی،، زہنی حالت کن کن ازیتووں کا سامنا کرتی ہے کبھی سوچا ہے ان ماں باپ، محلے دار اور مدارس کے انتظامیہ نے…

کن کے یاتھ میں ہے ان مدارس کی باگ دوڑ کون ہیں جو ان حیوانوں کو ییاں جمع کرتے ہیں جو بعد میں فخریہ بیان تک دیتے ہین کہ شیطان اگیا تھا….اور محض خطا سرزد ہو گئ یعنی جب یہ خود ارتکاب کریں تو خطا یوتی ہے…

اور کوئی اور کرے تو گناہ کبیرہ… جسکی سزا سب جانتے ہیں…. ایسے حیوانوں کو کیوں الٹا نہیں لٹکایا جاتا کیوں بچوں کو ان مدارس کی وحشتوں سے محفوظ رکھنے کا طریقہ کار نہیں…

کیوں حکومت اا سے آنکھیں چرائے ہے کہ کہیں مدارس میں غنڈے اور داعشی پالے جا رہے ہیں تو کہیں شہوت پرستوں کے لیے آسان ھدف کے جس بچے کے ساتھ جو چاہییں کرے وہ معصوم تو خوف اور دہشت سے یا غربت و وحشت کے سائے میں نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ ہیچھے جا سکتا ہے بلکہ اس سب کا شکار ہو ہو کر ایک دن خود شکاری اور حیوان بن جاتا ہے….

آخر کون ہے زمہ دار؟
وہ ماں باپ جو پیدا تو کر لیتے ہیں پھر رلنے کو گلیوں میں چھوڑ دیتے ہیں اور جب فیملی پلاننگ کی بات کرو تو خلاف شریعت خلاف دین بات بن جاتی ہے…

تو معصوم جسے پیدا کیا ہے اسکی زہنی، فکری ، جسمانی، عملی، معاشرتی حفاظت و تربیت کس نے کرنی ہے اگر تم نہیں کر سکتے تو نہ پیدا کرو اور اگر ہیدا کیا ہے تو اپنی زمہ داری سے بھاگنے کے لیے ان مدرسوں کی دلدل میں مت جھونکو کیا یہ خلاف عقل، خلاف شریعت، خلاف دین نہیں…

کہ معصوم بچے خوف و ہراس کا شکار ہوں، بدکاری پہ مجبور کیے جائیں؟ …

انکی معصومیت تار تار کر کے انکو گناہوں کی گھاٹی میں جھونکنا کیا گناہان کبیرہ میں نہیں آتا…؟

اگر یہ مولوی مھلے اور ادارے کے اپنی ہوس کنٹرول نہیں کر سکتے تو انکا کوئی علاج ہے نہیں… کوئی ہے ھو ان کو انکی اصل منزل دکھایے انکو جہنم رسید کرے..

ان پر نگاہ کرے جو بربادی کی وہ پناہ گاہیں ہیں کے جہاں سے یا تو بد جردار ہیدا ہوتے ہیں یا پھر داعشی یا ہھر شدت پسند و بیمار زہن…

یہ تو معصوم بچوں کو حیوان بنانے کے کارخانے ہیں جنکا ایندھن یہ غریب، مجبور بے بس بچے کہ جن کے متعلق بات کرو تو سارا زمانہ قتل کرنے آپجے در پہ آکھڑا ہوتا ہے کہ آپ مدارس کے دشمن ہیں جسکی وجہ ان مدارس کے مسئولین کے وہ حیوانی، سفاکانہ درندہ صفت مفادات ہیں جسکی لپیٹ میں کبھی بھی کیسے بھی کوئی بھی آسکتا ہے….

دین کا لیبل لگانے سے دیندار اور دین کا پیشوا نہیں بن جاتا کوئی… ہر اہل بصیرت جانتا ہے کہ جب مسجد ضرار بنتی ہے تو اللہ کا نبی اسکو ہٹوا دیا کرتا ہے سو ایسے تمام مدرسوں کو بند کرینا چاہییے جہاں سے ظلم و بر بریت کی وہ داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ جو انہیں کی چاردیواری میں مدفون ہو جاتی ہیں جن پر لب کشائی گویا اپنے قتل کو دعوت ہے… جن کے ظلم کی رونمائی گویا اہنے خلاف محاز اور اژدھووں کے منہ میں ہاتھ ڈالنا ہے کہ جو معاشرے اور حق بات کہنے والے کو نگل لیتے ہیں اور کوئی انکے خلاف بولنے کی ہمت، جرات نہیں کرتا کیونکہ انکی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں….

لعنت ہے ایسے مردہ ضمیر ماں باپ، محلے داروں، مولویوں، اور انکی ہشت پناہی کرنے والے ہر وسیلے پر جو چایے حکومتی عہدیدار ہوں یا بے حس مردہ قانونی ادارے جن کے ماتھے پہ جوں تک نہیں رینگتی کہ جو اس ظلم سے مستقبل کو داو پر لگا کر اس سے خود کو مبرا سمجھتے ہیں…

بیشتر مولوی معاشرے کے ہوس پرست اور شیوت ہرست ہیں جنکا کام تو قران سکھانا تھا پر انہوں نے اسے اپنی شہوت رانی کی انڈسٹری میں بدل دیا لعنت ہو ان پر اور خدا کا قہر نازل ہو ایسے تمام مولوی نما بھیڑیوں اور وحشی درندوں پر جو اہنی درندگی کو دین کے بھیس میں چھپا کر ہر ایک کے منہ پر چپ کا طمانچہ مارتے ہیں اور مردہ معاشری چپ چاپ تماشائی موت سے خوفزدہ….

مفادات کی لت میں ڈوبا….

ایسے معاشرے کو مردہ اور تعفن زدہ مغلوب ترین معاشرہ کہتے ہیں کے جسکی دلدل میں دھنس کر ہر شے برباد ہو جاتی وہ دلدل اسے کھا جاتی ہے یا وہ دیمک اسے چاٹ لیتی ہے اس معاشرے کو یوس اور شہوت کی دیمک کھا چکی ہے…

انا للہ وانا الیہ راجعون…

رب لعنت کرے ہر ظالم اور جھوٹے پر….

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY