پولینڈ کی پولیس نے جاسوسی کے الزام میں چین اور پولینڈ کے دو شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے، زیر حراست شخص چینی ٹیلی کام کمپنی اعلیٰ عہدیدار ہے۔

پولینڈ کے نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ چینی شہری چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی پولش برانچ کا ڈائریکٹر ہے، ہواوے کمپنی نے اعلیٰ عہدیدار کی گرفتاری پر فی الفور کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک کی جانب سے مذکورہ چینی ٹیلی کام کمپنی کی اشیاء پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

پولش میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گرفتار پولش شہری ’پیوٹر ڈی‘ پولینڈ کی داخلہ سیکیورٹی ایجنسی (اے ڈبلیو بی) کا سابق اعلیٰ عہدیدار تھا، جس نے بد عنوانی کے الزامات کے باعث اے ڈبلیو بی چھوڑ دی تھی لیکن اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

پولش سیکیورٹی سروس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کو تین ماہ تک حراست میں رکھا جائے گا۔

مقامی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی ایجنسی اے ڈبلیو بی نے پولینڈ میں واقع ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے دفتر اور اورنج پولاسکا پر چھاپہ مارکر سرچ آپریشن کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اورنج الاسکا وہ جگہ ہے جہاں پولش شہری ’پیوٹر ڈی‘ ملازمت کرتا تھا۔

چینی ٹیلی کام کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’جن ممالک میں ہماری برانچز کام کررہی ہیں ہم وہاں کے تمام قوانین و ضوابط کی پاسداری کرتے ہیں اور اپنے تمام ملازمین کو قوانین کی پاسداری کا کہتے ہیں‘۔

دوسری جانب اونج الاسکا کا جاری بیان میں کہنا ہے کہ پولش سیکیورٹی سروس کی جانب سے ’پیوٹر ڈی‘ کے بارے مواد جمع کیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ مواد اس کے پیشہ وارانہ کام سے متعلق ہے یا نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ، امریکا اور آسٹریلیا نے ہواوے کو اپنے 5جی موبائل نیٹ ورک میں شمولیت سے روک دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین ہواوے کے ذریعے اپنے حریف ممالک کی جاسوسی کے الزامات ہیں تاہم ہواوے کمپنی نے چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس کینیڈا میں ہواوے کمپنی کے بانی کی بیٹی اور چیف فنانشل آفیسر مینگ وینزوا کو یکم دسمبر کو کینیڈین شہر وانکوور سے حراست میں لیا گیا تھا جنہیں امریکا کے حوالے کرنے کا امکان ہے

SHARE

LEAVE A REPLY