جہان گم گشتہ کا عقاب،باب سوئم “ اونٹوں کی موت “پہلی قسط

0
54

وہ اپنے آپ کو سردار کریم خان خاروط کہلوانا پسند کرتا تھا۔ اس کے قبیلے کے لوگ اسے جرنیل صاحب پکارتے تھے۔ کسی انسان کو اس کی عمر کا علم نہیں تھا۔ اگر اس سے اس کی عمر کا پوچھا جاتا تو وہ سوچ میں پڑ جاتا اور کہتا۔ ” مجھے بھی علم نہیں! مجھے اتنا پتہ ہے کہ میرے پڑپوتے اور روے زمیں پر گھومتے پھرتے دو نسلیں اپنے خالق پاس واپس جا چکی ہیں۔۔۔اور میں ان سے بھی ایک نسل پہلے کا انسان اب تک زندہ ہوں۔”

اس کے سر کے بال اس کی بات کی تصدیق کرتے تھے، اس کی بھنووں اور پلکوں کے بال بھی تازہ پڑی برف کی مانند تھیں جبکہ اس کی جسمانی قوت و دماغی چستی اس کی بات کی نفی کرتی تھیں۔۔۔کیوں کہ ہر سال موسم خزاں میں افغانستان کے بلند پہاڑوں سے اتر کر سطوح مرتفع سے اپنے قبائل کو چلاتا ہوا پاکستان کے میدانوں تک لے آتا اور اسی طرح موسم بہار کی آمد پر انھوں رستوں پر واپس افغانستان لے جاتا۔ جن جن زمینوں سے اس کے کارواں گزرتے ان ان زمینوں کا وہ مشہور ترین انسان تھا۔ وہ اپنے عنابی اور سیاہ چغہ میں ملبوس اپنے سب سے چھوٹے بیٹے نائم خان۔۔۔جس کی عمر اب پچاس برس تھی البتہ سارے بال کالے تھے۔۔۔کے ساتھ چلتا رہتا تھا۔ نائم خان اپنے باپ کا جڑواں لگتا تھا۔ وہ بے حد مضبوط جسم کا مالک تھا اور لوگ اسے کرنیل صاحب پکارتے تھے۔ کسی میں جرات نہ تھی کہ وہ پچھ لیتے انھیں یہ خطابات کس نے، کب اور کس وجہ سے دئیے تھے۔ کیوں کہ ان باپ بیٹے کا ایک خاص رعب تھا اس لئے سبھی سمجھتے تھے کہ وہ سنہری اور عنابی چغہ اور خطابات کسی گزر چکے بادشاہ سے ملے تھے۔ اگر اس کے قبیلے والوں کو اس راز کا علم ہو بھی جاتا تو وہ یہ راز کبھی کسی کو نہ بتاتے۔

خاروط قبیلہ تقریبا دس لاکھ نفوس پر مشتمل تھا اور ان کی ساری زندگی موسمیاتی ہجرتوں میں گزر جاتی۔ وہ سردیاں اپنے اونی خیموں گاڑ کر میدانوں میں بسر کرتے جبکہ بہار اور خزاں افغانستان کی بلندیوں میں گزارتے۔ اچھا! میدانوں میں بھی وہ ایک جگہ ٹک کر نہ بیٹھتے بلکہ لگاتار گھومتے رہتے۔ بسا اوقات وہ سمت کے تعین سے تنگ پڑ جاتے تو جدھر ان کے جانور رخ کرتے وہ ان کے پیچھے چل پڑتے۔۔۔شاید اسی لئے انھیں پاوندے(لگاتار چلنے والے۔مترجم) کہا گیا۔

بہار آتے ہی وہ لوگ اپنے موٹے تازے اور اون سے لدے جانوروں اور تازہ رسد کے ساتھ واپس بلندیوں کی طرف چل پڑتے۔ جانوروں کی تجارت، ان کی خواتین کی بنائی دستکاریوں اور خشک میوہ جات کی فروخت سے حاصل ہونی والی رقم سے تازہ رسد خریدی جاتی۔ یہ طرز زندگی سینکڑوں سال سے ان کی سوچ اور لہو میں رچ چکا تھا۔۔۔لیکن اب یہ سب بدلنے والا تھا۔ نئی تہذیبی کروٹ سے ان کا یہ طرز حیات بدلنا اب ناگزیر ہو چکا تھا۔ ریاست کا تصور، ریاست سے وفاداری کا تصور، ایک قومیت کا تصور، خانہ بدوشی کی بجاے سکونتی رہائش کا تصور اور قبائلی وفاداری کی بجاے ریاستی بالادستی کا تصور۔۔۔یہ سب ان خاروطوں کے قدیم اور سادہ ترین۔۔۔سرحدوں کے بغیر زندگی گزارنے کے تصور کو پاش پاش کرنے والے تھے۔

یہ دباو بڑھ رہا تھا۔ ان کی قدیم اقدار اور طرز زندگی شاید اپنی منطقی عمر پوری کر چکے تھے اس لئے اب ان کی معدومیت لازمہ وقت بن چکی تھی۔ تصادم کی صورت میں انفرادی طرز فکر ریاستی طرز فکر کے مقابل ہمیشہ شکست کھاتا ہی ہے۔ نئے تصور حیات نے قدیم تصور حیات پر غالب آتا ہی رہا ہے۔ ایسا ٹکراو سوویت روس میں سامنے آیا( اس سے بھی پہلے براعظم امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا میں وقوع پذیر ہو چکا تھا۔ مترجم) پھر چند برسوں بعد یہ خانہ بدوشی چین اور ایران میں بھی معدوم ہو گئی۔

خزاں 1958 تک برٹش سامراجیت برصغیر میں مدت سے ختم ہو چکی تھی۔ اس لئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک غیر واضح سرحد پر فوجوں نے خانہ بدوشوں کی حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہوا تھا۔ پاوندے قبائل (آزاد قدم) کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی۔اس سال بھی خاروطوں نے موسم خزاں کے آتے ہی معمول کے مطابق افغانستان سے نقل مکانی شروع کر دی۔ ہر ‘کڑی’ جو کہ ایک سو خیموں پر مشتمل ہوتی اور اس سے ایک دن کے فاصلے پر دوسری ‘کڑی’ حتاکہ آخر تک سینکڑوں کڑیاں۔ اس سال بھی وہ کڑی در کڑی کاکڑ خوراسانی کی سرحدی بستی کی طرف بڑھنے لگے جہاں سے انھوں نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونا تھا۔ ہر ایک خیمہ کا مطلب تھا ایک خاندان۔ ایک خاندان کا مطلب ہوتا تھا میاں، اس کی بیویاں، ان کے مال مویشی، کتے حتاکہ ان کی مرغیاں بھی۔ ان کے کتے خاص رکھوالی والی نسل سے تھے۔۔۔بلکل ریچھ کی مانند جسیم اور خونخوار۔ ان کو صدیوں سے پالا جا رہا تھا اور ان کا نام ہی “کوچی نسل” پڑ گیا تھا۔۔۔یعنی خانہ بدوشی نسل۔

ایک خاندان کا مطلب تھا ان کے پاس بھیڑوں اور اونٹوں کا اچھا خاصا گلہ بھی۔ ایک کڑی کے جانور ایک ہی خاندان کے جانور سمجھے جاتے تھے جس کا مطلب تھا ہزاروں بھیڑیں اور سینکڑوں اونٹ۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جانوروں کو اکٹھا رکھنے کے ہر گز یہ معنی نہیں تھے کہ ملکیت مشترک تھی یا جانوروں کی انفرادی سطح پر شناخت مشکل تھی۔ کسی بھی جانور کا مالک بلکہ اس کا پانچ سالہ بچہ بھی بنا کسی ہچکچاہٹ اپنا جانور شناخت کر سکتا تھا۔ جبکہ جرنیل اپنے خاروط قبیلے کا بے تاج بادشاہ تھا۔۔۔البتہ ہر کڑی اپنا ایک سردار چن لیتی تاکہ باہمی مسائل کو قبیلے کی سطح پر ہی حل کر لیا جاے یا پھر جرنیل تک نمائندگی میں سردار ہی فرائض نبھاے۔۔۔یا پھر جرنیل کے احکامات کو ہر فرد تک پہنچایا جا سکے۔

ان کے پاکستان کے میدانوں کی طرف سفر کا دوسرا دن تھا۔ داوا خان کی کڑی شب بسری کے لئے پڑاو میں مصروف تھی۔ کالی اون کے خیمے۔۔۔جو کہ اطراف سے کھلے ہوتے تھے۔۔۔جگہ جگہ نصب کر دئیے گئے تھے۔۔۔یوں محسوس ہوتا تھا بڑے بڑے چمگادڑ زمین پر بچھے محو استراحت ہوں۔ جگہ جگہ جلائی جانے والی آگ سے اٹھتا دھواں بل کھاتا شام کی ہوا کے ساتھ اوپر اور جنوب کی طرف بہتا چلا جا رہا تھا۔
مرد حضرات اپنے لدو جانوروں سے سامان کے گٹھڑ اتار اتار کر خیموں کے گردا گرد ایک طرح سے دیواریں کھڑی کئیے جا رہے تھے۔ وہ سامان زیادہ تر خشک میوہ جات تھے، جو انھوں نے میدانوں میں جا کر بیچنا تھے۔ عورتیں یا تو اونٹنیوں اور بکریوں کا دودھ دھو رہی تھیں، اپنے بچوں کو دودھ چسا رہی تھیں یا پھر دیگر امور خانہ داری میں مصروف تھیں۔ صرف کتے ہی آرام کر رہے تھے۔۔۔انھوں نے اپنے دن کا کام مکمل کر لیا تھا۔ کارواں کے ساتھ سب سے متحرک اور چوکنی ڈیوٹی وہی کرتے۔ کارواں کے چاروں اطراف بھاگتے رہتے اور مال مویشیوں کو سفر کے رستے سے باہر نہ نکلنے دیتے۔ وہ اب چند گھنٹے کا آرام کر رہے تھے۔ انھیں پھر شب کی تاریکی میں زبردست چوکنا ہو کر رکھوالی کرنا تھی۔ داوا خان اپنے بیٹے کی مدد سے سامان کا آخری گٹھڑ بھی اٹھا کر اپنی سب سے جوان بیوی کے بستر کے قریب رکھ آیا۔ کھانا پکانے کی باری آج گل جاناں کی تھی (سب سے جوان بیوی) لیکن اس کی سوتنیں بھی اس کی مدد کر رہی تھیں۔ گل جاناں کا بیٹا رینگتا ہوا سوے ہوے کتے پر جا چڑھا۔۔۔وہی کتا جو گل جاناں جہیز میں ساتھ لائی تھی۔ گل جاناں نے پکتے گوشت کو تھوڑا چکھا اور تھوڑا پانی مزید ڈال دیا۔

اچانک کتے نے اپنے اوپر لیٹے بچے کو پرے جھٹک دیا اور خود پورا چوکنا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی پچھلی رانیں اور کمر تن گئیں اور گردن کے بال کھڑے ہو گئے۔ داوا خان اور اس کے بیٹے نے ادھر ہی دیکھا جدھر کتا دیکھ رہا تھا۔ انھوں نے دیکھا تیزی سے گرتی شام میں دو ہیولے ایک ٹیلے پر نمودار ہو رہے تھے۔ ایک سنہری اور عنابی چغے میں ملبوس دوسرا کالی داڑھی والا اس کے پیچھے۔ جرنیل اور کرنیل آج رات یہیں رکیں گے۔ ان کے لئے بھی کھانا تیار کرو۔ یہ کہہ کر وہ ان کے استقبال کے لئے ٹیلے کی طرف چل پڑا۔۔۔تو سو خیموں سے بھی مرد نکل نکل کر اس کے پیچھے چلنے لگے۔ ٹیلے کے نیچے انھوں نے دونوں کا استقبال کیا۔ چند منٹوں تک وہاں خوش آمدید اور دیگر استقبالیہ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور ایک شور کا سما رہا۔

پر جوش استقبال کے بعد جرنیل اور داوا خان کی سرکردگی میں قافلہ خاموشی سے خیمہ گاہ کی طرف چل پڑا۔ آہستہ آہستہ سواے چار کے سبھی مرد اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے۔ داوا خان کے خیمے میں خوب موٹا قالین اور نمدے بچھا کر سامان کے دو توڑے ایسے لگا دئیے گئے تھے جیسے کہ دو بڑے بڑے تکیے ہوں۔ سبھی مردوں نے جوتے اتارے اور خیمے میں بیٹھ گئے۔ سنہری اور عنابی چغے والا جرنیل اپنے اردگرد شناسا چہروں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہی چہرے جنہیں ان کے وقت پیدائش سے جانتا تھا اور اس سے پہلے ان کے باپوں کو بھی جانتا تھا۔ جرنیل بہت مذاق کے موڈ میں ایک گلمچھوں والے مرد کو دیکھ کر بتا کہ یہ اپنے بچپن میں اتنا بونا تھا کہ تیرہ سال کی عمر تک یہ اونٹ کی دم نہیں چھو سکتا تھا۔ پھر اس نے یک دم قد نکالا۔

جرنیل نے اسی گلمچھے کو مخاطب کرتے ہوے پوچھا۔ ” میں یہ کیا سن رہا ہوں؟ تم ایک خاروط کے خلاف حکومتی عدالتوں میں کوئی دعوی دائر کر رہے ہو؟” گلمچھے کا نام طوراق تھا۔ وہ بہت منمناتے ہوا بولا۔ “سردار! یہ دعوی ایک ایسے شخص کے خلاف ہے جو اب شہر میں جا کر بس گیا ہے۔ اب ہم اسے خاروط نہیں سمجھ سکتے۔ اس ذلیل آدمی نے میرے باپ کی موت کے بعد میری ماں سے شادی رچائی۔۔۔جس پر مجھے اعتراض نہیں۔۔۔لیکن اس نے میری ماں کی جہیز کی رقم مجھے ادا نہیں کی۔ سب سے بڑا بیٹا ہونے کے ناطے وہ رقم وصول کرنا میرا حق ہے۔۔۔جو اس نے مجھے ابھی تک ادا نہیں کی۔ جبکہ میری ماں مجھ سے متفق ہے۔

جرنیل نے اتفاق کرتے ہوے کہا۔ “بیٹے تم بلکل حق پر ہو۔ کوئی بھی مرد اپنی بیوی یا اس سے بننے والے خاندان کی عزت نہیں کر سکتا اگر وہ اس عورت کی قیمت ادا نہ کرے۔ لیکن تم اپنی رقم غیروں کے قانون کا سہارا لئے بنا بھی وصول کرسکتے ہو۔” تب جرنیل نے داوا خان کی طرف دیکھا۔ ” تم اس کی رقم وصول کرنے میں اس کی مدد کرو گے۔” داوا خان نے جواب دیا۔ ” یقیننا! ہم اس کی رقم ضرور لے کر دیں گے۔”
غروب آفتاب کے ساتھ ہی اندھیرا چھا گیا اور درجہ حرارت بھی یک دم نیچے گر گیا۔ خیمہ کے درمیان آگ جلا دی گئی اور سبھی مرد اس کے قریب قریب ہو گئے۔ خیمے میں ابلے گوشت کے طباق اور روٹی کے تھال آنے لگ گئے تو جرنیل بولا۔” داوا خان اس سال تمھاری کڑی سب قبائل سے آگے چلے گی۔” داوا خان ترنت بولا۔ ” جی جرنیل! جو حکم!”

“تم بے حد محتاط اور ہوشیار کر چلو گے۔ نہ ہی آپس میں نہ ہی قبیلوں کے درمیان جھگڑا ہو۔ اور ہاں! حکام سے بھی جھگڑا نہیں کرنا۔ مجھے اڑتی اڑتی خبر ملی ہے کہ حکام اس سال سفری کاغذات مانگیں گے۔ تم احتیاط سے اور تھوڑا سست رفتار چلنا۔ اس اثنا میں میں حکام اعلی کے دفتر جا کر کچھ خیر خبر لینے کی کوشش کروں گا۔ تم میرے ساتھ رابطے میں رہو گے۔ میں چند کڑیاں پیچھے درمیان میں رہوں گا۔ اچھا! تمھارے پیچھے کس کس کی کڑیاں آ رہی ہیں؟”

خیمے کی اوٹ میں گل جاناں اپنے ایک سال کے بچے کو دودھ چسا رہی تھی۔ ” میرے باپ اور اس سے پیچھے میرے بھائی عبداللہ خان کی کڑیاں ایک دن کے فاصلے پر ہمارے پیچھے ہیں۔ اور اس سے پیچھے نعمت خان کی کڑی ہے۔” جرنیل بولا۔” بہت خوب! میں چاھتا ہوں عبداللہ خان چوتھے نمبر پر چلا جاے اور نعمت خان تیسرے نمبر پر آ جاے۔ انھیں پیغام بھیج دو۔”

پھر جرنیل خیمہ سے اٹھا۔ وہ ہر خیمے کے پاس گیا۔ وہ ہر فرد سے بات کرتا جاتا۔ کسی شخص کی اس کے بیٹوں کے سامنے تعریف کرتا، کسی کی بندوق کو سراہتا، کسی ماں کی بچوں کے سامنے تعریف تو کسی جوان کے شجرہ نسب پر بات کرتا۔ وہ عورتوں سے بھی ہلکے پھلکے مذاق کرتا جاتا۔ حتاکہ اپنی پرپوتی کے خیمے میں بھی اس سے دوچار باتیں کیں۔۔۔جو کہ ابھی ابھی زچگی کے جان لیوا عمل سے گزر کر نیم بے ہوش پڑی تھی۔ وہ اپنے لوگوں کو خوش و خرم دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن آج اس نے محسوس کیا کہ فضا میں ہنسی مذاق کی مدھمتا تھی بلکہ اداسی کا عنصر نمایاں تھا۔ اسے افسوس ہونے لگا کہ جس افواہ کا ذکر اس نے داوا خان کے خیمے میں کیا تھا وہ افواہ سو کے سو خیموں میں پھیل چکی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ فورا واپس جاے اور پھر ادھر واپس آ کر بتاے وہ محض ایک افواہ ہی تھی۔ لیکن اب ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اس نے سوچا چلو انھیں کچھ دن اداس بھی رہ لینا چاھئیے ۔

غلام حسین غازی

جاری ہے
===============

SHARE

LEAVE A REPLY