بنگلادیش: بی این پی 212 نشستوں پر کامیاب، جماعت اسلامی کا دوسرا نمبر، سرکاری نتائج جاری

0
851

بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن میں ملک میں گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا جس کے مطابق طارق رحمان کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔

الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں لیکر واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے وزیراعظم کے امیدوار طارق رحمان کی جانب سے تاحال انتخابی بتائج پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان کی جماعت بی این پی کی جانب سے واضح اکثریت کے باوجود عوام سے خوشیاں منانے کے بجائے سجدہ شکر بجا لانے کی اپیل کی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 30 میں سے صرف 5 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ملک کی ترقی کے لیے سیاست برائے سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کریں گے۔

یاد رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کے ہاؤس آف دی نیشن (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ ایک حلقے کے انتخابات جماعت اسلامی کے امیدوارکے انتقال کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے میدان مار لیا۔

بنگلا دیش میں عام انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کی تحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشتیں جیت لیں۔

غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 151 نشستیں جیت چکی ہے، طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی اور اتحادیوں کو 70 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، جن کےساتھ مل کر تحریک چلائی ان کےساتھ مل کر ملک چلائیں گے۔

طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔

ادھر جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے الیکشن کمیشن پر چند حلقوں میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دیدی۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ وہ سرکاری نتائج کے بعد ردعمل دیں گے اور یقین دلاتے ہیں کہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے، تعمیری اور عوام کے مفاد میں سیاست کریں گے۔

بنگلادیش میں انتخابات کیساتھ قومی ریفرنڈم

بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔

ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY