خیر کیا ہے? ۔ فائزہ عباس

0
115

اردو میں خیر کا مطلب نیکی ، بھلائی کا کام، اچھائی اور بھلائی کے معنوں میں کیا جاتا ہے۔ ۔ ۔

عربی لغت میں اس کے معنی رغبت، طلب ، خو، خواہش، رحجان، ترغیب ، حصول کی کوشش، جستجو ، کو کہتے ہیں ۔ ۔ ۔
اسکی مثال۔ ۔ ۔

زمین یعنی مٹی یا خاک ۔ ۔ ۔خاک یا زمین کی طلب کیا ہے ۔ ۔ ۔؟
طلب اس شے کو کہتے ہیں جو کسی کمی کو پورا کرے اور اسکا حصول اس شے کے حسن، خوبصورتی، قیمت میں اضافہ کرے ۔ ۔ ۔
سو مٹی اس چیز کو طلب کرتی ہے جو اسے تکمیل دے ۔ ۔ ۔اسکی تکمیل کس شے میں ہے ۔ ۔ ۔اسکی تکمیل اسکی فطری ضرورت کے پورا ہونے میں ہے اور اسکی فطری ضرورت اگر پوری نہ ہو تو اس زمین کی تاثیر کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔یا وہ زمین سوکھ جاتی ہے ۔ ۔
یا وہ زمین بنجر ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔
یا وہ زمین قابل استعمال نہیں رہتی ۔ ۔ ۔زمین بھی کیفیت رکھتی ہے ۔ ۔ ۔اپنی طلب کے پورا نہ ہونے پر سوکھ جاتی ہے ۔ ۔ بنجر ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔اور متعفن ، صنعتی پانیوں کے باعث اسکی خالص حالت تباہی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔کہ پھر جو اس پر ڈال دیا جاتا ہے اس کی مناسبت سے وہ اظہار کرتی ہے ۔ ۔ ۔
سو زمین کی فطری ضرورت کیا ہے بھلا۔ ۔ ۔؟ کیا شے ہے جس سے زمین رقص کرنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔اسکی تاثیر میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔ ۔ ۔وہ زرخیز ہونے لگتی ہے ۔ ۔ ۔اس سے ایک حسین مہک جنم لیتی ہے ۔ ۔ ۔اس زمین کا محبوب کون ہے ۔ ۔ ۔؟ وہ کیا ہے کہ اس کا وجود جس کے ہونے سے تبسم کا اظہار کرتا ہے۔ ۔ ۔

سو زمین کی فطری ضرورت خالص شفاف بارش کا پانی ہے یعنی پانی اس زمین کی مطلوب ، مقصود و محبوب ہے اس زمین کی۔ ۔ ۔ فطری ضرورت ہے جسکے آتے ہی اس میں زرخیزی آتی ہے اور یہ سونا اگلنے کے لائق بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔
مگر زمین اس ضرورت کی کیفیت کو خود احساس نہیں کر سکتی اس کی طلب خود سے نہیں کر سکتی مگر اس کی فطری ضرورت پانی ہے جس کے اس پر پڑتے ہی اسکی قدرو قیمت ، اس کے حسن و خوبی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ زمین کے رشد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

سو ” مٹی کی “فطری” “طلب” “خالص پانی” ہے اور اس کا پورا ہونا اس کی “قیمت” میں “اضافہ” کرتا ہے ، اسکو “رشد”اور “تکمیل” عطا کرتا ہے ۔ ۔ ۔”
زمین پانی کی “طلب” اور “رغبت” رکھتی ہے اور اس طلب و رغبت کا پورا ہونا عربی لغت میں “خیر ” کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔

یعنی وہ “شے” جسکی؛ “طلب و رغبت ہو” اور اس طلب کا احساس بھی ہو اور اس احساس کیساتھ اس طلب کو پورا کرنا اور جس کے نہ پورا ہونے سے یعنی جسکی کمی سےاس شے کا اثر نہیں بڑھتا، اسکی قیمت میں کمی آتی ہے ، اس کا حسن ماند پڑ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ایسی طلب جو جزب ہو جائے ، تکمیل دے ، مکمل کرے ، بلندی و تکامل کا باعث ہو اسے خیر کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

جب کہ اسکے متضاد شر کے جسکے معنی ، ” انتشار” ، “پراگندگی ” ، ایسا عمل جس کے باعث چیزیں الگ ہو جائیں ، بکھر جائیں ، جہاں فساد ہو ، “جیسے لاشیں دیر تک پڑی رہیں تو ان کا پھول کر بدبو دار ہو جانا” اسے “شر “کہتے ہیں

کسی چیز میں کمی کا۔ ۔ ۔ “احساس ” “طلب ” بن جاتا ہے۔ ۔ ۔اور اس “کمی کے احساس کااحساس “۔ ۔ ۔کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔
جب” انسان ” ۔ ۔ ۔اپنے وجود کے لیے وہ طلب کرتا ہے یعنی ہر اس شے کی جانب رغبت رکھتا ہے۔ ۔ ۔ اور اسکو طلب کرتا ہے۔ ۔ جو اس کی “قیمت ” میں اضافہ کرے۔ ۔ ۔ اور یہ اسکی “فطری” طلب ہو نہ کہ طبعی ضرورت ، خواہش ، تمنا یا آرزو ۔ ۔ ۔ ۔
یعنی فطرت انسانی میں رب نے جس شے کو اس فطرت کا مقصود ۔ ۔ ۔مطلوب۔ ۔ ۔مرغوب رکھا ہو ۔ ۔ ۔
جو انسان کی ۔ ۔ ۔شخصیت کی تکمیل اور تعمیر کا باعث ہوں۔ ۔ ۔

یعنی انسان کی ۔ ۔ ۔وہ توجہ جو اس طلب و ضرورت کا احساس دے ۔ ۔ ۔اور انسان کا مخلصانہ اس ضرورت کو پہچان کر اسے طلب کرنا ۔ ۔ ۔اور اسکی جانب سرعت دکھانا تیزی سے قدم بڑھانا ” خیر کہلاتا ہے ” ۔ ۔ ۔
خیر یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔” تقوی ” ہے ۔ ۔ ۔
خیر ۔ ۔ “علم کا زیادہ ہونا ہے ۔ ۔ ”
خیر ۔ ۔ “حلم کا زیادہ ہونا ہے۔ ۔ ۔”
خیر ۔ ۔ ۔”رب کی بندگی میں ممتاز ہونا ہے ۔ ۔ ۔” بندگی کے معنی ہیں کہ انسان سے اگر غلطی ، خطا یا گناہ سرزد ہو جائے تو وہ رب سے فورا اس پر معافی کا طلبگار بن جائے اس سے معافی مانگے اور آئندہ اس سے بچنے کی مکمل مخلصانہ کوشش کرے ۔ ۔ ۔
دوسرا یہ کہ اگر انسان “نیکی” کرے یا اک”احسان ” کرے تو اسے رب کی دی ہوئی توفیق سمجھے اس کا خود ہر احسان جانے کہ رب نے اسکے ہاتھ چنے کسی کے کام آنے کے واسطے اسے بندگی کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ “

تو خیر “مال و اولاد ” کی زیادتی نہیں ہے بلکہ خیر علم، تقوی، حلم، نیکی اور وہ سب جو انسان کو انسانیت کی معراج ، تکامل اور رب تک لے جائیں وہ سب جو انسان ساتھ لے جا سکتا ہو ۔ ۔ ۔وہ سب جو انسان کی فطری ضرورت ہو اور اسکے پورا ہونے سے اسکی شفافیت ، حسن اور قیمت میں اضافہ ہو اسے خیر کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

رب کریم نے ہر بہترین شے انبیاء اکرام کو عطا فرمائی اور اگر مال و دولت خیر ہوتا تو رب کریم سب سے زیادہ دولت انبیاء و مرسلین کو عطا کرتا جب کہ دولت ہر اس کافر ، مشرک ، بے دین یا برے انسان کے حصے میں رکھی جو یا تو رب کو پہچانتا نہیں یا اس سے دور ہے سو دولت مال و زر آل اولاد خیر نہیں ہیں یہ تو آزمائش ہیں انسان کی ۔ ۔ ۔

سو انسان کو خیر کا طلبگار ہونا چاہییے کیوں کہ خیر کی شعوری طلب ہی خیر تک پہنچنے کا زریعہ بنتی ہے اگر شعوری طلب نہ کی جائے تو انسان کبھی خیر تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ۔ ۔انسان اپنی طبیعت میں اس قدر الجھا ہے کہ اس سے فراغت نہ ہونے کی باعث وہ اپنی فطری طلب سے بہت دور نکل چکا ہے اسکی زات ہوس، زر اور ریا کی تمثیل بن چکی ہے جب کہ رب نے تو چاہا کہ انسان خیر کا طلبگار بنے ، خیر کی چاہت رکھے ، خیر سے خود کو مزین کرے تاکہ اس کی قربت کا مستحق بن پائے ۔ ۔ ۔کہ بنا جستجو کے انسان سفر نہیں کر سکتا اور بنا سفر کی تیاری اس کی جانب درست ، شعوری عملی قدم بڑھائے انسان کبھی خود کو معراج انسانیت تک نہیں پہنچا سکتا ۔ ۔ ۔

سو دیکھ لوں میں بھی ۔ ۔ ۔
دیکھ لو تم بھی ۔ ۔ ۔
کہ تم میں تمہاری ۔ ۔ ۔
طلب کیا ہے ۔ ۔ ۔
تم آزاد انسان ہو کہ ۔ ۔ ۔
غلامیوں نے تمہیں۔ ۔
جکڑ رکھا ہے ۔ ۔ ۔
یہ پہچان بہت ضروری ہے ۔ ۔ ۔
ورنہ جان لو کہ دو جہاں کا نقصان
فقط تمہاری سزا ہے ۔ ۔ !!!!

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY