جہان گم گشتہ کا عقاب،باب سوئم ۔۔“ اونٹوں کی موت “ ۔۔۔ چوتھی قسط
اگلے دن کارواں بظاہر واپس افغانستان کے راستے پر لگ گیا۔ پھر قصبے سے چند میل دور نکل کر اچانک انھوں نے اپنا سفر واپس پاکستان کے میدانوں کی طرف موڑ دیا۔ لگتا تھا ان کی چال کام کر گئی کیوں کہ کوئی ان کے پیچھے نہ آیا۔۔۔دو دن کے سفر کے بعد انھیں اپنے راستے پر فوجیوں کی ایک قطار رستہ روکے کھڑی نظر آئی۔ ” تم لوگ یہاں سے آگے نہیں جا سکتے۔ ہمارے پاس حکم نامہ ہے۔” سپاہیوں نے انھیں بتایا۔
پاوندوں نے پوچھا اگر ہم آگے جائیں گے تو پھر کیا ہو گا؟” ” اگر ضرورت پڑی تو ہم تمھیں گولی ماریں گے۔ احکامات بہت کلئیر ہیں۔” صوبیدار نے بے حد غمگین ہوتے ہوے بتایا۔ داوا خان نے جواب دیا۔ “ہمارے لئے بھی بہت مشکل ہے۔ اگر ہم واپس مڑے تو اگلے دو دن میں ھمارے جانور مر جائیں گے۔ ہمیں انھیں اگلے قلعے کے قریب چشموں پر سیراب کر لینے دو پھر ہم واپس چلے جائیں گے۔”
میں تمھیں ایسا نہیں کرنے دے سکتا۔ مجھے یہی آرڈرز ملے ہیں۔”
لیکن ہمارے جانور مر جائیں گے۔ مجھے امید ہے آپ انھیں پیاسا نہیں مرنے دیں گے؟”
“میں تمھیں پھر دہراتا ہوں کہ واپس چلے جاو۔ میرے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔”
“بہتر! ہم نے آپ کے بات سن لی اور آپ نے ہماری بات سن لی۔ ہم آج رات یہاں کیمپ لگائیں گے۔”
اسی رات کارواں اس فوجی قلعے کے پاس سے خاموشی سے گزر گیا۔۔۔اور اگلی صبح ہی قلعے کے انچارج کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ اب پاوندوں اور میدانوں کے درمیان حائل صرف ایک قلعہ باقی رہ گیا تھا۔۔۔اگر وہ اسے پار کر سکتے تو!!! صبح منہ اندھیرے ہی داوا خان کی کڑی قلعے کے سامنے پہنچ گئی۔ لیکن قلعہ میں بیٹھے فوجی ان کے لئے تیار تھے۔ جونہی انھوں نے جانوروں کے گلے میں بندہی گھنٹیوں کی آواز سنی انھوں نے روشنی کے گولے داغنے شروع کر دئیے۔
سپیکر سے ایک آواز ائی۔ ” واپس مڑ جاو یا پھر اپنی مرضی سے آگے بڑھو اپنے نقصان کے تم خود ذمہ دار ہو گے۔ آخری وارننگ ہے۔”
“ہمارے جانوروں کو پانی پلانے دو پھر ہم واپس چلے جائیں گے۔”
“اوہ! ہم تمھارے دھوکے میں نہیں آنے والے۔”
” ہم واپس پلٹ جائیں گے۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ ہمارے اونٹ پیاس سے مر رہے ہیں۔” داوا خان چلایا۔
“تم آگے نہیں آ سکتے ورنہ ہم گولی چلائیں گے۔”
عورتیں جملوں کا وہ تبادلہ سن رہی تھیں۔ گل جاناں نے زور سے چلا کر اپنے خاوند کو بتایا۔ ” داوا خان میں آگے جا رہی ہوں۔ اونٹ نہیں مرنے چاھیئں۔ میں سر پر قرآن رکھ کر جاتی ہوں۔ مجھے کچھ نہیں ہو گا۔” اس کے ساتھ تقریبا چالیس اونٹ سوار عورتیں بھی چل پڑیں۔ داوا خان بھی ساتھ پیدل ہو لیا۔ وہ ابھی کوئی پچاس گز ہی آگے گئے ہونگے کہ دو مشین گنوں کی باڑہ ائی۔ گولیوں کی باڑ نے انھیں دھن کر رکھ دیا۔ عورتیں، مرد اور بچے بمعہ اپنے اونٹوں کے مارے گئے۔ برستی گولیوں میں داوا خان بھی مرا پڑا تھا۔
پاوندوں نے دو بار مزید کوشش کی لیکن دونوں بار اونٹ مرتے رہے۔ تیسری ناکام کوشش کے بعد بچے کھچے پاوندے اپنے واپسی کے راستے پر لگ گئے۔ جب تک وہ فورٹ سنڈیمن پینچے سینکڑوں اونٹ اور دیگر جانور رستے کے کنارے مر مر کر گرتے رہے۔ جب تک وہ سرحد پر پہنچے ان کے تمام جانور مر چکے تھے
۔
لوگ بتاتے ہیں کہ پاوندوں کے جانے کے بعد مردہ اجسام کی بو نے فضا کو اس قدر مسموم کر دیا کہ فوجیوں کو قلعے چھوڑ کر دور پناہ لینی پڑی۔ لوگ بتاتے ہیں کہ مردہ اونٹوں کی وقت کے ساتھ ساتھ دھل کر بلکل سفید حالت میں مدتوں تک اس اندھی کھائی میں دکھائی دیتی رہیں۔ دنیا کے کسی مہذب انسان کی آنکھ سے آنسو نہ بہا نہ پریس میں یہ واقعہ کبھی رپورٹ ہوا۔ قدیم انسانوں کی ایک تہذیبی کڑی ٹوٹ کر ہمیشہ کے لئے معدوم ہو گئی۔
جرنیل اور اس کے بیٹے نے جب واپس شمال کی طرف سفر شروع کیا تو افواہیں ان کا پیچھا کرتی رہیں۔ وہ کہیں بھی محفوظ نہ تھے۔۔۔نہ شہروں میں نہ سڑکوں پر نہ گاوں میں نہ ہی ڈیروں پر۔ افواہیں اور ناموافق خبریں ان کے تعاقب میں تھیں۔ پشین میں انھیں، اونٹوں کے ایک تاجر نے بتایا۔” ناصریوں کو خوجک درے پر ہی دبا لیا گیا۔ ان کے ہتھیار رکھوا لئے گئے اور انھیں واپس افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔
شہر گلستان کے قریب ایک کنواں کھودنے والے نے بتایا کہ دوطائیوں کو میدانوں کے قریب دھر لیا گیا۔ ان کے سردار اب جیلوں میں ہیں۔ اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میری بیوی پر تین طلاقیں ہوں۔ اپنے دعوی کے ثبوت میں اس نے تین کنکریاں اٹھا کر باقاعدھ ایک ایک کر زمین پر گرائیں اور چلتا بنا۔ افواہیں تھیں کہ ختم ہی نہ ہوتی تھیں۔ لیکن باپ بیٹے نے سفر جاری رکھا۔ وہ اپنے آپ کو آپس میں عام موضوعات پر گفتگو میں مصروف رکھتے۔
” کیا کھانا کھاو گے؟”
“اب ہم آرام نہ کر لیں؟”
“حامد زئی لورا میں سیلاب آیا ھوا ھے۔”
“اولوں کا طوفان اس سال پوست کی فصل تباہ کر دے گا۔”
“سنا ہے اس سال اون کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔”
ایک شام جب وہ کھانے سے فارغ ہوے تو نائم خان برتن دھونے کے لئے اٹھا۔۔۔تب جرنیل خان نے اس کا بازو پکڑ کر روک لیا۔ “جب ہم افواہوں اور خبروں کے طوفانوں میں رستہ بناتے چلتے رہے تو تم نے کیوں مجھے نہ کہا کہ یہ خبر غلط ہوسکتی ہے۔۔۔یہ افواہ درست ہو سکتی ہے؟”
نائم خان بولا۔ ” کیوں کہ تم جرنیل ہو۔ تمھارے اندازے اپنے ہوتے ہیں۔ تمھیں کسی تحفظ کی ضرورت نہیں۔۔۔تم خود لوگوں کو پناہ دینے والے ہو۔”
کریم خان غور سے بیٹے کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر مسکراتے ہوے بولا۔” تم نے مجھے مایوس نہیں کیا۔۔۔اور نہ ہی کبھی کرو گے۔ آدمی کے پاس قوت ارادی کی کمی نہ ہو تو سو رستے نکل آتے ہیں۔”
جرنیل نے تھوڑی دیر مزید سوچا اور گویا ہوا۔” نائم خان تم زندگی کی پانچ بہاریں دیکھ چکے تھے تو میں تمھیں خاروطوں کے عظیم سردار پائندہ خان کے پاس لے گیا تھا۔ تب وہ اپنی زندگی کی سو سے اوپر بہاریں دیکھ چکا تھا۔ تم اسکی گود میں بیٹھے تھے۔ تم نے سوال کیا تھا، بابا ایک انسان اتنی لمبی زندگی کیسے جی سکتا ہے جتنی لمبی تمھاری عمر ہے۔ وہ زور سے ہنستا رہا پھر اس نے تمھارے سر کے اوپر سے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوے سنجیدہ لہجے میں کہا تھا بچے جو انسان کچا تلخ پہاڑی پیاز کھاتا رہتا ہے وہ لمبی عمر جی سکتا ہے۔” نائم خان نے سعادت مندی میں محض سر ہلایا۔ “تلخ کچے پیاز کا مطلب آج سمجھ لو۔ اس کا روز پائندہ خان کا مطلب تھا تلخ حالات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے جھیل جانا۔ کوئی بھی شخص لمبا جی سکتا ہے اگر وہ تلخ، گندی اور کڑوی اشیا کو حلق سے نیچے اتار جانے کے فن میں طاق ہو جاے۔ ہم، میں اور تم، ہمارے لوگ زندہ رہیں گے۔ کیوں کے ہم میں کم ہی ہیں جو تلخ پیاز نہیں نگل سکتے۔”
پاوندوں والے حادثات کے کچھ عرصہ بعد ہی غنچہ گل نے لڑکے اور ملاں کو قلعہ میں اپنے کمرے میں بلا بھیجا۔ اس نے انھیں بتایا۔” میں اب یہاں سے جا رہا ہوں۔ مجھے میرے فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اب میں واپس اپنے گھر جا کر وقت گزاروں گا اور میرے گھر اتنی جگہ نہیں کہ اپنے منہ بولے بیٹے کو ساتھ رکھ سکوں۔”
لڑکا غور سے بوڑھے صوبیدار کو دیکھتا رہا۔۔۔جو اس کے ساتھیوں کی پھانسی کے بعد اس کا محافظ بنا تھا۔ ملاں فورا بول پڑا۔ ” میں کچھ عرصہ سے اس بچے کی دیکھ ریکھ کر رہا ھوں۔ اس میں نایاب قسم کی ذہانت ہے۔۔۔اور مجھے یہ پسند بھی ہے۔ اگر یہ چاھے تو میرے ساتھ آ سکتا ہے۔ اللہ جہاں اپنے خزانوں سے مجھے رزق دیتا ہے، اسے بھی دے گا۔”
صوبیدار نے پوچھا۔” ملاں ‘باری’ تم ابھی جا رہے ہو؟”
“ہاں! میں اپنے دوروں پر دوبارہ نکل رہا ہوں۔ میں نے کافی وقت اس قلعہ میں گزار لیا ہے۔ اس لڑکے کے لئے پریشان نہ ہو۔ اس کے مقدر اس کے ساتھ ہیں اور وہی ہو گا جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے۔ تم اس کی طرف سے مطمئن ہو کر اپنے گاوں جاو۔”
وہ لڑکے کی طرف مڑا۔ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ” میرے ساتھ آو! اپنا سامان باندھ لو۔ ہم جلد ہی روانہ ہو جائیں گے۔”
لڑکا ملاں ‘باری’ کے پیچھے چل پڑا۔ رکا۔۔۔مڑا اور بولا۔ ” صوبیدار صاحب! خدا حافظ! ”
غنچہ گل نے جواب دیا۔”اللہ تمھارا نگہبان ہو!” غنچہ گل نے محسوس کیا لڑکے نے اسے باپ نہیں کہا تھا۔۔۔بلکہ کبھی بھی نہیں کہا تھا حالانکہ دو سال سے وہ اس کا محافظ تھا۔
ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں لڑکا اور ملاں قلعے سے روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ ہی دو ماہ قبل ملنے والا کتے کا پلہ بھی اچھلتا کودتا جا رہا تھا۔
صوبیدار قلعے کے ایک برج میں کھڑا انھیں جاتے ہوے دیکھتا رہا۔۔۔جب تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل نہ ہو گئے۔ اسے سخت مایوسی ہوئی کہ لڑکے نے ایک بار بھی مڑ کر نہ دیکھا۔۔۔نہ ہی اس قلعے کو دیکھا جہاں اس نے زندگی کے دو سال گزارے تھے۔ صوبیدار نے آہ بھری اور بڑبڑایا۔ “کیا ناشکری ہے!!!”
ملاں باری نے قلعے سے باہر آتے ہی پوچھا۔ ” لڑکے تمھاری کتنی ہو گی؟”
“میرے حساب کتاب سے مجھے سات سال کا ہونا چاہیے۔”
واااااھ! بہت ہی سعد شگون ہے۔ ہماری اسلامی تقویم کے مطابق آج ساتویں مہینے کا ساتواں دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو سات ایک مقدس عدد ہے؟ ایک ہفتے کے سات دن، سات آسمان، سات زمینیں۔ اسی طرح اللہ اور بندے کے درمیان سات پردے ہیں۔ اور انسان اور اسکی روح کے درمیان بھی سات پردے ہیں۔ لڑکے نے پریشان ہو کر کہا۔”میں یہ سب نہیں جانتا۔” یہ سب جانو۔ آج تمھارا ایک پردہ اٹھ گیا ہے۔ جوں جوں پردے اٹھتے جائیں گے تم اپنی شناخت کے قریب ہوتے جاو گے۔ لڑکا گھبراتے ہوے چلایا۔ “میں یہ سب نہیں جانتا۔” میں تمھیں سیکھاوں گا۔ پڑھاوں گا۔ ملاں باری نے وعدہ کیا۔ اسی گفتگو میں گم، دونوں ایک گھاٹی کا موڑ مڑ کر بوڑھے صوبیدار کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔
غلام حسین غازی
جاری ہے
=====================













