علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات, گارڈ حراست میں

0
1926

ایم کیو ایم پاکستان کے مقتول رہنماسابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے ان کے گارڈ کو حراست میں لے لیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس سلسلے میں ہر پہلو کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے دو تین مقامات پر ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے،جبکہ فارنزک تحقیقات سے اس بات کا یہ پتہ لگایا جارہا ہے کہ واقعے میں استعمال ہونے والا ہتھیار پہلے کبھی کسی واقعے میں استعمال ہوا ہے یا نہیں۔

ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ علی رضا عابدی کے گارڈ قدیر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جو فائرنگ کے جواب میں فوری کارروائی کے بجائے گھر کے اندر چلا گیا اور علی رضا عابدی کے والد سے ملزمان پر جوابی فائرنگ کے لیے ہتھیار مانگا۔

پیر محمد شاہ کے مطابق گارڈ قدیر کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا اور اسے علی رضا عابدی کے گھر پر تعینات ہوئے ڈیڑھ سے دو ماہ ہوئے تھے۔

ایس ایس پی ساؤتھ طارق دھاریجو نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوع سے گولیوں کے خول ملے جنہیں فارنزک کے لیے بھجوادیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد علی رضا عابدی کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال لایا گیا جہاں ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں گردن اور سینے پر تین گولیاں لگیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY