ماضی فقط سیکھنے کے لئے ہوتا ہے۔نادر بلوچ

0
43

ماضی فقط سیکھنے کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ اس میں رہا جاتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ماضی سے سیکھنے کے بجائے اس میں رہنے لگ جاتے ہیں، جس کے باعث ترقی کا سفر رک جاتا ہے، غلطی پر غلطی اور بھنڈ پہ بھنڈ مارا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی اسے معقول عمل نہیں کہتا۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے، جہاں سیاسی جماعتوں نے ماضی میں غلطیاں کیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے ان غلطیوں کو دہرانا اپنا منشور تصور کیا۔ یہی وجہ بنی کہ اس مادر وطن پر تیس برس تک آمریت کا ناپاک سایہ قائم رہا اور حقیقی سول بالادستی کا خوب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے سیاسی جماعتوں نے جہاں راولپنڈی کے آگے ماتھا ٹیکا تو وہی آمرانہ اقدام کو خوش آمدید بھی کہا گیا، ایک دوسرے کی حکومت گرا کر مٹھائیاں تک تقسیم کی گئیں۔

14 مئی 2006ء کو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون نے ماضی کی تلخ یادیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ میاں صاحب اور شہید محترمہ بےنظیر بھٹو نے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کرکے عہد کیا تھا کہ اب وہ کبھی سول حکومت کے خاتمے میں اپنا کندھا استعمال نہیں ہونے دیں گے، کسی آمر کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ آکر ایک سول حکومت کو چلتا کر دے اور آئین پاکستان کو معطل کرکے انسانی حقوق کی پامالی کرے۔ یاد رہے کہ جیسے ہی اس معاہدے کے مندرجات سامنے آئے تھے، سیاسی ورکرز کے چہرے خوشی سے ٹمٹما اٹھے تھے، انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اب کوئی مائی کا لعل سیاسی حکومت پر شب خون نہیں مار سکے گا، مگر افسوس کہ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت بنی، مگر میاں صاحب نے ایک فرضی میموگیٹ پر اپنا کندھا پیش کر دیا اور کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں پیش اور ایک سیاسی جماعت کے خلاف خم ٹھوک کر کھڑے ہوگئے۔

نواز شریف کے اس اقدام سے پیپلزپارٹی کی حکومت کمزور ہوئی اور اسے اسٹیبلمشنٹ کے دباو میں آکر اقتدار کے تنے رسے پر سفر کرنا پڑا، یوں ایک منتخب متفقہ وزیراعظم کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں گھر بھیج دیا گیا۔ پھر چشم فلک نے یہ دیکھا کہ میاں صاحب کو بھی اسی عدالت نے جیل بھیج دیا۔ پانامہ پر فیصلے کے بعد میاں صاحب اور مسلم لیگ نون نے تسلیم کیا کہ ان سے میموگیٹ کے معاملے پر غلطی سرزد ہوئی تھی، مگر اب کیا پچھتائے ہوت والی بات ہوگئی۔ افسوس کا مقام ہے کہ سابق صدر آصف علی زراری جیسے زیرک سیاست دان نے بھی بلوچستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے خاتمے کے لئے راہ ہموار کر دی، یوں وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کو استعفیٰ دینا پڑا اور ایک نیا وزیراعلیٰ سامنے آیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ چیئرمین سینیٹ تک آزاد سینیٹر کو بنا دیا گیا، جسے کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ مسلم لیگ نون سینیٹ میں اکثیریتی جماعت ہونے کے باوجود اپنا چیئرمین بنانے میں ناکام رہی۔ آصف علی زرادری نے کھل کر کریڈٹ لیا کہ انہوں نے حکومت کا خاتمے اور چیئرمین سینیٹ بنوایا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری سمجھ رہے تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی پج پر کھیل کر شائد بچ جائیں گے یا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا، آج انہیں خود کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے مقدمات کا سامنا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی نے سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے، جسے اب پیپلزپارٹی اسٹیبلمشنٹ کا کھیل قرار دے رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اب پیپلزپارٹی نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس سے بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی میں غلطی ہوئی تھی۔ ایک ٹاک شوک میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز نے تسلیم کیا ہے کہ جو سلکٹ وزیراعظم لائے، انہی کے کہنے پر پیپلزپارٹی بھی بلوچستان میں استعمال ہوئی۔ تین تین باریاں لینے والے بار بار استعمال ہوں اور پھر اسے ایک چھوٹی سی غلطی کا نام دیں تو قوم اس لاجک کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

اب اگر بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری بار بار عمران خان کو لاڈلہ کہیں اور یہ طعنہ دیں کہ وہ اسٹیبلمشنٹ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں تو سوال یہ بنتا ہے کہ بلوچستان حکومت کی تبدیلی اور چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر کون استعمال ہوا تھا؟، کیوں آصف زرداری نے میاں رضا ربانی جو اسٹیبلمنشٹ کے خلاف ایک بڑی آواز تصور کئے جاتے ہیں، انہیں چیئرمین سینیٹ نہ بننے دیا، جبکہ ان کے نام پر تو نواز شریف کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ رضا ربانی صاحب فرماتے ہیں کہ احتساب کے حوالے سے قومی سطح پر احتساب کا نظام ہونا چاہیئے، جس میں فوج کا بھی احتساب شامل ہو، حقیقت یہ ہے کہ جب انہوں نے یہ تجویز دی تھی، اس وقت وہ خود چیئرمین سینیٹ تھے اور اس تجویز کی مخالفت بھی کسی اور جماعت نہیں بلکہ انہی کی جماعت پیپلزپارٹی نے کی تھی۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی قیادت یاد رکھے کہ وہ کبھی سول سپرمیسی کے نعرے کو حقیقت میں نہیں بدل سکتیں، جب تک کہ وہ قوم سے اعلانیہ معافی مانگ کر نئے سفر کا آغاز نہ کریں، گو کہ قوم اس کو آرام سے تسلیم نہیں کرے گی، مگر پھر بھی دونوں جماعتوں کو اپنے عمل سے قوم کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔

نادر بلوچ

SHARE

LEAVE A REPLY