عمر ِ ارذل جسے ہم بھول گئے ہیں؟۔۔۔شمس جیلانی

0
965

عمر ارذ ل کا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خاص طورسے قرآن کی دو آیتوں میں بیان فرمایا جن کاذکر سورہ یٰسین کی آیات نمبر68 میں اور سورہ روم کی آیت نمبر54 میں ہے؟ جس میں عقلمندوں کے لئے اپنی قدرت بیان فرمائی ہے؟ ً|مہیں اس کا یقین نہیں ہے کہ میں تمہیں دوبارہ حساب کتاب کے لیئے زندہ کرونگا جب کے اس سے مشکل کام تم میرے ہاتھوں روز ہوتے ہوئے دیکھتے ہو کہ ایک بچے کو میں پیدا کرتا ہوں بتدریج آہستہ آہستہ میں جوانی تک پہنچاتا ہو پھرایک دن آتا ہے تو یہ ہی بچہ جوان ہوکر مجھ سے جھگڑ نے لگتا ہے اپنی طاقت کے نشہ میں ً”پھر دیکھتے ہو کے وہ تنومند نوجوان ایک عمر تک پہنچ کر اپنی ان صفات میں جو میں نے بھر پور طریقے سے اس کو عطا کی تھیں اب ان میں ضعف آنا شروع ہوجا تا ہے جو کہ اس کو محسوس ہونے لگتا ہے تب وہ ڈاکٹروں کے پاس جاکر ڈیرہ ڈال دیتا ہے اس کا دل رکھنے کو ڈاکٹر کچھ دنوں تو کوشش کرتے ہیں اس کے بعد وہ بھی جواب دے دیتے ہیں اور اپنی مجبوری کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ یہ تمہاری عمرکا تقاضہ ہے؟ پھر یہ جواب اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک موت کا فرشتہ آکر روح نکال کر نہیں لے جاتا ہے؟ اس سے یا اس کے عزیز اقارب سے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب اس کے مزید جینے کی امید نہیں رہی بہتر یہ ہی ہے کہ گھر لے جا ؤاور وہ اپنے بقیہ دن انتہائی بے بسی اور بے کسی،کسمپرسی کی حالت میں بسرکرتا ہے کبھی جن بچوں کو اس نے اپنے ہاتھوں سے بڑے نازوں سےپرورش کیا تھا اب وہ خود اپنے ہر کام کے لیئے ان ہی بچوں کا رہیں منت ہوتا ہے نہ اسکی یادداشت کام کرہی ہوتی نہ ہاتھ پاؤں کام کر رہے ہوتے ہیں، نہ نظر کام کر رہی ہوتی حتیٰ کہ پیشا ب اور پیخانہ تک وہی بچے بستر پر کراتے ہیں یا بچے ہاتھ پکڑ بیت الخلا ء لے جاتے ہیں یہ ہمارے سب کے روز مر ہ کے مشاہدات ہیں جوکہ روز دیکھنے کو ملتے ہیں؟ لیکن اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا؟ ترقی یافتہ ممالک تو جن میں اکثر فلاحی نظام ہے ان کے اسپتالوں میں ایسے وارڈ ہوتے ہیں جن میں وہ ان کی موت تک ان کو مہمان بنائے رکھتے ہیں جن میں زیادہ تر اس حالت میں میں ہوتے ہیں کہ کسی کا ہاتھ غائب ہے تو کسی کا پیر غائب ہے لیکن جو فلاحی مملکت نہیں ہیں جن میں سارے مسلم ممالک شامل ہیں جنہوں نے دنیا کو کبھی فلا حی نظام دیا تھاوہ کسمپرسی کی حالت میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہاں بھی باقائدہ بھیک منگوانے والوں کے گروہ ہیں جو انہیں رہائش اور کھانا پینا مفت فراہم کرتے ہیں وہ جوکچھ کماکے لاتے ہیں شام کو وہ ان کی جیب میں چلا جاتا ہے جس میں پولیس کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ رہے ایدھی جیسے ادارے وہ کتنے ہیں جو کہ دال میں نمک کے برابر ہیں وہ پاکستان جیسے 22 کروڑ کی آبادی کے ملک کے لیئے کیسے خود کفیل ہوسکتے ہیں؟ جبکہ مسلمانوں کو اپنے والدین کو گھر میں رکھنے پر اسلام نے بڑی فضیلت بیان کی ہے مگر ان کے بارے میں کتنے لوگ ہیں جو ان بے پناہ ثوابوں سے واقف ہیں؟ جن لو گوں نے ان کی وہاں جوگت بنتے دیکھی ہے وہ سب ہی واقف ہیں کہ ان کے ساتھ ان کے ہونہار فرزندوں کا سلوک کیا ہوتا ہے؟ جبکہ قر آن نے ان کے ساتھ ُاف تک کرنے کو منع کیا ہواہے۔ اور ان کے ساتھ بہت سے گھرانوں میں کیا بیتتی ہے زیادہ تر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جبکہ ان کی طرف صرف مسکراکر دیکھ لینے میں لاتعداد حجوں اور عمروں کا ثواب ہے ان کا وجود ہر گھر میں باعثِ رحمت ہے۔ان کا گھروں میں رہنا اہلِخانہ کے لئیے باعث رحمت اور برکت ہے؟ دعا کیجئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سب کو پکا مسلمان بننے کی توفیق عطا فر ما ئے۔(آمین) تاکہ ہمارے اندر حقوق العباد ادا کرنے کی عادت پڑے جن میں تمام انسانیت کے حقوق شامل ہیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی توبہ جب تک قبول نہیں فرماتے جو بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا،یا صاحبِ معاملہ سے معاف کراکر اس کے روبرو پیش نہیں ہوتا جو کہ اکثر علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو غصب کرنا سب سے آسان سمجھ کر کرتا ہے؟اور اس بارے میں انہوں نے مسجدوں کے منبروں سے بھی بہت کم کسی امام کو کچھ کہتے سنا ہے۔ وہ عمر کاکونساحصہ ہوتا ہے جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ عمر ارذل قرار دیتا ہےان میں محدثین میں اختلاف ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا معاملہ ہر بندے کے ساتھ مختلف ہوتا ہے لہذا انہوں نے بہتر سال سے نوے سال تک لکھی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY