سولہ دسمبرکادن اوراس کی خونچکاں یادیں۔نصرت نسیم

0
1334

اس المناک حادثے کو گزرے6سال بیت گئے مگر آج بھی اس دن کی دہشتگردی، ظلم و ستم کی کوئی مثال نہیں ملتی پھولوں جیسے معصوم بچے، بچوں کے دل تو ویسے بھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں چھوٹی سی بات پر سہم جاتے ہیں مگر ان بچوں نے کمال ہمت وجرآت سے جانوں کے نذرانے پیش کیے 133بچوں اور9سٹاف ممبر نے اپنے لہو سے آزادی کے چراغ روشن کر کے نئ تاریخ رقم کی خاص طور پر پرنسپل مسز قاضی نے جب کہ کمانڈو انہیں بحفاظت باہر نکال لےگئے مگر وہ پلٹ آئیں کہ وہ بچوں کو تنہا چھوڑ کر نہیں جاسکتیں
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں
ہنستے مسکراتے بچوں، معصوم کلیوں، گلاب چہروں کو کیسے موت کی زردی اور کفن کی سفیدی میں دیکھا ماوں کے کلیجے کیسے شق ہوے باپ کی کمر کیسے ٹوٹی؟کون ان کا نوحہ لکھے گا کس کے پاس جذبے کی وہ شدت وجذبات ہونگے کہ 15 معصوم بچوں اور9سٹاف ممبرز کی کہانی بیان کرے
کون ہے جو ماوں کے دکھ درد اوران سالوں کی اذیت و کرب کوبیان کر سکے جو ان لواحقین کے دل پر گزرتی ہے رقم کرسکے
دل چاہتا ہے کہ امرتا پریتم کے ساتھ مل کر ہم بھی وارث شاہ
کو صدا دیں
آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول
تے آج کتاب عشق ڈا کوئی اگلا
ورقہ پھول
اک روی سی دھی پنجاب دی توں لکھ لکھ مارے وین
آج لکھاں دھیان روندیاں تے وارث نوں کہن
اٹھ درد منداں دے دردیاں تک اپنا پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY