حدیثِ پاک ہے جس کا مفہوم ہے “دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ ہم کتنے لا علم ہیں کہ بیج ہمارے پاس اعمال کی صورت موجود ہے دل ہمارے پاس زمین کی شکل میں ہے ضمیر ہمارے پاس کھاد کی شکل میں ہے لیکن ہم اس کھیتی کو اُگانے میں اتنے کاہل ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ۔ہم سب کو پتہ ہے کہ بدلہ اعمال کا ہی ملے گا لیکن پھر بھی ہم ظلم ڈھا کر بھی چین کی نیند سوتے ہیں ۔ہم ظالم کو سزا دینے میں کوتاہی بتتے ہیں ۔ہم کرپٹ کو آشکار کرنے میں وقت لگاتے ہیں ،ہم بے ایمانی کرنے والوں کو بچاتے ہیں ،بغیر یہ سوچے کہ ہم ان غلطیوں سے کتنی تباہیوں کو پیدا کرتے ہیں جانے ،انجانے میں ۔ کاش ہم سچائی سے محاسبہ کریں ۔کوش ہم بدل جائیں ۔۔۔
پچھلے دنوں ایک حادثہ ہوا ایسا حادثہ جسے سوچ کر بھی دل خون کے آنسو روتا ہے ۔لیکن ہم اس سے بھی زیادہ ازیت محسوس کرتے ہیں جب ہم اینکرز اور خبریں دینے والوں ۔حکومتی وزیروں اور با اختیار حضرات کو ایک ہی لائن میں کھڑا دیکھتے ہیں ۔ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی چوراہے پر کھڑے ہیں اور سمجھ نہیں آرہا کہ کونسا راستہ ہمیں منزل پر لے جائیگا ،جو کچھ ہوا اس پر صبر صرف یہ سوچ کر آتا ہے کہ اللہ کی مرضی تھی جسے جس طرح اپنے پاس بلا لے ۔ورنہ کوئی بھی بات کوئی بھی عمل اس واقعے کے کرتا دھرتا لوگوں کو چھوڑنے کی طرف زرہ برابر بھی مائل نہیں کرتا ۔یہ پولیس یہ ادارے جن سے ہمیں اپنی حفاظت کی توقعہ ہوتی ہے جب وہ ہی قاتل بن جائے تو پھر کیا کریں ۔لیکن اُس وقت اور بھی ازیت ہوتی ہے جب اچھے خاصے تجربہ کار اینکرز ایسی بے حسی دکھاتے ہیں کہ بس بندہ شرم سے سر جھکا کر رہ جائے ۔معصوم بچوں سے ایسے سوالات جو سُن کر ہی حیرت ہوتی ہے کہ کیا پوچھ رہے ہیں ؟ ایک اختلاف ہمیں ہمیشہ رہا کہ جس گھر میں حادثہ ہو جائے اور وہ بھی اتنا اندوہناک حادثہ وہاں پہنچ کر انہیں ساری دنیا کے سامنے بات چیت کرنے پر مجبور کرنا کسی صورت بھی اخلاقیات میں نہیں اآتا کسی بھی مہزب ملک کا میڈیا ایسی حرکتیں کرتا د کھائی نہیں دیتا نہ ہی کوئی وزیر کسی قسم کے بے کار بیانات دیتا نظر آتا ہے ۔یہاں بھی کوئی پالیسی بنائی جانی چاہئے ۔کہ جب تک حالات کا بہ خوبی پتہ نہ چل جائے کوئی عہدے دار میڈیا سے بات نہیں کرے گا ۔کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ کہنے سے تو ہمارے بڑوں کی تضحیک ہوتی ہے شاید کہ ابھی ہمیں کچھ نہیں پتہ رپورٹ آنے دیں ۔اگر اسی بات پر عمل کر لیں تو شاید اس قدر شرمندگی جو سب کو اُٹھانی پڑتی ہے اُس میں کمی آجائے ۔
ہمیں لگتا ہے کہ اصلاحات بہت ضروری ہیں لیکن اُن شعبوں کا تعین کیا جائے کہ کون کون سے شعبے سب سے پہلے بدلنے کی ضرورت ہے ،ورنہ کیا فرق رہے گا آپ کی حکومت اور پچھلی حکومت میں ۔کہیں تو خود کو طاقتور دکھائیں ۔کیا یہاں حکومت خود فیصلہ نہیں لے سکتی کہ ایسی کالی بھیڑیں جو ان اداروں میں براجمان ہیں انہیں نکال باہر کرنا چاہئے ۔کہاں ہاتھ بندھے ہیں ؟؟ یا تو یہ بات سب کے سامنے لے آئیں تاکہ آپ کی معزوری پتہ چل جائے کہ آپ کہاں کہاں کس کس سے خائف ہیں اور اگر نہیں تو کھُل کر اپنے ایجنڈے پر عمل کریں پولیس کو بہتر کریں اور اسے عوام دوست اور جرم دشمن بنائیں ۔اگر اس دور میں بھی آپ یہ نہ کر سکے تو پھر نہ نون برا ہے نہ پی پی پی سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہونگے ۔ضروری ہے کہ اب ملک کی عوام پر توجہ دیں انہیں اس تکلیف سے نکالیں کہ وہ محفوظ نہیں ہیں ۔پولیس کو اتنی تنخواہیں دیں کہ وہ رشوت کی طرف مائل نہ ہوں ۔انہیں یہ عزت دیں کہ وہ لوگوں کی عزت کریں ۔انہیں یہ تربیت دیں کہ لوگوں سے کس طرح ڈیل کرنا ہے ۔
ہمیں یہ ڈر لگتا ہے کہ جو جو پارٹیاں حکومت میں شامل ہیں وہ کہیں اپنی بات منوانے کو حکومت کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں ۔ہمیں یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ جب آپ پاکستان کو بنانے کے لئے اُسے سدھارنے کے لئے ساتھ دیتے ہیں تو وزارتیں اور آپ کے مفادات اہم کیسے ہو جاتے ہیں ؟؟ کیوں ہمارے یہ لوگ جو سیاست دان کہلاتے ہیں اُن موقعوں پر سیاست کھیلتے ہیں جب ملک کو اشد ضرورت ہوتی ہے اتحاد کی ،ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ۔ جب حکومت بن رہی تھی تو سب نے ہاتھ ملا لئے تھے اور اب نہ قاف قابو آرہی ہے نہ ایم کیو ایم ۔نہ دوسری چھوٹی جماعتیں ۔مسائل بہت ہیں حب کرتے کرتے وقت لگے گا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو آپ کی ڈیمانڈ تھی اُسے فورا` پورا کر دیا جائے ۔کوش ملک میں اتنی طاقت ہوتی وزیرِ اعظم کو ڈیفالٹ ہونے سے بچنے کے لئے مشکل نہ ہوتی تو بھی کچھ کیا جاسکتا تھا ۔لیکن جب ملک کے حلات سب کے سامنے ہیں تو تھوڑا صبر بھی لازم ہے ۔
ایک اصلاحات کا پیکج آیا بہت اچھی بات ہے ۔اپوزیشن مانے نہ مانے لیکن صنعت کو بڑھاوا ملنا چاہئے ۔ساتھ ہی ساتھ اگر ٹٰیکس کے فارم پر بھی نظرِ ثانی کر لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ترقی پزیر ممالک میں اسٹوڈنٹ بھی ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں ۔یہ اس لئے بھی کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس نظام کو سمجھیں بھی اور اس کے ادا کرنے کی طرف راغب بھی ہوں ۔اس لئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا ٹیکس نظام بنائیں جس میں شرح کو ایک خاص فیصد تک رکھ کر جو اس قابل ہو کہ سب ہی ٹیکس دے سکیں اور اس کا طریقہ آسان کر دیں ۔یقین جانیں کہ ٹیکس سب دیں گے لیکن آپ کہیں کوئی آسانی تو پیدا کریں ۔وزیرِ اعظم خود تمام دنیا دیکھے ہوئے ہیں انہیں کچھ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر ایک نظر ان باتوں پر بھی کر لینگے تو فائدہ ہوگا ۔
کراچی سے تجاوزات ہٹائ جارہی ہیں ،بات اب اُن گھروں اور بلڈنگوں تک آگئی ہے جو غیر قانونی بنائی گئی ہیں ۔یعنی رہائشی گھروں کو بلڈنگوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے یہ تکلیف دہ بات تھی لیکن جب ایک پارٹی کی اجارہ داری تھی اور چائنا کٹنگ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی تھی ،جب پارکوں پر قبضے کئے گئے تھے ،جب ندی کی زمین بھی بیچ دی گئی تھی ،جب اسٹیڈیم کے قریب بھی شادی ہال بنا دئے گئے تھے جب کسی حکومت نے کچھ نہیں سوچا ۔آج جو لوگ اس مشکل کا شکار ہیں اُس کے زمے دار سندھ حکومت اور اس کے وہ ادارے ہیں جنہوں نے سوسائٹی سے لے کر ملیر تک رہاشی گھروں کو بلڈنگوں میں تبدیل کر دیا ۔ٹیوشن سینٹرز بنا دئے کوچنگ سینٹر بنا دئے ہر گھر میں اسکول کھول دیا ۔راستے چلنے کے لئے نہیں رہے بلکہ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسنے کے لئے ہو گئے ۔سڑکیں بند ہو گئیں پیدل چلنے کا تصور تک ختم کر دیا گیا ۔کیونکہ جس طرح گاڑیاں قطار در قطار چلتی ہیں ان کے درمیان سے گزرنا بھی ایک کارِ دارَد ہے ۔
۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اتنے رہائشیوں کو انکے گھروں سے اُن کے فلیٹوں سے کس طرح نکال باہر کیا جائیگا کیونکہ گھر لیتے وقت یا فلیٹ خریدتے وقت یہ تو کسی کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ بلڈر اُن کے ساتھ کیا دھوکہ کر رہا ہے ۔ ہمیں تو یقین جانیں ان تمام باتوں کو سُن سُن کر ایسا لگتا ہے کہ اس چوراہے سے کوئی بھی رستہ منزل کی طرف نہیں جائیگا اگر ہم نے قانون نہ بنائے ۔اگر ہم نے سخت سے سخت فیصلے آگے کے لئے نہ لکھے ۔ہم جتنا اس ملک کی معصوم قوم سے کھیلے ہیں شاید ہی کہیں اس کی مثال ملے ۔
لیکن نا ممکن کچھ بھی نہیں دیر ہو گئی مگر ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے بس ضرورت ہے سخت فیصلوں کی عوامی فیصلوں کی غریب کی داد رسی کی اور اُن سب کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی جنہوں نے یہ ظلم ڈھائے ۔۔
ہماری استدعا ہے جناب وزیرِ اعظم صاحب سے کہ ایک کَپ قوم سے بھی لے لیں کہ آپ نے سخت اقدامات کر کے عوام کے دل جیت لئے ہیں ۔ان حادثوں کے زمے داروں کو خود سزائیں دیں تاکہ پھر کوئی رائو انوار کوئی ۔باکسرپیدا نہ ہو پولیس میں ، کوئی جعلی مقابلہ ملک میں نہ ہو ۔ماڈل ٹاؤن کے مظلوم بھی منتظر ہیں سب چوراہے پر کھڑے ہیں کہ کون سا رستہ منزل کی طرف لے جائیگا ۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے ۔اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن فرمائے آمین
ہم چوراہے پر کھڑے ہیں,عالم آرا
702
0












