علاج دنداں اخراج دنداں، سلیم مرزا

0
1300

دو مہینے سے عقل داڑھ یوں ھل رھی تھی جیسے “صندلی صندلی “والے گانے پہ نیرو باجوہ ھلتی ھے ۔ ان دو مہینوں میں ایک سے بڑھ کر ایک انٹی بائیوٹک منتیں کیں ۔اتنا “اوڑ توڑ “کیا نہ درد ھی رکا اور نہ ھی نیرو باجوہ کا ڈانس،
دواؤں سے منہ کا ذائقہ اتنا خراب ھوگیا کہ ایموکسل نہ ھو تو کھانے میں نمک کم لگنے لگتا،
بروفن سلاد کی جگہ لے چکی تھی ۔
انسیڈ کے بنا شام کی چائے ادھوری لگنے لگی ۔
میڈیکل اسٹور والا جو سالہا سال سے مجھے دیکھتے ھی پیکٹ، پیکٹ میں ڈال کر موٹر سائکل پہ بیٹھے بیٹھےپکڑا دیا کرتا تھا اب سرعام کاؤنٹر پہ کھڑا کرکے دوائیں دینے لگا ۔
پیٹ میں ھر وقت ایک باؤ گولہ سا بنا رھتا جو پہلے صرف فواد چوھدری کو سن کر بنتا تھا ۔مسلسل بائیں طرف کھاتے کھاتے میرا منہ لبرل سے لیفٹسٹوں جیسا ھوگیا تھا ۔دائیں آنکھ تقریبا بند رھتی جس سے ایک مشتبہ سے اشارے کا گماں ھوتا ۔ایک رات ٹی وی دیکھتے بیگم کی سمت دیکھا تو بولیں “حیا کرو، بچے جوان ھو گئے ھیں ”
اب داڑھ درد میں حیا کا کیا کام؟
رانا لیاقت سیانا بندہ ھے ۔اس سے مشورہ کیا تو کہنے لگے
” نکلوا دو،اگر کوئی خاتون جانے کاکہے تو اسے مت روکو، وہ اس سے پہلے ھی جا چکی ھوتی ھے ۔
یہ داڑھ ھے جاکر رھے گی ”
دانت ھوتا تو کیا رک جاتا؟ میں نے صرف سوچا ، پوچھا نہیں سیاسی بندہ ھے دوچار دانت ھلا کر تجربہ بھی کر سکتا تھا،
مجھے اپنی داڑھ سے محبت تھی، محبت شائد درد کا ھی دوسرا نام ھے، داڑھ کا درد اب سر کو بھی لپیٹنے لگا تھا، چنانچہ داڑھ نکلوانے ڈینٹسٹ کے پاس جاپہنچا
وہ اپنے عارف علوی سے بھی زیادہ مصروف تھا، ایک مریض کے منہ میں گھسا نجانے کون سی کرپشن ڈھونڈھ رھا تھا، تین مریض ایک بنچ پہ جے آئی ٹی بنائے بیٹھے تھے، میں تھوڑا ھٹ کر حزب اختلاف کے بنچ پہ جا بیٹھا، دو گھنٹے انتظار، تین مریضوں کی ڈرلنگ، فلنگ اور کاؤنٹر کلنگ لائیو دیکھنے کے بعد مجھے بھی اسی کرسی نما بیڈ پہ لٹایا گیا جس کی وضع قطع کسی بھی شاعرانہ کام کیلئے موزوں نہیں تھی ۔
ڈاکٹر نے داڑھ کے تین اطراف انجکشن لگایا تاکہ باقی داڑھوں کو پتہ نہ چلے اور نہ ھی مسوڑھا رولا ڈالے ۔
میرا منہ گالی دینے والے اسٹائل میں کھلا تھا
تین منٹ بعد ایک عجیب سا اوزا جو پتہ نہیں پلاس تھا یا جمور اس سے میری داڑھ کو ٹھوکا، بجایا، گھمایا اور نکال دی،
اب دل کی طرح دانتوں میں بھی خلا ھے ۔درد دونوں جگہ نہیں ۔
بس ایک ھی سوچ ھے کہ وہ جمور تھا کہ پلاس؟

سلیم مرزا

SHARE

LEAVE A REPLY