امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
” کہ علم ایک نور ہے اور اللہ تعالیٰ جس دل میں چاہتا ہے اس دل میں نورانییت کو ڈال دیتا ہے اور جب تک دل نورانی نہ ہو تب تک اس دل میں وہ نور انیت نہیں ۔ ۔ “
اور آپ فرماتے ہیں کہ ” اگر انسان میں احساس بندگی نہ ہو تو وہ کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا “
بنیادی طور پر تعلیم و تربیت ہی انسان کی نجات کا زریعہ ہیں ۔ ۔ ۔
قرآن کی تلاوت
تزکیہ و تطہیر
اور تعلیم قرآن( کتاب ) و حکمت روح کیساتھ انجام دینا
مکہ بہت ہی تباہ شدہ معاشرہ تھا جسے نبی کریم ص ے بدلا انہیں تین چیزوں کے زریعہ ہی انجام دی ہے ۔ ۔ ۔
ایک تعلیم ہے مدرسوں اور سکولوں میں رائیج ہے وہ نجات دہندہ تعلیم ۔ ۔ ۔نہیں ہے بلکہ پیسہ کمانا مقصد ہے ۔ ۔ ۔
نبی کریم ص نے فرمایا کہ ایک تعلیم ایسی ہے جو کہ انسان کو نجات دیتی ہے ایک تعلیم ڈبو رہی ہے جسکا حصول صرف ڈگری ہے اور ڈگری بھی نہیں بلکہ پیسہ کمانا ھدف ہے ۔ ۔ ۔
جاب ھدف ہے بلکہ اصل ھدف پیسہ اور وسائل زندگی ہیں ۔ ۔ ۔سو اس لیے اس سب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔حتی کہ دینی تعلیم کا بھی یہی حال ہے۔ ۔ ۔ملازمت کا حصول یا دنیا کا حصول یہ تعلیم نجات نہیں دیتی ۔ ۔ ۔
چاہے سو فی صد بھی پڑھ لکھ جائیں تب بھی نجات دہندہ ہو ضروری نہیں صرف اکیس فی صد پاکستان میں بنیادی تعلیم رکھتے ہیں جب کہ نجات دہندہ تعلیم سے مطلقا محروم ہیں۔ ۔ ۔
خواہ وہ دینی مدرسے ہوں یا دنیاوی۔ ۔ ۔
ہمیں نجات دہندہ تعلیم چاہییے جو کہ حکمت و قرآن کی تعلیم ہےحکمت پاکستان میں یونانی طریقہ علاج سمجھا جاتا ہے جب کہ
قرآن حکمت مضبوط راہوں ، مضبوط علوم ، اصولوں اور فارمولوں جو راستے جہاں سستی کمزوری گمراہی کجی نہ ہو ، کی تعلیم دیتا ہے ۔ ۔ ۔قران کتاب نور ہے ۔ ۔ ۔یہ انہیں قلبوں پہ ظہور پزیر ہوتا ہے کہ جو نورانییت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔
حکمت محکم سے ہے مستحکم، استحکام حکمت یعنی کہ بہت ہی مضبوط راستے جہاں سستی ، کجی کمزوری گمراہی نہ ہو جسکے انجام ہر کچھ ملے حکیمانہ طرز عمل قرآنی طریقہ نجات ۔ ۔ ۔ کو حکمت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ رب کے نور کا اظہار ہے یہ وسیلہ نجات ہے ۔ ۔ ۔یہ کتاب حکمت و بصیرت ہے یہ وہ روشنی ہے جو قلبوں اور عقلوں کو وہ سب دیکھنے میں مدد کرتی ہے جو کہ موجود تو ہے مگر انسانی عقلوں اور بصیرت میں دیکھنے کی وہ استطاعت نہیں جو کہ دیکھ پائے ، سمجھ پائے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے ہمارے سامنے دیوار ہو مگر ہم اندھیرے کے باعث اسے دیکھ نہیں پائیں ۔ ۔ ۔یا پھر آنکھیں بند کرنے کے باعث بیچ میں پردہ حائل ہو جائے اور عقل تو کہے کہ دیوار ہے مگر اندھیرے کے باعث صرف اندھیرا اور تاریکی ہو ۔ ۔ ۔
قلبوں کا نور کتاب حکمت و بصیرت ہے اور علم اسی قلب پر روشنی کرتا ہے جو پاک اور نورانیت والا ہو ورنہ معلومات تو ممکن ہے کسی کے پاس بہت ہوں کہ احکامات کیا ہیں ، نماز کیسے پڑھنی ہیں کس سوری میں کیا ہے مگر روح قرآنی وہ نورانییت ہے جو رب کے منتخب شدہ قلبوں پر ہی اپنی نورانییت کا اظہار کیا کرتی ہے ۔ ۔ ۔جیسے کہ آنکھ بند کرنے کے باعث آنکھ اور دیوار کے بیچ اندھیرا س گیا اب آنکھ کھلی تو روشنی کے باعث وہ دیوار کو دیکھ پایا اب اس دیوار کو دیکھ پانے کے لیے آنکھ کو ایک وسیلہ درکار ہے جسے روشنی کہتے ہیں اگر یہ روشنی نہ ہو تو انسان دیکھ نہیں سکے گا حتی کہ آنکھ ہے اور دیوار بھی ہے مگر ظلمت ہے ایسے ہی جس ملت کے قلب پر قرآن کی روشنی اسکی نورانییت اپنے اصل اظہار کیساتھ موجود نہیں ہو وہ ظلمت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔وہاں تاریکیاں ، گمراہیاں ، اقدار کی پامالی، بے انصافی ، اندھیرے چھا جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اب جب کہ موجود تو سب ہے لیکن نگاہ دیکھ پانے کی اور قلب اپنا پانے۔ ۔اور درک کر پانے کی صلاحیت سے مکمل محروم رہ جاتا ہے ۔ ۔ ۔
حماقت بیوقوفی ، کم عقلی، نادانی ایسی محنت جس کے بعد کچھ حاصل نہ ہو یہ حکمت جا متضاد ہے ایسی محنت جس کے آخر میں اسے کچھ نہیں ملتا ۔ ۔ ۔ ۔اسے ہی ظلمت کہتے ہیں جہاں محنت تو بہت ہو رہی ہو مگر انجام فقط تباہی اور گمراہی کے کچھ نہ ہو ۔ ۔ ۔
قرآنی طریقہ نجات حکمت ہے ۔ ۔ ۔ جس معاشرے میں
مساجد تک بھی اسلامی طریقہ کے مطابق نہیں چلائی بنائی جاتی ۔ ۔ ۔مسجد چلانے کے لیے بھی این جی او یا انتظامیہ کی وہ قسم درکار ہو جو خالص دین کے متضاد ہوں تو وہاں تجارت تو ہے ، محنت بھی ہے مگر روح دین نہیں ہے ۔ ۔ ۔
یعنی کہ ھارڈ وئیر دینی اور سافٹ وئیر غیر دینی ہے۔ ۔ ۔یعنی جب روح ہی اصل نہ ہو گی تو ھارڈ وئیر کسقدر بھی بیش قیمت ہو سب بیکار جائیگا یہاں تک کہ وہ روح کے بنا ایک بے کار اور بے جان مشین کے سوا کچھ۔ ہیں رہ جائے گا۔ ۔
ایک مسجد رسول اللہ نے بنائی جہاں سے حکومت نکلی ، غلبہ اسلام نکلا ، محبت نکلی، تربیت عمل نکلے ، علوم کے خزانے نکلے ۔ ۔ ۔
ایک آج کی ۔مسجد ہے کہ جہاں انجمن کے الیکشنز نکلتے ہیں ، ضد ، نفرت، حقارت اور جہالت نکلتی ہے۔ ۔ ۔کفر کے فتوے اور جلاؤ گھیراؤ کے وہ جزباتی نظارے اور تربیت نکلتی ہے کہ جس کے بعد کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ رسول خدا کے دین کے پیروکار ہیں جہاں پر ایک دوسرے کے خلاف کیمپین چلائی جائے وہاں پر مسجد کی روح کیا ہو گی ۔ ۔ ۔
دینی گھروں کو چلانے کے دینی اصول نہیں اپنائے۔ ۔ ۔
دین سے باہر جانے کو فسق و فجور کہتے ہیں ). فسق کا مطلب جیسے عربی میں کھجور کے اندر سے گھٹلی کا بابر آجانا) دین میں رہ کر کریں ۔ ۔ ۔
ہر چیز آلودہ کرتی ہے واحد پانی ہے جو پاک کرتی ہے ۔ ۔ کھانا پکاتے ہیں برتن گندے ہو جاتے ہیں لباس پہنتے ہیں گندہ ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔
تعلیم سے پہلے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔اور پاکیزہ نورانی وجود ہی معاشرہ ساز ہوتے ہیں ایسے وجود جو معاشرے کو طہارت ، امن ، سکون سے بھر پائیں۔ ۔ جن کی نورانیت معاشرے پر اثر رکھتی ہو ۔ ۔
ایسے لوگ چاہییے ہیں جو پاک شفاف یوں پھر انسان کی تطہیر کر سکیں گے پھر معاشرہ نہیں بدل سکتے ۔ ۔ ۔بدلنے کے لیے معبوث ہونا شرط ہے ایسا ہو کہ جسمیں انسان اندرونی خواہشات اور بیرونی مسائل کا سامنا کر پانے کی طاقت اور بصیرت ہو جسکی روح شفاف ہو جو طبیعت کا غلام نہ ہو بلکہ روح کی حکمرانی اور فطرت ربی کی اصل روح کا مظہر ہو ۔ ۔ ۔
ایسا انسان بیت باشرف ہے کہ جو ایسا بن پائے اسکو پورے آداب کیساتھ انجام دے سکیں دینی کام پہلے خود سے شروع ہوتا ہے خود کو نہ بدل سکے تو دوسروں کو بھی بدل نہیں سکتے ۔ ۔ ۔اسکے لیے معبوث ہونا شرط ہے معبوثیت شرط ہے ۔ ۔ ۔یعنی روح کی شفافیت و نورانییت شرط ہے ۔ ۔ ۔قلب کی طہارت شرط ہے ۔ ۔ ۔عقل کی پاکیزگی اور بصیرت کی نورانیت شرط ہے ۔ ۔ ۔جنکے بنا کوئی شخص اس کام کو انجام نہیں دے سکتا ۔ ۔ ۔
پاکستان میں بیت کام کی ضرورت ہے جوان لوگ جب عزم کر لیں تو کر سکتے ہیں روٹی کا خوف نکال دیں ۔ ۔ ۔
رب پہ توکل کرنا سیکھیں ۔ ۔ ۔
فکر معاش نے تیری روح قبض کر لی ہے سرمایہ داری نظام کے غلام نہ بنیں ۔ ۔ ۔اپنے رب پر اور خود پر بھروسہ کرنا سیکھیں جب پرندے رب پہ توکل کرتے ہیں اور اپنی چونچ میں اگلے دن کے لیے کچھ جمع کرنے کی فکر میں نہیں رہتے جبکہ وہ محض پرندے ہیں مگر انسان تو اشرف المخلوقات ہے کیا اس کی اوقات پرندوں سے بھی کمتر ہے کہ راہ نجات نہ پا سکے ۔ ۔ ۔ ؟؟؟؟
جب انسان کی عبادات اور خدمت خلق کا مقصد رب سے محض روٹیاں ، نوکریاں ، غلاموں مانگنا ہی رہ جائے تو پھر اس مانگنے والے کو سمجھ لینا چاہییے کہ اس عبادت ، اس زیارت، اس حج و عمرے و زیارت کی روح کو نہیں پا سکا جو رب اپنے بندے کو نورانیت ، علم اور حکمت دینا چاہتا تھا اس نے اپنے لیے غلاماں خرید لیں ۔ ۔ ۔خوف مانگ لیے ۔ ۔ آزاد سوچ ہی نہیں سکا وہ جکڑا ہوا، ڈرا ہوا ، ڈوبا ہوا ، بہکا ہوا انسان پھر کیا سکا ۔ ۔ ۔ نہ تو شجاعت پا سکا نہ نورانییت نہ ہی ظلمتوں ہی سے باہر کو اسکا ۔ ۔ ۔
پھر اسے سمجھ لینا چاہییے کہ وہ عبادت, وہ ریاضت ، وہ زیارت ، وہ حج روٹی کے لیے تھا نہ رب تک پہنچنے کے لیے ۔یعنی کہ ہم روٹی پرست ہیں نہ کہ خدا پرست ہیں ۔ ۔ مگر سمجھتے یہی ہیں کہ رب کا قرب اور اسکی عبادت و ریاضت کا لطف صرف ہم ہی جو میسر ہے تو جان لینا چاہییے انسان کو کہ یہ عبادتیں۔ ۔ ۔یہ ریاضتیں ۔ ۔ جو ہمیں ظلمتوں سے کھینچ کر نورانیت تک نہیں لا سکیں صرف روٹی اور بہکاوں کے مانگنے تک ہی لا سکیں تو پھر ملیگا بھی وہی جو مانگا تھا نہ کہ وہ جو کہ رب ہمارے وجود پر اتارنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔
ہمیں اس فکر کو زہن سے نکال کر اپنے مقصد پہ نگاہ رکھیں آپ جس چیز کو ہم طلب کرتے ہیں وہ مقصد ہوتا ہے انسان کا ۔ ۔ ۔
ہم مادیت کے زریعے معنویت حاصل کرتے ہیں اور وسیلے جو مقصد بنا رکھا ہے۔ ۔ ۔
معبوث شخص سب رب کی راہ میں خرچ کردیتا ہے جیسے بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہا جنہوں نے اپنی سب آل رتبہ دولت دین کی سرفرازی میں خرچ کیا روٹیاں نہیں مانگیں بلکہ اپنی ہر شے اس پر لٹا ڈالی ۔ ۔ ۔
انسان کا وظیفہ یہ ہے کہ اس نے نے وسیلے کو ھدف نہیں بنانا ۔ ۔ ۔بلکہ وسیلے کو زریعہ بنانا ہے ھدف کے حصول تک پہنچنے کا ۔ ۔ ۔
ھدف قرب الٰہی ہے ۔ ۔ ۔قربت رسول کریم ص و اہلیبت ع ہے اور مقصد دین کی سرفرازی ہے ۔ ۔ ۔محبت ، امن ، سلامتی اور اتحاد کی کوششیں کرنا اور اور امت سازی ہے۔ ۔ ۔ملت بننا ہے ۔ ۔ انسان سازی اور معاشرہ سازی ہے ۔ ۔ ۔
امام علی ع فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔
” وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جو زبان تک رہ جائے اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو ۔ ۔ “
ہماری دعائیں بھی ہماری پستی اور نجاست کی دلیل ہیں ، انسان کی چاہت اس کے ظرف اور پاکیزگی کا مقام بتاتی ہیں ، اور یہ چاہت طے کرتی ہے کہ یہ کس قسم کا انسان ہے ۔ ۔ ۔ ہم دعاؤں میں بھی پستیاں اور نجاستیں مانگتے رہتے ہیں ، چنانچہ جسم ، نفسیات اور جذبات کو عارضی لذت اور سرور دینے والے ہر جائز ناجائز ، بےکار اور پست شے مانگتے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن کبھی یہ نہیں مانگا کہ پروردگارا ہم سے یہ نجاستیں ، یہ پستیاں ، یہ کم ظرفیاں ، یہ گناہ میں لذت و سکون کا احساس ، یہ جھوٹ ، غیبت ، رِیا ، حسد اور کِبر ، شہرت و ہوس کی چاہ وغیرہ لے لے ۔ ۔ ۔ ہمیں عبادت و اطاعت اور پاکیزگی میں لذت و سرور کا احساس دے دے ، اور نیکی اور تری طلب میں اُکتاہٹ دل تنگی اور سُستی لے لے ۔ ۔ ۔
اللہ کے حضور اپنے گناہوں اور اپنے جرم کے ” اقرار ” کو وسیلہ قرار دے کر لوٹ جائیں ۔ ۔ ۔ بے شک اس کا دروازہ نہ ہی بند ہے ، نہ ہی تنگ ہے ، نہ ہی سرد ہے ، نہ ہی طعنہ زن ہے ۔ ۔ ۔
اور اس دَر پر جا کر کہیں کہ ” اگر میری موت قریب آئی ہو اور میرا عمل مجھے تیرے قریب نہ کرسکا ہو ، تو میں نے اپنے اقرار بہ گناہ کو تیری بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دیا ہے ، اگرچے میں نجس اور گناہ میں لتھڑا ہوا ہوں ، لیکن باغی نہیں ہوں ” ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













