کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے،علی شاذف

1
1730

یہ 2008 کی بات ہے. میری زوجہ ان دنوں حاملہ تھیں. ہم دونوں اپنی پھٹیچر یاماہا پر روزانہ ہسپتال ڈیوٹی کرنے جایا کرتے تھے. مجھے موٹر سائیکل چلانا نہیں آتی. وہ اس لیے کہ مجھے اس سواری سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا اور میں ڈرائیو کرتے ہوئے ہمیشہ نروس رہتا تھا. میری بیوی میرے پیچھے بیٹھی ہوتی تو میں اور بھی زیادہ نروس ہو جاتا. ایک دن ہسپتال جاتے ہوئے بیگم صاحبہ نے مجھ سے کہا کہ آج آپ بہت اچھی ڈرائیو کر رہے ہیں. ان کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ اچانک ہماری بائیک کے سامنے ایک سائیکل والا آ گیا. اس کو بچاتے بچاتے میں نے اپنی موٹر سائیکل کا توازن کھو دیا اور ہم دونوں اپنی پھٹیچر یاماہا کے ساتھ نیچے گر گئے. میرا بیٹا فوزان پیٹ میں تھا. ہم تینوں اس حادثے میں محفوظ رہے لیکن اس سواری سے شدید خوفزدہ ہو گئے.

محرم کا مہینہ شروع ہونے والا تھا. اہل تشیع محرم میں سوگ کی وجہ سے نئے ماتمی کپڑوں کے سوا کوئی اور نئی چیز نہیں خریدتے. ہم دونوں نے فوراً نئی کار لیز پر لینے کا منصوبہ بنایا. ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود بینک سے گاڑی نکلواتے نکلواتے یکم محرم آ گیا. میری والدہ ہم دونوں سے شدید ناراض ہو گئیں کہ محرم میں نئی گاڑی خرید لائے. لیکن آہستہ آہستہ جب انہوں نے دیکھا کہ مجالس میں آنے جانے کے لیے گاڑی کی وجہ سے بہت سہولت ہو گئی ہے تو ان کی خفگی بھی دور ہو گئی. ہم دونوں بھی اب کار میں ہسپتال جانے لگے.
ایک دن میں گھر کی کوئی چیز خریدنے گاڑی پر بازار گیا. چونگی نمبر چھ کے قریب بوسن روڈ پر میں نے اپنی گاڑی ایک خالی جگہ دیکھ کر پارک کر دی اور ایک دکان میں چلا گیا. میں خریداری کے بعد دکان سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ہماری نئی نویلی گاڑی کو ایک لفٹر لے کر جارہا تھا. میں لفٹر کے پیچھے بھاگا. لفٹر والا بھائی باہر نکلا تو میں نے کہا بھائی آپ نے میری گاڑی کیوں اٹھائی. انہوں نے کہا آپ نے گاڑی غلط جگہ پارک کی ہوئی تھی. میں نے کہا کہ وہاں تو اور بھی بہت سی گاڑیاں اور موٹرسائکلیں کھڑی ہیں اور وہاں کوئی نو پارکنگ کا بورڈ بھی نہیں لگا ہوا، آپ یا تو سب گاڑیاں اٹھائیں یا میری گاڑی نیچے اتاریں. میرے اس طرح بولنے پر ٹریفک کا عملہ غصے میں آ گیا اور میری گاڑی لے کر وہاں سے چلا گیا.

جس کے پاس اختیار ہوتا ہے
وہ سمجھتا ہے بس خدا ہوں میں

میں شدید مایوسی کے عالم میں گھر چلا آیا. سب نے پوچھا کہ گاڑی کہاں ہے. میں نے بتایا کہ پولیس لے گئی. کسی نے مشورہ دیا کہ آپ سیدھے چیف ٹریفک آفیسر کے پاس چلے جائیں. میں ان کے پاس گیا اور سارا احوال سنایا. انہوں نے میری آپ بیتی سن کر کہا کہ ساری غلطی آپ کی ہے اور آپ الٹا ہمیں قصور وار ٹھہرا رہے ہیں. میں نے اس کے بعد بیوروکریسی کی خوب برائیاں کیں اور ان کو کھری کھری سنائیں کہ آپ لوگ وی آئی پیز کو نہیں پکڑتے اور آپ کا ہر قانون ہم غریبوں کے واسطے ہے. میں نے ان سے کہا کہ میں ڈاکٹر ہوں اور پی ایم اے اور پریس کے پاس جاؤں گا اور ان سے آپ کی شکایت کروں گا. انہوں نے مجھے “گیٹ آؤٹ” کہہ کر باہر نکال دیا.

وہاں سے میں سیدھا نشتر ہسپتال ملتان کے پیڈز سرجری وارڈ میں پہنچا. وہاں پی ایم اے کے ایک عہدیدار اور ہمارے اچھے دوست کاشف چشتی اس وقت سینیر رجسٹرار تھے. میں نے انہیں اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سنایا. انہوں نے توجہ سے میری بات سنی اور سیاسی انداز میں مجھے سمجھایا کہ جا کر سی ٹی او سے معافی مانگ لو، گاڑی مل جائے گی. وہاں سے مایوس ہو کر میں ابدالی روڈ پر واقع پریس کلب چلا گیا. وہاں موجود ایک سینیر صحافی سے میں نے عرض کی کہ مجھے ایک افسر کے خلاف شکایت کرنی ہے. ان صاحب نے مجھے ایک کاغذ دیا کہ اس پر لکھ دیں. میں نے اپنی بپتا کاغذ پر تحریر کر کے ان کے حوالے کر دی. وہ صاحب کہنے لگے یہ ٹریفک افسر جن کے خلاف آپ نے یہ لمبی چوڑی کہانی لکھ دی ہے اپنے نام کی طرح بہت شریف النفس اور ایماندار آدمی ہیں اور ہمارے شہر کا مان ہیں. علاوہ ازیں یہ ایک شاعر اور ادیب بھی ہیں اور انتہائی نفیس انسان ہیں. انہوں نے مجھے نصیحت کی کہ آپ ابھی نوجوان ہیں اس لیے جذباتی ہورہے ہیں. دراصل آپ سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں، آہستہ آہستہ سب سمجھ جائیں گے. آج میں ان کی نصیحت یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں سمجھ تو گیا ہوں لیکن سیکھ نہیں سکا.

بیگم صاحبہ نے مجھے مشورہ دیا کہ ہم دونوں اکٹھے سی ٹی او کے دفتر میں چلتے ہیں اور ان سے معذرت کرتے ہیں. میں خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا تھا. پانچ دن گزر چکے تھے اور ہم نہیں جانتے تھے کہ ہماری گاڑی کہاں ہے اور کس حالت میں ہے. میں نے بیگم کی بات سے اتفاق کیا اور ہم دونوں سی ٹی او کے دفتر جا پہنچے. میں نے ان سے معذرت کی اور انہیں بتایا کہ گاڑی ہمارے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے بغیر ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے. ہم دونوں ان کے سامنے باادب کھڑے تھے اور وہ اس بات پر بہت فخر محسوس کر رہے تھے. انہوں نے ہمیں باہر کسی کلرک کے پاس بھیج دیا. باؤ جی نے ہمارا چالان کاٹا اور پیسے وصول کیے. اس کے بعد انہوں نے ہمیں بتایا کہ گاڑی کینٹ تھانے میں کھڑی ہے. اگلے دن میں کینٹ تھانے پہنچا تو انہوں نے مجھے اگلے دن آنے کے لیے کہا. میں دوسرے دن پھر کینٹ تھانے پہنچا تو وہاں میری ملاقات ایک تھانیدار صاحب سے ہوئی. انہوں نے سی ٹی او کی خوب برائیاں کیں کہ وہ بس نام کا شریف ہے اور اس نے شہریوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے وغیرہ وغیرہ. میں نے کہا، سر وہ گاڑی….. انہوں نے کسی سپاہی کو میرے ساتھ بھیجا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو ان کی گاڑی دے دو. میں نے تھانیدار صاحب کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے گاڑی لے کر اپنے گھر پہنچا. میری گاڑی سات دن تک تھانے میں کھڑی رہی. سب نے کہا شکر بھیجو کہ گاڑی تمہیں محفوظ حالت میں واپس مل گئی. اس واقعے کے بعد بھی ایک دو بار لفٹر نے ناجائز طور پر میری گاڑی اٹھائی لیکن میں نے چپ چاپ چالان کٹوا کر اتروا لی.

سی ٹی او “شریف” مجھے ہمیشہ یاد رہے گا. اس کے علاوہ بھی میرا واسطہ زندگی میں بہت سے بیوروکریٹس سے پڑا لیکن شدید گرمی میں اس شریف آدمی نے جو میری درگت بنائی وہ ناقابل فراموش ہے. یہ پولیس والے، بیوروکریٹ اور فوجی افسر میرے پاس اب اپنے بیمار بچے لے کر آتے ہیں تو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات ہمیشہ یاد کرتا ہوں لیکن کوشش کرتا ہوں کہ ان بچوں کا علاج کوئی تعصب برتے بغیر پیشہ ورانہ انداز سے کروں. پھر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میں تو ایک پڑھا لکھا مڈل کلاس ڈاکٹر ہوں، نچلے طبقے کے ساتھ افسر شاہی کیسا سلوک کرتی ہے؟ یقیناً اس سے بھی بہت بدتر. آپ رات کو کسی تھانے کے پاس سے گزریں تو غریبوں کے کولہوں پر پڑنے والے چھتر اور ان بدحالوں کی چیخیں آپ کو ان کا سارا احوال سناتی ہیں.

یہ معاشرہ امیروں کے لیے بنایا گیا ہے. یہاں سارے قانون صرف اور صرف غریبوں کے لیے ہیں. غریبوں کا خون چوسنے والے سرمایہ دار یہاں پورے پروٹوکول کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی ان سے سوال نہیں کرتا. مجھ جیسے لوگ کم سے کم آواز تو اٹھا سکتے ہیں، ان مظلوموں کے منہ سے تو احتجاج کا ایک لفظ تک نہیں نکلتا. یہ لوگ گلیوں کے آوارہ بےکار کتوں کی طرح ہر ظلم چپ چاپ سہتے رہتے ہیں. یہاں کوئی نہیں ہے جو ان کو احساس ذلت دلا دے. یہاں کو نہیں ہے جو ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے.

(علی شاذف)

SHARE

1 COMMENT

  1. یہ معاشرہ امیروں کے لیے بنایا گیا ہے. یہاں سارے قانون صرف اور صرف غریبوں کے لیے ہیں. غریبوں کا خون چوسنے والے سرمایہ دار یہاں پورے پروٹوکول کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی ان سے سوال نہیں کرتا. مجھ جیسے لوگ کم سے کم آواز تو اٹھا سکتے ہیں، ان مظلوموں کے منہ سے تو احتجاج کا ایک لفظ تک نہیں نکلتا.

LEAVE A REPLY