پینڈورا پیپرزمبینہ طور پر جن کی تعداد لاکھوں میں بیان کی جارہی ہے کے ذریعہ چھپائے گئے اثاثے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں ایک ہجانی کیفیت پیدا ہوئی ہے ۔ایسے میں عام لوگوں کے ذہنوں میں جو فوری سوالات سننے میں آرہے ہیں وہ یہ ہی ہیں کہ اب کیا ہوگا اور کیا ہونا چاہیے۔
پہلے تو پہ جان لیں کہ آف شور کمپنی یا کمپنیاں بنانا دنیا میں قانونی طور پہ درست قرار دی جاتی ہیں ۔ان کپمنیوں کا مالک بینی فشری اونر کہالتا ہے اس کے لیے برٹش ورجن آئر لینڈ۔ سنگاپور ۔پانامہ اور سویزرلینڈ جیسے ممالک سہولت کاری میں پیش پیش ہیں ۔ ان ممالک میں آف شور کمپنیاں بنانے اور چلانے کے پیچھے کچھ محرکات ہیں ۔سب سے پہلے یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ ان ممالک میں ٹیکسوں کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں ۔اور قانونی طرح سے ان فرموں کے ذریعہ خریو فروخت میں کم شرخِ ٹیکس نافذ ہوتی ہے دوسری اہم ترین سہولت ہے راز داری یعنی آف شور کمپنی کے قیام کے لیے کریڈٹ کارڈ۔اور دوہزار ڈالر درکار ہونگے جس کے ذریعہ اکاونٹ یعنی کمپنی کھولی جا سکے گی تیری اور آخری سہولت ہے قانونی تحفظ ۔آسان زبان میں یوں سمجھیں کہ اگر کوئی انفرادی شخض آف شور کمپنی قائم کر رہا ہے تو وہ اس فرم کا ایک سبسٹری یعنی پیسہ اگرچہ وہ ایک کمپنی کو دے رہا ہے مگر وہ اس پیسے کا استعمال بطور بینی فشنلی اورنرکی حیثیت میں مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اور نظام پیچیدہ کوڈ سسٹم کے ذریعہ سے اتنا محفوظ ہے کہ اس اس آف شور کمپنی کے قیام کے وقت فراہم کردہ بنیادی معلومات اسی وقت کوڈ کر دی جاتی ہیں تااہم یہ رقم آذادی کے ساتھ نکالی ۔ٹرانسفر کی جاسکتی ہے اسی طرح جیسے کہ ATM سے رقم وصول اور ٹرانسفر کی جاتی ہے اور سہولت مبینہ طور پر دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کی ٹرانزکشن فراہم کرنے والی کپنیاں ہیں جوکہ آپس میں لنک کی سہولت کاری کے لیے مخصوص ہیں۔اس آسان مثال یہ ہے کہ آپ کسی بھی بینک کے ATM لنک سے کسی بھی بینک کا لین دین کر سکتے ہیں 24/7.جو کہ ایک کارڈ اور چار ڈیجٹ پہ مشتمل کوڈکے سہارے؛ ۔اس کوڈ کو کسی وقت تبدیل بھی ATM مشین پہ کیا جاسکتا ہے ۔ چونکہ دنیا کی معیشت کا انحصار ڈالرز کرنسی پہ ہے اس لیے ڈالرز میں ہی یہ کمپنی لین دین کرتی ہے تااہم مبینہ طور پر برطانیہ میں یہ پاونڈ اسٹرلنگ میں بھی سہولت موجود ہوتی ہے جوکہ آرٹی فیشل انٹیلجنس کے ذریعہ پروگرامنگ کی سہولت سے خودکار طریقہ سے ذریعہ مطلوبہ مقامی کرنسی میں تبدیل کر دیتی ہے ۔
اب آتے ہیں اس سوال کی جانب کہ اب کیا ہوگا اور اب کیا ہونا چاہیے
آف شور کمپنیوں میں سامنے آنے والے ناموں میں عمومی طور پر تین طرح کے لوگ ہیں
١،سرکاری ملازم / پرائیویٹ ملازم
٢،عوامی نمائندے
( عوامی نمائدوں کے لیےاینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ایک اور اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے PEP
پولٹیکل ایسپوز پرسنز)
٣،کاروباری افراد
سرکاری ملازمین پرائیویٹ ملازمین خواہ وہ سول سروس سے ہوں یا آرمڈ فورسز سے وہ ملازم ہی کہلاتے ہیں جن کی آمدن کی تفصیلات مکمل دستاویزی ہوتی ہیں اور قوانین کے مطابق ٹیکس ایٹ سورس کی کٹوتی کے بعد ان کے اکاونٹس میں موجود دولت حسابی صورت میں کسی بھی وقت تصدیق کی جاسکتی ہیں۔۔
عوامی نمائندے ۔الیکشن کے ذریعہ منتخب ہوکر آنے والے افراد جو الیکش کمشن میں اثاثے ظاہر کرتے ہیں ۔ان کے وہ ذرائع ہی مصدقہ شمار ہوں گئے جو ٹیکس رٹرن میں بھی ظاہر کیے گئے ہوں دیگر اثاثے قابل گرفت شمار کیے جاتے ہیں
تیسری طرز کے افراد وہ ہیں جو تجارتی سرگرمیوں میں شمار کیے جائیں گئے اگرچہ وہ ڈرگ مافیا ۔زرعت یا کسی بھی قسم کی خدمات خواہ وہ قانونی یا غیر قانونی ہوں سے منسلک ہوں ۔ان میں عمومی طور پر میڈل مین جیسی کرایہ کی خدمات سرانجام دینے والے لوگ ہوتے ہیں ۔جن کی مصروفیات تو بہت متحرک ہوتی ہیں مگر مصدقہ اور دستاویزی نہ ہونے کے باعث قابل گرفت نہیں ہو پاتی ہیں
ایسی صورت حال میں بغیر رسید کے امور نہائیت اعتماد اور امانت داری سے انجام پاتے ہیں کہ کان وکان کسی کو خبر نہیں ہوتی جسے عام طور پر نادیدہ ہاتھ کہا جاتا ہے ۔اور ان پہ ہاتھ ڈالنا یا قانون کی گرفت میں لانا بہت مشکل ہی نہیں بعض حالات میں نہ ممکن بھی ہوتا ہے۔ اسی بنا پر یہ قانون کی خامیوں اور قانون ہی کے سہارے گرفت میں نہیں آتے ہیں
پینڈورہ پیپر یا پانامہ لیک ہو ان میں آنے والے افراد کے وہ لوگ جو اپنے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں ان کے علاوہ سبھی کوگوں سے ان اثاثہ جات کا سورس پوچھا جانا لازمی امر ہے ۔
اگرچہ حکومت نے پینڈورہ پیپرز میں ایکسپوز ہونے والوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔مگر بلی کے گلے میں کون گھنٹی باندھے گا ؟ یہ وقت ہی بتائے گا
سید ناظر کاظمی













