وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے آئین میں ترمیم ضروری ہے جس کےلئے ہمارے پاس اکثریت نہیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب میں ایک سب سیکٹریٹ بنا کر ایک اچھی پیشرفت کرنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاش اپوزیشن جو کہتی ہے اس پر عمل بھی کرئے صوبہ بنانے کے لیے اکثریت کو ضرورت ہےاپوزیشن کہتی ہے کرتی نہیں اور دراڑیں ڈالنے کو کوشش کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں سے کہوں گا کہ سمجھیں ان لوگوں کو جو ہمیں تقسیم کر رہےہیں، میڈیا نے پبلک کی رائے بنانی ہوتی ہے، تخت ملتان کی غلامی والی تو کوئی بات نہیں ہے ملتان،بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ہم سب کے مسائل ایک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں صبح افغانستان ایران، چین اور پھر روس جا رہا ہوں یہ چار ممالک 2 دن میں طے کرنے ہیں،ان ممالک کی لیڈر شپ سے تبادلہ خیال کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دورے میں اس خطے میں امن کیسے لایا جاسکتا ہے؟ کیسے ایک دوسرے کا دکھ بانٹا جا سکتا ہے؟ اس پر بات ہو گی اور امن اور استحکام ہوگا تو سرمایہ کاری ہوگی اور خطہ اگے بڑھے گا خوشحالی آنے پر ہم اپنے وسائل ہتھیاروں کی بجائے غربت پر خرچ کر سکیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 27 اور 28 تاریخ کو انوائز کانفرنس ہو گی جس میں مل بیٹھ کر بات کی جائے گی کہ کیسے ملک سے باہر سے سرمایہ لایا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ باہر سے انویسمنٹ کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے کچھ سالوں سے فارن ڈائریکٹ انویسمنٹ گر رہی اپ کا روپیہ مستحکم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2015 کا بلدیاتی الیکشن ہمارا پہلا الیکشن تھا اور تجرباتی تھا اب پارٹی کو گراس روٹ لیول پر مظبوط کیا جا رہا ہے، جن جج صاحب نے تمام کیس سنا ہے وہ اپنا فیصلہ دیں گے عدالتیں آزاد ہیں اور آزادانہ فیصلہ کریں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY