وینزویلا کے اپوزیشن رہنما خوآن گوآئیڈو نے خود کو ملک کا عبوری صدر قرار دے دیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ صدر نکولاس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ امریکا کی طرف سے فوری طور پر گوآئیڈو کی حمایت کا اشارہ دیا گیا ہے۔ نکولاس مادورو کے مطابق خوآن گوآئیڈو اور مظاہرین حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملکی فوج سے کہا ہے کہ وہ ملک میں نظم و ضبط بحال کرے۔ مادورو نے امریکا کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے امریکی سفیر کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

سیاسی انتشار کے حامل ملک وینزویلا کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ وینزویلین آبزرویٹری برائے سماجی تنازعات کے کوآرڈینیٹر مارکو پونس کے مطابق حکومت مخالف مظاہرین پر گولیاں چلانے سے کم از کم بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ پونس کے مطابق دارالحکومت کاراکس اور گرد و نواح میں مسلسل تین راتوں سے لوٹ مار کے ساتھ ساتھ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صدر مادورو سے درخواست کی ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق کا احترام کریں اور ریاستی جبر کے سلسلے کو ترک کریں۔ اس وقت اس ملک میں صدر نکولاس مادورو اور پارلیمنٹ کے نوجوان اسپیکر گوائیڈو کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شدت اختیار کر چکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY