جنت سےسلمان اعظمی کا پہلا خط اپنے بابا ریحان اعظمی کے نام

0
1800

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے ہونے کی گواہی دیں گے

بابا آپ خیریت سے ہیں ،آپ کا بیٹا یہاں خوش ہے آپ قطعی رنجیدہ نہیں ہوئے گا ۔ایک آنسوں بھی میری یاد میں نہیں نکالیے گا وعدہ کریں بابا آپ کو میری قسم مسکرا دیجئے ۔امی آئیں تھی میرے گھر مجھے سینے سے لگا یا خوب رونے لگیں امی سے بھی میں نے کہا آپ نہیں روئیں اگر میں اتنی جلدی آگیا تو کیا ہوا ۔امی کہنے لگیں یہ عمر تو یہاں آنے کی نہیں ہے میرے چاند کس کی نظر کھا گئی تجھ کو ۔اپنے بابا کو بھائیوں کو چھوڑ کر آگیا کیا حال ہوگا ان کا کتنے دکھی ہونگے میں نے کہا امی آپ دل چھوٹا نا کریں مولا کی مصلیحت یہی تھی کہ میں جلد سے جلد یہاں آجاؤں ۔ارسلان ،کتنا بلک بلک کے رو رہا ہوگا گھٹنوں میں سر دیکر تجھے یاد کر رہا ہوگا ۔
تیرے بابا کتنے تنہا ہوگئے ہونگے ویسے ہی اتنے بیمار تھے یہ جدائی تو کمر توڑ گئی ہوگی ۔میرے چاند میرے لخت جگر تیری بارات کا ارمان مجھے بھی تھا تیرے بابا کو بھی تھا سب خاک ہوگیا ۔

امی نے خوب واویلا کیا خوب روتی رہیں مجھے سینے سے لگا کر روتی رہیں میں انہے دلاسے دیتا رہا امی میں یہاں آگیا ہوں آپ اب اکیلی نہیں جنت میں ماں اور بیٹے خوب باتیں کریں گے ۔
بابا میں یہاں بہت خوش ہوں اب محرم یہی پر مناؤں گا ۔محلہ بابِ رضوان میں میرا گھر ہے ۔اسی محلے میں سبطِ جعفر انکل بھی رہ رہے ہیں ۔ان کے برابر میں کیفی اعظمی رہتے ہیں میری ان سے ملاقات جب ہوئی تو کہنے لگے برخوردار ابھی تو داڑھی بھی پوری نہیں آئی تم یہاں آگئے چلو خوب جمے گی کہنے لگے تم بھی اعظمی ہو میں بھی اعظمی ہوں تمہارے بابا بڑے شاعر ہیں زمانہ انکی قدر کرتا ہے ان کے نوحے ساری دنیا میں پڑھے اور سنے جاتے ہیں ۔کہنے لگے میں تمہارے باپ سے بھی بڑا ہوں مجھے با با بولا کرو اعظمی صاحب نہیں ۔بابا میرا دل تو لگ گیا بس مشکل یہ ہے سب شاعر ادیب مجھ سے عمر میں بہت بڑے ہیں اور میں ان سب سے چھوٹا ہوں ۔ابھی کل کی بات تھی ادا جعفری اور پروین شاکر میرے گھر آئیں اور بولیں بیٹا مبارک ہو تمہیں یہاں آگئے مگر بیٹا بہت جلد ی آگئے کچھ دن تو اور قیام زمین پر کر لیتے بحر حال اب آگئے ہو تو خوش آمدید اپنی شاعری ہمیں سناتے رہا کرو۔یہاں مشاعرے بھی ہوتے ہیں ،میلاد بھی مجالس بھی ان تمام محفلوں میں اپنا کلام سنایا کرو دل لگ جائے گا ۔

شام ہوتی ہے احباب جمع ہوجاتے ہیں باتیں کرتے کرتے بزم مشاعرے میں تبدیل ہوجاتی ہے اور یوں صبح تڑکے سب احباب اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں ۔محسن نقوی
بابِ رضوان کے چبوترے پر کچھ ملنگوں کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ایک دفعہ میں ان کے یہاں گیا تھا قصیدہ خوانی کی محفل تھی خوب جم جم کر شعر پڑھے جا رہے تھے ۔بہت معصوم بھولے نرم دل انسان ہیں ۔

میرے ہمسائے اُستاد بندو خاں گھر ہے جہاں موسیقی کے رنگ بکھیرے جاتے ہیں ۔سارنگی بھی ان ہی کے نام سے منصوب ہوگئی ہے ۔کبھی کبھی جب زیادہ اداس ہوجاتا ہوں تو بندو خاں کے گھر چلا جاتا ہوں بڑے موسیقی کے استاد ہیں راگوں سے کھیلتے ہیں ہمیں بھی راگ سناتے ہیں دل بہل جاتا ہے۔میری بڑی عزت کرتے ہیں ۔

میر تقی میر ،غالب،انیس میرے گھر آئے تھے میں کتنا خوش نصیب ہوں بابا آپ کا بیٹا اِن استادوں کے درمیان رہتا ہے ۔
استاد قمر جلاوی ،جاں نثار اختر ،کیفی اعظمی ،خمار بارہ بنکوی اور قتیل شفائی محلہ آبِ کوثر کے قریب رہتے ہیں

زید اے بخاری جنت ٹرسٹ کے چیرمین ہیں سارے جنت ٹرسٹی بخاری صاحب کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہیں ۔میں جب نیا نیا آیا تھا تو انہوں نے سب سے پہلے خوش آمدید کہا تھا ۔
یہاں پر بھی منٹو پارک ہے ۔بس فرق یہ ہے کہ سعادت حسن منٹو خود پارک میں ہر شام ترقی پسند دوستوں کی کثیر تعداد کے ساتھ وہاں ہوتے ہیں ۔سرخ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے لدا ہوا پارک ہے منٹو کو گلاب بہت پسند ہے اور ساحر لو موتیے کا پھول اسی وجہہ سے ترقی پسندوں کا اجتماع ہر مہینے ایک بار ہوتا ہے ۔

جون ایلیا کے آنے کا کوئی وقت نہیں کبھی تڑکے صبح یا رات ڈھلے اب تو ہمیں عادت سی ہوگئی ہے میں اور رئیس دستک سے پہچان لیتے ہیں جون آئے ہونگے ۔کمال امروہی بھی بھائی سے ملنے آجاتے ہیں بڑی محبت اور خلوص دیکھا ہے میں نے ان بھائیوں میں ایک دوسرے پر جان دیتے ہیں۔

جون ایلیاں ،رئیس امروہی ،کمال امروہی سے بھی ملاقات ہوئی امروہہ کا یہ خاندان بھی یہی آباد ہے ۔جون صاحب سے میری ملاقات ہوئی تھی میں نے جون صاحب سے کہا میرا چھوٹا بھائی ارسلان شاعری میں آپ کی تقلید کرتا ہے دل و جان سے آپ کی شاعری کا دلدادہ ہے ،بہت خوش ہوئے کہنے لگے ہمیں انتیظار رہے گا زمانے کو نیا جون اپنی شاعری سے فیض یاب کرے ۔

حضرتِ جوش اور مصطٰفی زیدی ،سبطِ حسن ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کافی بڑا گھر ہے شام ڈھلتے ہی محفل لگی ہوئی ہوتی ہے ۔حضرتِ جوش ایک مقنا طیسی شخصیت کے مالک ہیں مجھے یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے بابا میں نے حضرتِ جوش سے داد لی دستِ شفقت میرے سر پہ رکھا ۔میلاد کی محفل تھی خوب لہک لہک کر جوش صاحب کلام پڑھ رہے تھے ۔حضرتِ جوش نے کہا بہت خوبصورت کلام پڑھا ہے ۔سلمان میاں اب محرم میں تمہارے نوحے سُنیں گے ۔بابا جن شاعروں ادیبوں کو میں نے کتابوں میں پڑھا تھا آج اُن کے درمیان ہوں یہ اعزاز کسی سے کم نہیں ۔

جنت انتیظامیہ محلہ اردو کے سب لوگوں کی خواہش ہے کہ ایک اخبار نکلے ساحر لدھیانوی ،کیفی اعظمی ،جاں نثار اختر ،علی سردار جعفری،مجروع سلطان گورکھپوری ،شکیل بدایونی ،حسرت جے پوری ،جون ایلیاں ،پروین شاکر ،ادا جعفری ،فیض احمد فیض ، قتیل شفائی ،احمد فراز نے ملکر ایک جنتی ٹرسٹ بنا لیا ہے ۔میر تقی میر اسکے مدیر اعٰلی ہیں ۔سب دوست احباب اس اخبار میں لکھیں گے ۔

ناصر کاظمی ،فیض احمد فیض ،احمد فراز ،قیتل شفائی ،ساحر لدھیانوی ،حسرت جے پوری ،عصمت چغتائی ،حبیب جالب،قراۃ العین حیدر یہ تمام شاعر ادیب دانشور محلہ اردو میں رہتے ہیں ۔
میری گلی کے کونے پر جو مکان ہے مشہور نغمہ نگار تنویر نقوی صاحب کا ہے ان سے بھی ملاقات ہوگئی ۔ستار ایدھی صاحب برابر والی گلی میں رہتے ہیں ۔

فیض احمد فیض اور احمد فراز نے مجھ سے کہا کہ برخوردار آمدبہار پر کچھ نثر میں لکھیں یہ جنت کے رسالے میں چھپے گی اتنے بڑے استادوں کے بیچ میں بیٹھنا بھی ایک سعادت سے کم نہیں میں لکھنے بیٹھ گیا ۔بابا یہ میری پہلی تحریر ہے جسے میں آپ کو بھیج رہا ہوں میرے دوستوں کو بھی بھیجئے گا

تحسین کے سب پھول مرحبا کی صدائیں دے رہے ہیں۔
ہر ایک کانٹے پہ سرخ کرنیں ہر اک کلی میں چراغ روشن
خیال میں مسکرانے والے ترا تبسم کہاں نہیں ہے
۔”بہار کی آمد ہے دوستوں”
انسانی فطرت ہے کہ وہ پھولوں کے رنگ دیکھ کر مسکرانے لگتا ہے ۔جس طرح ماں کا چہرہ پُر شفقت حسین ہوتا ہے ویسے ہی پھولوں کی نزاکتیں بھی ہوتی ہیں ۔گجرے کی بالیاں،موتیے کی لڑیاں،گلاب کی سحر انگیزی ،گلِ اشرفی وہاں ہوتا ہے جہاں سونا ہی سونا ہو۔گلِ داؤدی کی شفیق مسکراہٹوں کے فن پارے شہکار ہیں آمدِ بہار کے نازک نازک کلیوں میں تازگی احساسِ مروت کے سب جز شامل ہیں۔

رات کی رانی جب اپنے جوبھن پہ بھینی بھینی خوشبوں سے ہواؤں میں ایک دل گداز موسم تخلیق کردیتی ہے سورج مکھی سارہ دن سورج کی جھلسی گرمی سے لڑکر اپنے حسن میں آنچ آنے نہیں دیتا ۔نرگس کے پھول کسی کی راہ تکتے ہیں ۔کوئی آکر اُنکی قصیدہ گوئی کرے ۔اُنکے رنگوں کو دیکھ کر شرمائے ۔کوئی ربائی عشق و محبت کی دہرائے۔چنبیلی کی معطر معطر خوشبوں سے چمن مہکنے لگتا ہے ۔دل میں اک گداس سی لہر پیدا ہوتی ہے ۔ دبی دبی سی اِن خوشبوں کی سر سراہٹ ہوتی ہے ۔اِن چٹختی کلیوں کی آہٹ سے بلبلوں کے قحقے کوئل کی کوک سے دل گداز ہوجاتے ہیں۔ہواؤں میں مُغننی سر تال کے ساتھ راگ ملھوترہ پر کوئی نغمہ چھیڑدے ۔کوئی پائل کی چھن چھن پہ محوِ رقص ہو ۔خوشبوں کا سفر چلتا رہے ۔موتیوں کی مالائیں جھوم اُٹھیں بادِنسیم یہ رونق نکھار سویرے سویرے خراماں خراماں ہر طرف رنگ بکھیرتے ہیں ۔ موتیے کی چٹختی کلیوں لمحوں میں پھول کا سفر طے کرتی ہیں۔یہ قوسوں قزاء کے بکھرے رنگ اپنی نزاکتیں لئے مست مست نظر آتے ہیں۔گل دوپہری کے سلگتے رنگ بھی طبعیت کے اندر شگوفوں کو جنم دیتے ہیں۔سوانیزے
پہ سورج کی کرنیں اَب وتاب سے بکھری پڑی ہیں ننھے ننھے گل دوپہری کے پھول سورج کی کرنوں کی تپش سے لڑتے لڑتے اپنے رنگ ونور کی بارشوں سے ایک رنگینی کے قالین بچھا دیتے ہیں۔ست رنگی تتلیاں جھومتی ناچتی رہتی ہیں کھبی بیلے کے منہ پہ بوسہ کناری میں مصروف تو کبھی موتیے کی ٹہنی میں چٹختی کلیوں کے سراہنے بیٹھ جانا ۔کبھی ہواؤں میں لہرانا تو کبھی گلاب کے پھولوں پہ دستک دینا ۔چھوئی موئی کی کلیاں بھی بیتاب ہیں کوئی شرمیلی اپنے آنچل کو سمیٹنے کی فکر میں بے قرار ہو جیسے ۔یہ خدوخال گلاب کے نقاب الٹ دی ہو جیسے بہار نے ۔صدا بہار کے حسین پھول موسم کی سختیاں ہوں ہوائیں گرم ہی کیوں نہ ہوں اُن کے پہلوں میں یہ حسین فن پارے جھوم جھوم کر اپنی رعنائیاں دیتے ہیں ۔یہ مایوس نہیں کرتے ہر دن سدا بہار کے پودوں میں بہار کے رنگ لہرا رہے ہوتے ہیں۔یہ معصوم بھولپن کی سب ادائیں لئے ٹہنیوں پر جھولتی رہتی ہیں۔ چمپہ کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبوں چودھوی کے چاند کی چاندنی جیسی لگتی ہے ۔جسم بھیگتے رہیں اور احساس کے موتی برستے رہیں۔کنول کے پھولوں پر شبنم کے قطرے ڈولتے ڈولتے پانی پر لہراتے ہوئے کنول کے پھولوں پر حسین نظارے کسی شاعر کا تخیل لگتے ہیں۔فردوس کی سب شمعیں روشن ہیں یہ جلوے چراغِ طور ہے۔رنگ اور خوشبوں کے مہتاب رقصاں ہیں۔ہونٹوں پر تبسم بھی ہے دوستوں بہار ہی بہار ہے ۔آنکھوں کی ہر گرہ کوکھولتی ہے خوشبوں کی مہکار بیلے کی چمن فروز کلیاں گوندھی گئی ہیں جس میں عطر سندل کی ندیاں رکتی ہیں۔یہ کیف ومستی چھائی ہے چمن میں موجِ حسن کی بہار ہے ۔زلفوں کے بکھیرے کسی چنبیلی کے منڈوے تلے مکھڑے پہ تازگی شگفتگی یہ نوخیز کلیاںیہ جوانی کے دھیرے دھیرے انداز یہ غنچوں کی کمانی مہکا ہوا بدن کسی دولہے کی ہو جیسے سُہاگ رات ۔یہ گلاب کی سرخی یہ کانٹوں بھرا جال گلستاں میں چراغاں ہو جیسے بھونورے بنے عشاق یہ گلاب کی کلیاں یہ سہرے کی لڑیاں حیا کا پیکر آنچلوں میں چھپائے کروٹ لی ہو جیسے کسی حسینہ نے ۔فصلِ بہار مبارک ہو عزیزوں۔لچکتی ہوئی شاخوں پہ رنگ و نور کی برسات پھیلی ہے ۔روح کو بیدار کرتی ہیں تخلیق کے اِس سانچے کو۔شاخِ گل سے مسکراہٹوں کے دئے دہکتے ہیں۔لبوں پہ نغمے مکھڑے گن گناتے ہیں۔الجھی ہے صبا کی خنکی ہلچل دلوں میں مچاتی ہے اُلہڑ کافر جوانی کی لچک شعلے بھڑکاتی ہے ۔یہ دل کشی نقوش چمن کے ۔بیاضِ بہار کی آمد آمد ہے۔لبوں پہ یہ جلتے قمقمے یہ ترانے بہار کے ۔آبرو قدرت کی دل ربائی بتا رہے ہیں۔پھولوں کی مسکراہٹوں کی بارات فروزاں نظر آتی ہے۔پدی چڑیاں ننھی ننھی شاخوں پہ جھول کر نغمہ سرائی میں مصروف ہیں ۔بانکپن کے خورشید روشن ہیں ۔ہستی مسکراتی ،گنگناتی ندی کے کنارے
پھولو ں کی قطاریں کسی الف لیلٰی کی داستانوں میں لے جاتی ہے ۔چہچہا تے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اُمڈے چلے آرہے ہیں ۔اِن حسین دلفریب نظاروں کی مدعا سرائی میں مصروفِ عمل ہیں۔مور کے پنکھ بھی بیتاب ہیں کھلیں ہواؤں کے جھونکوں پہ رقصِ دل لگی ہوجائے۔گھونگھٹ اُٹھ گئے ہیں بہار کے۔جمالیاتی حسن کی سب حکائتیں رو برو ہیں۔نسیمِ صبح کے تازہ جھونکوں نے نغمہ چھیڑ دیا ہو جیسے۔تلسی کے پودوں پہ مہکی مہکی سی خوشبوں بکھرتی جاتی ہے ندیا کا پانی پک ڈنڈیوں سے لہراتا ہو جیسے۔گیندے کے پھولوں پہ یہ قوسو قزاء کے سب ہی رنگ بادامی بھی ،بنفشی بھی ،سرخ ،پیلا ،اورنج جتنے رنگ وتنے گیندے کے رنگ ۔تروتازہ اور شاداب حسین پھول جو دلوں کو قرار سکون اور راحت کا سامان دیں ۔

تمام دوستوں سے کہیں وہ دکھی نہ ہوں روئیں نہیں بلکہ حوصلے سے کام لیں ۔میرے نوحے پڑھتے رہیں یہاں تک کا سفر تھا بابا آپ کو مولا کا واسطہ ہمت سے کام لیں معصوم اور ارسلان کا خیال کریں آپ روئیں گے تو ان کو سہارہ کون دے گا آپ کی ہمت سے ہی یہ گھر چلے گا معصوم کو ارسلان کو آپ کی ضرورت ہے ۔

بس ایک چیز جو بابا دل کو رولاتی ہے وہ آپ ہیں معصوم ہے اور میرا پیارا سا چھوٹا بھائی ارسلان ہے ۔کبھی میں ان کے درمیان تھا آج یہاں ہوں دوستوں کی وہ محفلیں بھی چھوٹ گئیں ۔محرم میں نوحے اب آپ اور ارسلان دینگے خوب لکھیں آپ دونوں نوحہ خوانوں کو کلام دیں ساری توجہہ ان ہی کاموں پر لگائیں ۔بس یہی آرزو ہے آپ کو صحت ملے حوصلہ ملے ارسلان کے نوحے زمانے میں پڑھیں جائیں میرے بھائی خوش رہیں میرے احباب خوش رہیں مولا کوئی غم نہ دے سوائے غمِ شبیر کے ۔
محلہ بابِ رضوان
بمقام جنت

آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY