آج ہوں میں تیرا دہلیز نشین
آج میں عرش کا ہمسایہ ہوں
حرم کی چاند رات
رمضان کریم کے پُرتقدس ایّام ہوں اور دنیا کی خوبصورت ترین جگہ تو کیا کہنے۔
اللہ کے بے پایا فضل وکرم کے طفیل کئی دفعہ اس ماہِ مبارک میں اللہ کے درکی حاضری نصیب ہوئی۔
لیکن اتفاق کے ہمیشہ آخری ہفتہ سے پہلے واپسی ہو جاتی اور ہر دفعہ دل میں خلش او ر خواہش کہ کبھی ایساہوکہ آخری عشرہ نصیب ہواور خدا توفیق دے تو اعتکاف کریں گے۔
پچھلین سال اللہ نے من کی مرادپُوری کی کہ ویزہ لگ کے آیا تو پندرہواں یا سولہواں روزہ تھاہم روانہ ہوئے تو دل جذبات اور تشکر سے لبریز، با ربا راللہ کے اس کرم پر شکر گزار اور ممنون کہ ایک بار پھر اپنا مہمان بنایااور اللہ سے بڑھ کے کون مہربان و میزبان ہے۔
بلاخر روانگی کا وقت آ پہنچا کویت ائیرویز کچھ تاخیر سے روانہ ہوئی مگر پھر بھی گیارہ بجے ہم جدہ ائیر پورٹ پر تھے اور خیال تھا کہ تمام مراحل سے گز ر کر عمرہ افطاری سے پہلے پہلے کر لیں گے’’مگر ایں خیال است محال است‘‘ائیر پورٹ سے نکلے ،بس کے بھرنے ،نکلنے اور مکہ تک پہنچنے تک طویل انتظارو کوفت سے گزرناپڑابہر حال،جب پہنچے تو آذانِ مغرب شروع ہو گئی تھی ساتھ ہی سٹورسے سیون اَپ لی اور سب نے کھڑے کھڑے روزہ افطار کیا۔ہمارے ہاں کی زر پرستی ومفادپرستی نے حج وعمرہ کوبھی منافع بخش کاروبار بنا ڈالا،اپنے ڈیلر کو فون کیا تو نہ ہوٹل ملا نہ ایک دن کا stay۔فون نہ ملنا تھا نہ ملا آکرس عشرہ شروع ہونے والا تھاہوٹل نہ ملا تو پھر؟تھکاوٹ، غصّہ، پریشانی سب مل گئے بلآخر سامان اٹھانے والا قلعی مدد کو آیااورایک ہوٹل میں کمرہ دلوایاکمرے میں پہنچ کر تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد عمرہ کے لیے روانہ ہوئے،طواف شروع کیا تراویح پڑھائی جا رہی تھیں۔ قاری کی خوبصورت آواز، طواف میں دُعائیں اور قران، بے انتہا رش تھا اور شدید گرمی مگر اس گھرکے طواف کی کیا لذت، رات ڈیڑھ بجے کے قریب اللہ کے فضل سے عمرہ مکمل کیارات کا خوبصورت سما ں اور نور اور روشنی میں نہایا ہوا اللہ کا مقدس و محرم گھراورایک بار پھر عمرے کی سعادت، دل تشکر سے لبریز، لبوں پر درودوسلام، رب کی عنایات وانعامات بے شمار، دل میں شکر کا ایسا ٹھاٹے مارتا سمُندر کہ کوئی الفاظ سمجھ میں نہ آئیں اور نہ اس وقت کی ترجمانی کر سکیں عمرہ ختم کر کے گھر آئے اور اتنے تھکے ہوئے کے سحری کے لیے بھی نہ اٹھ سکے، یونہی روزہ رکھ لیاپھر ہم نے فیصلہ کیا کہ چونکہ حرم پاک میں اعتکاف کی نیت ہے لہٰذا فی الفور مدینہ پاک چلیں جائیں تو بہتر ہو گااور پھر وہاں سے اس طرح واپسی ہو کہ دوسرے دن اعتکاف شروع ہوجائے لہٰذا ایک آدھ دن رہ کر مدینہ منّورہ کے لیے روانہ ہوئے، مدینہ النبی کی جانب،پھر وہی تاثرات جذبات اور اپنی کم مائیگی اوراللہ سبحان وتعالٰی کی بے پایاں عطاوکرم نوازی ،شدید گرمی،کالے پہاڑ،لق دق صحرااور ھجرہ روڈ۔اس راہ پر کیسے کیسے قافلے اور کیسی کیسی ہستیاں گزری ہونگی،اپنے پیارے نبی ﷺکی ہجرت، مسلمانوں کی تکالیف غرض مختلف تاریخی واقعات دماغ میں گردش کرتے رہے۔ عصر سے پہلے پہلے شہرِ مدینہ میں داخل ہوئے،وپنے پیارے نبیﷺ کی دعا(کھجوروں کے جُھنڈ،سکون واطمنان کا احساس)نہا دھو کر مسجد کے لیے روانہ ہوئے اور حرم کو پہنچے توآذان کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ مجھے ہمیشہ افطاری اندر پسند اگرچہ اندر صرف دہی ،کھجور اور قہوہ ہوتامگر اطمنان و سکون سے افطاری،باہر تو مدینہ النبی میں ایک عجیب سماں(سڑکوں پر بھی دستر خوان اور افطاری)کونسی نعمت تھی جو موجود نہ تھی اورکیوں نہ ہوتی اپنے محبوب کے شہر کو مکہ سے دوگنی برکت دی۔عرب اس مہینہ میں دل کھول کر زائرین عمرہ کو افطاری کرواتے ہیںآج کل پاکستانی بھائی بھی اس کارِ خیر میں پیش پیش،راستے میں ایک پاکستانی فیملی نے پکڑ لیاوقت کی تنگی کے پیشِ نظر وہیں بیٹھ گئے،طرح طرح کے مشروبات اور فروٹ خشک وترغرض ہر قسم کی نعمتیں موجود،خوبصورت چھتریوں کے نیچے قطار اندر قطار دستر خوان بچھے ہوئے انواع و اقسام کی نعمتں چُنی ہوئی اللہ کے گھر کو ہر دفعہ دیکھنے پر احساسات ومحسوسات کی دنیا میں ایک ہلچل اس طرح مدینہ النبی اور گنبدِ خضرا کے سائے میں بیٹھ کے سراپا سیاس وتشکرکہ ایک بار پھر رمضان المبار ک کی با بر کت ساعتوں میں آنا نصیب ہوا، درِ نبی کے مہمان اور اس رزق پر ہمارا نام اور اپنے اللہ کی بے حد و بے شمار دینے والی نعمتوں پربے اختیار کلمہءِ حمد و شکراور کچھ ایسے محسوسات کہ اپنی سمجھ سے بالا تر،بیاں کیسے کروں،ربنا،ربنا۔
دوسرے دن جمعۃالمبارک تھالہٰذا صبح سویرے پہنچ گئے تاکہ اندر جگہ مل جائے، جمعۃالمبارک اورمسجدِ نبوی کے حسین مناظر ، عاشقانِ رسولﷺ، درودوسلام، تسبیحات،نوافل،ایک روحانی مُسرت و پاکیزگی کا احساس۔
دوسرے دن میری اور میری دوسری ساتھی کی طبعیت کچھ ناسازتھی لہٰذا ظہر گھر پر پڑی نماز پڑھ کے لیٹے تو احساس ہوا کہ جیسے بارش ہو رہی ہوکھڑکی کھول کے دیکھا تُو موسلادھار بارش ہو رہی تھی فی الفور حرم جانے کے لیے تیار ہوئے ہوٹل سے نکلے تو باہر تیزبارش، جل تھل کا سماں، راستے میں اچھا خاصا پانی کھڑا تھااور اب بھی ہلکی ہلکی پُھوار پڑ رہی تھی مدینۃ النبی کی گلیوں میں رحمتِ الٰہی کی بارش میں بھیگتے مسجد پہنچے،سنا ہے دو سال بعد ایسی بارش ہوئی ابرِ کرم کھل کے برسا ہلکی ہلکی پُھوار میں مسجد کی طرف جاتے ہوئے دعائیں ہی دعائیں کہ یا اللہ جس طرح یہ خوبصورت مقام یہ مناظر یہ ابرِ کرم اسی طرح دین ودنیا میں اپنے فضل و کرم کی بارش کر دے۔آج ہمارے ایک جاننے والوں نے افطاری پر بُلا رکھا تھا،اُنہیں ڈھونڈا ، اُنہوں نے بھی دستر خوان بچھا رکھا تھا، خوشگوار موسم، ٹھنڈی ہوائیں اور نبی کے شہر میں درِ نبی ﷺکے مہمانوں کے لیے انواعو اقسام کی نعمتیں بچھی ہوئی ، طرح طرح کی کھجوریں، دہی ، جوس، بریانی، کباب غرض کیا نہ تھا ،افطاری کا یہ منظر قابلِ دید۔عصر کے بعد سے دستر خوان لگ جاتے ہیںآذان کے ساتھ ہی افطار اور اقامت کہنے تک سب کھاپی لیتے ہیں(بلکہ اقامت سے پہلے ہی دسترخوان اُٹھا کر ڈسٹ بن میں )سب اپنی اپنی جگہ سے سب کچھ اُٹھا کے جگہ صاف کر لیتے ہیں اور اقامت کے ساتھ ہی افطا ر کے لیے صفیں درُست کر لیتے ہیں،نمازپڑھ لی تو انہوں نے اپنے ساتھ ہوٹل چلنے کی دعوت دی اُنکے پُر زور اصرار پر ہوٹل گئے تو وہاں پر اٖفطاری اور کھانے کا اہتمام تھااورجیساکہ ہر بوفے میں ہوتا ہے، بے شمار ڈشّز،نمکیں ، میٹھی، عربوں کے روایتی کھانے، باربی کیو، مربّے، لسّی اور دلیے بھی بُوفے میں بے شمار اور انواع واقسام کی چیزیں دیکھ کر ہی دل بھر جاتا ہے۔کھانا کھا کر دوبا رہ حرم میں واپس آئے، تراویح پڑھی اور سورۃنور کی تلاوت کی، جب سورہ کا ترجمہ و تفسیر سمجھ میں آئے تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے، رمضان میں تراویح کے بعد ریاض الجنۃ کا دروازہ عورتوں کے لیے کھولا جاتا ہے لہٰذاتراویح کے بعد ریاض الجنۃ گئے یہ ایک صبر آزما مرحلہ مگر شوق غالب کہ ہر مشکل آسان و پیاری لگے، دروازہ کھلا اندر گئے تو باری باری تمام ممالک کے گروپ عموماََ پاکستان کی باری سب سے آخر میں لہٰذا انتظار میں بیٹھے تو بے اختیار دل بھر آیا اپنی کم مائیگی پر، اپنا گناہوں بھرا وجود، اپنی بے عملی اور آقا کی کرم نوازی کے اپنے در پر آنے کی اجازت اور یہاں تک رسائی۔
انتظار میں بار بار شکرانے کے نفل اورنمازِ حاجات پڑھی، بانو پہلی بار گئی تھی اُسے تسلی دی کہ ابھی کافی وقت لگے گااطمینان سے ذکر کرتی رہی، کئی نعتیہ اشعار وردِ زبان، سبزقالین پر بیٹھے تو گنبدِ خضرا نظروں کے سامنے ۔
آج ہوں میں تیرا دہلیز نشیں
آج میں عرش کا ہمسایہ ہوں
آج میں عرش کا ہمسایہ ہوں، میں سجدے میں جھک گئی وہی روح سجد ہ ریز،جذبات ک یلغار پھ رمیں نے بانوں کو اشعار سنانا شروع کیے،اقبال کی رباعی کیا خوب۔۔
تو غنی ازہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عرش ہائے من پزیر
گرحسابم ہائے سن ناگزیر
ازنگاہِ مصطفی پنہاں گزیر

ترجمہ:۔ تو دو جہانوں سے بے نیاز اور میں فقیر روزِ محشر مجھے معاف کر دینااگر خساب لازم ہی ٹہرے تونورِ رحمتِ العالمین کی نگاہ سے مجھے پُوشیدہ رکھنا۔
ایک اور شعر:۔
کون کہتا ہے کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا
میں یو کہتا ہوں جہاں بھر تھا سایہ تیرا
یہاں جمال ہی جمال ، وارفتگی ، حدِ ادب،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے روح کوتازگی بخش رہے تھے، باربار درودو سلام،سورہِ بقرہ کا آخری رکوع پڑھتی رہی، ساتھ ہی بچوں ،رشتہ داروں سب کی طرف سے درود وسلام، دعائیں ، روح پرور جگ مگ جگ مگ کرتے نظارے، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور گنبدِ خصرا کے سائے میں نعتیہ اشعار، قصیدہ بردہ شریف کاش آوازاچھی ہوتی تو۔۔۔ایسے میں اپنی دوست روبی کو یاد کیا(کمیسٹرس کی پروفیسر ، بہترین نعت خواں اور عاشقِ رسول ﷺ)پچھلے سال رمضان المبارک میں میرا بڑا بیٹا اسد اوربہن عطیہ ساتھ تھے انہیں قدم قدم پر یاد اوردعائیں کرتی رہی۔
ریا ض الجنۃ میں بے پناہ رش اوردھکم پیل مگر اللہ لے فضل و کرم سے جگہ مل گئی اورہر ستون کے پاس نفل پڑھنے کے مواقع ملے۔ ڈھائی بجے کا وقت یا اللہ اس شہرِرمضان، اس مقبول وقت،اس اعلیٰ مقام اور اپنے پیارے نبی کے وسیلے اوراس بابرکت رات کے طفیل ہماری دعائیں قبول فرما، بار بار درودوسلام، کبھی لب خاموشاوردل سے صدائیں، کبھی آنسوؤں کی زبانی، ریاض الجنۃ سے باہر نکلے توباہر گنبدِ خضرا نظروں کے سامنے اورقریب تر، رات کا حسین منظر، روشنیاں ، نور کا سماں دل کی عجیب کیفیات درود وسلام اورعائیں کے اگلی بار پھر اسی ماہِ مبارک میں اپنے بچوں کے ساتھ آنا نصیب ہوخا ص کر عائشہ کے ساتھ (کیونکہ بڑے دو بچے ہمارے ساتھ عمرہ کر چکے ہیں، عائشہ باقی ہے)
دوسرے دن زیارتوں کا پروگرام تھا، ایک بار پھر جبلِ اُحد، مسجدِ ذالنورین، مسجدِ امامہ، مسجدِ علی تاریخی مساجد مگرتالے ، اندر دیکھنے کی خسرت ، باہر سے ہی نظارہ، خاکِ شفا کا میدان جہاں اب فوارے لگا دیے گئے ہیں ، تاریخی کھجوروں کے باغ، بسترِ عثمان، ہر دفعہ تاریخی مقامات کو تحفظ نہ دینے پر دل سے شکوے اور رنجیدگی۔
مسجدِقبا میں نمازِ ظہر پڑھی ، مسجدِ قبلتین ،یوں ں ہمارا ڈرائیوراورگائیڈکمالِ مہارت سے تھوڑی ہی دیر میں مدینۃالنبی ﷺکی تمام اہم زیارتوں کی زیارت کروا لایا۔شام کو مسجد جاتے ہوئے بچوں کے لیے ٹافؤں کے پیکٹ خریدے، بڑے پیمانے پر نہ سہی کچھ تو ہم بھی بانٹ لیں، دوسرے روزمدینہ سے روانہ ہوئے تو پھر اداس اوراس شہرِ جمال کو چھوڑنے کی رنجیدگی،ابیار علی پر گاڑی رکی، عمرے کے لیے احرام باندھا،مسجد میں نوافل ادا کیے،یہ وہ مقدس مقام جہاں جبرائیلؑ نے آپ ﷺکو حجۃالوداع کے لیے جاتے ہوئیرکنے کو کہا، یہاں بھی بہت سی دعائیں، رستے میں بس کو روک کر افطاری کے لیے افطار پیک دے گئے۔افطاری کے قریب پھر مکّہ شریف پہنچ گئے مکّے کے حدود میں داخل ہو تے ہی مکّہ ٹاور کے بڑے کلاک پر نگاہیں پڑی تو دل خوش اور دعائیں’’ربِ ادخلنیِ مدخلا صدق‘‘ دل مسرور اور شادمان۔افطاری کر کے عمرے کے لیے نکلے، عشاء کی نماز پڑھ کر عمرہ شروع کیا،نسیم ہمیشہ عمرے سے پہلے پریشان اور گھبراہٹ کا شکار ،اوربانو بھی شوگر کی مریض، گرمی اور ایک جمِِ غفیر، طواف شروعکیا تو تراویح پڑھائی جا رہی تھی، سُدیس کی خوبصورت آوازتلاوت کے ساتھ ساتھ سات شکر مکمل کیے اور اللہ کا لاکھ الکھ شُکر ادا کیاکہ تراویح کی نماز کے ساتھ ہی عمرہ مکمل ہوا،ہم جتنا گھبرائے ہوئے تھے اتنا ہی آسانی سے عمرہ مکمل ہو گیا، حرم میں اعتکاف اور حرم کی چاند رات�آآج 20واں روزہ تھا اور ہمارا اعتکاف کا ارادہ تھااس لیے صبح سے ہی ہوٹل میں تھے تاکہ آرام بھی کر لیں اور اعتکاف کے لیے ضروری سامان او ر تیاری بھی فالتو سامان اپنے میاں کے دوست کے ہاں رکھوایااور دو الگ الگ چھوٹے سے بیگ اپنے اور اُن کے لیے تیار کیے اور نہا دُھو کر عصر کی نماز کے لیے روانہ ہوئے حرم کی حدُود میں داخل ہوئے تو ہر طرف لوگو کا ہجوم، سامان ہاتھ میں لیے ،لگتا تھا تمام لوگ ہی عتکاف کر رہے ہیں ہجوم اتنا تھا کہ تمام دروازے بند کر دیے گیے تھے کہا گیا کہ اب بابِ فہد کی طرف چلے جائیں وہاں جا کراحساس ہوا کے یہاں اعتکاف کرنا بہت مشکل ہے، قالین نہیں تھا، فرش ٹھنڈا بہت ٹھنڈامیاں صاحب کت دوست کمبل خرید لائے مگر عورتوں کی بھیڑ جگہ کے لیے بحث وتکرار۔
یہ صورتِ حال دیکھ کر ہم نے میاں صاحب کو بتایا کہ آپ اعتکاف اپنے دوستوں کے ساتھ کریں میں یہاں بیس منٹ میں نماز پڑھتی ہوں ، اپنی چیزیں اُٹھائی اور بانو کو ساتھ لے کے چل دیے وہاں جا کے اللہ کا شکر ادا کیا کہ تمام حال اعتکاف کرنے والی عورتوں سے بھراہوا تھافرش پر قالین بچھے تھے اور ایک پُر سکون ماحول تھاایک ستون کے پاس سامان رکھ کرجگہ بنائی میرے ساتھ ہی سوات سے آئی ہوئی ایک خاتون اور اس کی دو بیٹیاں بھی اعتکاف کر رہی تھی ان سے جلد ہی دوستی ہو گئی ان کی دونوں بیٹیاں بہت پیار کرنے والی اور خیال رکھنے والی تھیں سارے اعتکاف کے دوران اپنی ما ں کے ساتھ ساتھ ،انہوں نے جس طرح میرا خیال رکھا آج بھی یاد کر کے دل سے دعا نکلتی ہے آ پہلی چاند رات تھی لہٰذا معمو ل دسے بڑھ کے ہجوم تھاتراویح شروع ہوئی تو تل دھرنے کی جگہ نہ تھی تراویح کے بعد ڈبل روٹی پر جیم لگا کر پیٹ پوجا کی،تازہ وضو کیا اور اللہ لا شکر ادا کیا کہ اس آخری عشرے میں حرم میں اعتکاف اورقیام الیل کی ہماری کتنی شدید آرزو اور خواہش تھیرب کی اس عنایت پر سجدہِ شکر ادا کیاسُدیس نے قیام الیل میں پہلے پارے کی تلاوت کی تو لطف آ گیاسُدیس کی آواز میری پسندیدہ سیدھی دل میں گھر کرنے والی،رُلا دینے والی (چونکہ پہلی بار یہ نماز پڑھی تھی اندازہ نہیں تھا )طویک قیام و سجوداور سب سے خوبصورت حصہ طویل دعاامام صاحب خود بھی رو رو کے دُعا کرتے اور سارا حال سسکیاں بھر بھر کے آمین کہتااس رو نے میں کیا لذ ت تھی کہ بس دل چاہتا تھا کہ امام صاحب دعاکراتے جائیں اور ہم یونہی سرجھکا کے روتے ہوئے آمین کہتے رہیں قیامُ الیل ختم ہوئی تو دودھ کے ساتھ مختصر سی سحری کی خلاف ، معمول پانی بھی کم پیا کہ اعتکاف کا سب سے مشکل مرحلہ حال سے نکل کر واش روم جانا تھا اور اس کے بغیر چارہ بھی نہیں اس کے بعد یہجد کی نماز اور نوافل اور پھر آذانِ فجرنمازِ فجر کت بعد اشراق کا انتظار اور نوافل یوں اکیسویں تاک رات جاگ کر گزاری پُوری رات عبادت میں نہ نیند کاغلبہ نہ سستی، ایک جذبہ ایک شوق اشرا ق پڑھ کے فارغ ہوئے تو حال خالی صرف اعتکاف والی خواتین لمبی تان کے سُو گئی مگر کہاں ابھی آنکھ لگی ہی تھی کے صفائی والی خواتین سر پر مو جودکہ اٹھو صفائی کرنی ہے ایسی ہی افراتفری میں دس بجے تک سُو کر اُٹھ جاتے گیارہ بجے سے نمازِ ظہر کے لیے لو گ آنا شروع ہو جاتے اور نمازِظہر تک ایک ہجوم اور جگہ کے لیے بحث وتکرا رعصر کی نماز پڑھتے ہی دستر خوان بچھانا شروع کر دیتے اس پر کھجوریں اور قہو ہ اس افطاری کی تفصیل کیا بتاؤں ایک معجزہ لاکھو ں لوگو ں کے لیے روزانہ نئی پلاسٹک شیٹ اور افطاری کا سامان ، آذان کے ساتھ ہی افطاری اور اقامت کی آذان تک سب کھا پی کر فا رغ،عصر کی نماز پڑھ کے میں نماز کے لیے چلی جاتی بے انتہا رش(اور ہر روز اضافہ ہی اضافہ)یہ طواف میرا پسندیدہ وقت ، ہجرِ ِ اسودملتزم نظروں کے سامنے طواف ختم کر کے بمشکل افطاری سے پہلے اپنے گروپ تک پہنچتے اور کبھی کبھی راستے میں ہی افطار، اس افطار کی خوشی کے کیا کہنے۔
اس عمرے پر آنے سے پہلے شعبان کے روزے افطار کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے رب سے دعاکہ میرا یہ عمرہ پچھلے تما م عمروں سے بہتر ہو، تقویٰ، عبادت ،ریاضت، قبولیت ہر لحاظ سے ہم تیرے مہمان اور تو بہترین میزبانی کرنے والاہمیں بخش دے اوراچھے لوگ ملا جو دین میں بہتری لانے کا سبب بنیں۔اعتکاف کے دوسرے دن زبیدہ آپا سے ملاقات ہوئی جوجدہ میں تیس سال سے اسلامی مدرسہ چلارہی ہیں ،کراچی سے تعلق دھان پان سی زبیدہ آپامگر عزم ہمت اور عمل کا پیکر، عصر کی نماز پڑھتے ہی راحیلہ کو لے کر جاتے افطاری خریدتی اور راستے میں سب بانٹ کر آجاتی جلد ہی ان سے محبت اور دوستی کارشتہ استوار ہو گیا،دینی معلومات میں اضافہ ہوا ہروقت قران پاک پڑھتی رہتی، تھک جاتی تو لیٹ کر کروٹ کے بل ہر حا ل میں قران ہاتھ میں ہوتادن میں اگر ان سے بات کی جاتی جو جواب نہ دیتی کہ یہ قران کا مہینہ ہے باتوں میں وقت ضائع نہ کرو۔
شروع کے ایک دو دن تو باہر سے کھانالانا منع تھالہٰذا دودھ ڈبل روٹی ،فروٹ پر ہی سحری وافطاری ہوتی مگر بعد میں باہر سے افطاری لانے پرکچھ نرمی کچھ چشم پوشی کی گئی اور سب ثواب میں سبقت کے لییایک دوسرے کے لیے افطاری کرنے لگے۔ایک خوبصورت بھائی چارے اور محبت کی فضا یوں تو تما م راتیں ہی خوبصورت اور تقدس بھری مگر طاق راتوں نکت کیا کہنے،طاق راتوں میں ہجوم بہت بڑھ جاتااتنا کہ نماز کے لیے جگہ ملنی مشکل ہو جاتی ایک سیلِ رواں کی صورت ایک بہرِ بے کنار۔
عصرکی نماز پڑھتے ہی دستر خوان بچھ جاتے اوراس پر انواع واقسام کی کھجوریں ، عربی قہوہ،چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں، اس حال میں ذیادہ تر انڈیزاور پاکستانی،پاکستان کے ہر ھصے سے آئی ہوئی خواتین ہر کوئی ثواب میں سبقت کے لیے ایک دوسرے کو کھانے کی چیزیں پیش کرتا،راحیلہ اورس کی امّی نے تو گویا میری ذمے داری ہی اُٹھا لی آبِ زم زم کی بوتلیں بھر کر لانابا زار سے کچھ سوداوغیرہ خرید کر لانا یہاں تک کے وضو کے لیے بھی ساتھ جاناکیونکہ آخری عشرہ اور بے انتہا ہجوم تھاایک دن مغرب ک بعد اکیلی وضو کرنے چلی گئی وواپس آئی تو ناہیدہ نے بتایا کھے ناصرہ مجھے دیکھنے گئی ہے کہ اللہ خیر کرے آنٹی نے اتنی دیر کیوں کر دی،آسٹوپروسس کی وجہ سے اکثر میر ی ٹانگوں میں درد رہتا(اور مستقل بیٹھے رہنے کی وجہ سے )سوجن اور درد اور بڑھ گیااکثر یہ بچیاں میری ٹانگیں دباتی اللہ انہیں خوش رکھے آج بھی میں انہیں دعاؤں میں یاد رکھتی ہوں غرض ایک بہت ہی خوبصورت اورروح پرورفضامیں اعتکاف کی روح پرور ساعتیں اورایمان افروز لمحات گزر گئے زبیدہ آپا بھی ہماری روحانی پاکیز گی اورتعلیم کا ذریعہ تھیں،عمل کا پیکر ، سارادن قران پڑھتیں عصر کے بعد نکل جاتی اور لوگوں کو افطاری کرا کر اور اکثر ہمارے لیے بھی افطاری لے کر آتی،بات کرنے کی کوشش کرتے تو کہتی یہ قران کا مہینہ ہے، لیٹے ،بیٹھے ،کروٹ غرض ہر حال میں قران پڑھتی رہتیں اور پھر عصر کے بعد لوگو ں میں افطار تقسیم کرنے نکل جاتیں 27ویں شب کی رونق اور ہجوم تو دیدنی تھااگر باہر کسی کام سے گئے تو اندر واپس آنا مشکل تھا،عشاء کی نماز کے لیے وضو بنانے ابوجہل کے باتھ روم تک گئے تو واپس اپنی جگہ نہ آسکے،فرض اوپر ہی ادا کیے پھر نیچے آنے کا راستہ ملاستائسوئیں شب کی تلاوت تراویح م قیام اللیل،سُدیس کی طویل اور پُر سوزدعاکہ سارے حال سے صرف رونے اور سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی یا اللہ تو ہم سب کی دُعائیں قبو ل فرما ،یہ آنسویہ آہیں یہ دل سے نکلی ہوئی آہِ پُر سوزاس رات کی کیفیات بیان کرنے کے لیے الفاظ نا پید۔
اعتکاف تو ویسے بھی ایک خوبصورت عبادت ہے سب بسے کٹ کر الگ تھلگ اپنے رب س جُُڑ جانے کا نام روحانی کیفیات و لذتِ عبادت ، لذتِ گریہ، رکوع وسجود، حرم پاک میں اعتکاف کے کیا کہنے، دنیا کا اعلیٰ ترین مقامااور سب سے افضل اعتکاف ،یہاں تنہائی توخیر نہیں ہوتی مگر عبادات کا ایک نہ ٹوٹنے والا تسلسل خاص طورپر رات کی عبادات۔

مغرب کی نماز ،اوبین،عشاء،تراویح پھر ایک گھنٹے کا وقفہ جس میں کچھ کھا پی کر وضو تازہ کر لیتے پھر ایک بجے قیامُ الیل،سدیس کی آواز میں طویل قیام وسجود پھر اللہُ اکبر کی صدا یا ساتھ والی ساتھی کے کندھا ہلانے پرنیند کی وادی سے واپس آئے سب سے خوبصورت چیزوتر کے درمیان طویل، پُر سوز اور موٗثر دُعائیں وہ سارے لوگوں کا رونا ،آہ و زاری اور آمین آمین کہنا۔
29ویں شب بھی طاقمگر ہجوم قدرے کم،پھر عید بھی متوقع تھی مگر خلافِ معمول عید کا اعلان نہ ہواایک د ن مزید اس گھر میں اعتکاف کی سعادت اور برکت حاصل ہوئی اورہم اس طاق رات کی برکتوں سے فیض یاب ہوئے یہاں کا جذبہ ہی الگ مختصر نیند کے باوجود چاقو چوبند،قیامُ الیل کے بعد تہد کی آذان اورنمازجلدی جلدی پیٹ پُوجا ، پھر آذانِ فجر نماز اور اشراق اس کے بعد سوئے تو لوگ کم ہونے کی وجہ سے ہال اتنا ٹھنڈا کہ نیند نہ آئے اکثر لوگ قالین اوپر اوڑھ لیتے۔
30ویں روزے پر عشاء کے فوراََ بعدصفائی والے آگئے ہمیں زبیدہ آپا نے بتا دیا تھا کی اپنا سامان اُٹھا لیناورنہ یہ اُٹھا کر پھینک دیں گے ہم نے تُو سامان اُٹھا لیا لیکن بہت سے لوگ بے خبری میں مارے گئے اور گاربج والی گاڑی سامان اُٹھا کر لے گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے لوشن اور سرف سے فرش کی دُھلائی، صفائی اور نئے قالین بچھا دیے گئے ہم سیڑھیوں پر بیٹھ کر دُعائیں مانگنے لگے راحیلہ کہنے لگی جلدی آئیں عجب منظر ہے مرد حضرات نظر نہیںآرہے طواف میں صرف عورتیں ہی عورتیں مرد شاید عید کے لیے تیار ہونے چلے گئے،ایک خوبصورت منظر ہے جلدی چلیں میراقران ختم ہونے والا تھا میں نے کہا یہ ختم کر کے اُٹھتی ہوں راحیلہ لوگ چلے گئے طواف کے لیے میں نے قران پاک ختم کر کے خوب خوب دُعائیں مانگیں اور پھر ناصرہ کے ساتھ طواف شروع کیامگر میں نے قران ختم کرنے میں یہ نادر موقع ضائع کر دیادوسرے چکر میں ایک دم سے ہجوم ویلغاراتنا رش کہ ہجوم اور گرمی کی وجہ سے سانس رُک رُک کے آنے لگااور ہم رینگ رینگ کر طواف کرنے لگے اس جمِ غفیر میں ناصرہ گھبراکر پُوچھنے لگی آنٹی آپ ٹھیک ہیں،میں نے کہا تم فکر نہ کرو اللہ کے فضل وکرم سے میں بالکل ٹھیک ہوں اور رش میں آسانی سے طواف کر سکتی ہوں جن لوگوں نے ایسے دنوں میں یا چاند رات میں طواف کیا ہو وہ اس طواف کی کیفیت جان سکتے ہیں بہر حال رینگتے ہوئے دُعائیں مانگتے ہوئے طواف مکمل کیامقامِ ابراہیم کے نیچے نفل پڑھے اورسیڑھیاں چڑھنے لگی تُو گویا دنیا ہی بدلی ہوئی پائی سارا مطاف لوگو ں سے بھرگیابڑے بڑے شیوخ کی بیویاں ویل چےئر کے ساتھ صحن میں براجمان تھیں سارا مطاف عربی اور مقامی لوگوں سے کھچاکھچ بھراہواتھایا اللہ یہ کیا ، آگے بڑھے تُوانڈین،انڈونیشیا، ترکی ہر ملک وقوم کے لوگوں نے اپنے اپنے بہترین قومی لباس زیبِ تن کر رکھے تھے ہندوستانی مرد وخواتین کے کلف لگے کڑھائی سے مزین رنگا رنگ کُرتے ،ٹوپیاں، بناؤ سنگھار ، پُوچھا یہ کیا تو پتہ چلا کہ عید کی نماز پڑھنے کے لیے یہ سب لوگ تیا ر ہو کر آگئے ہیں ،مظہر العجائب ہمارے ہاں تُو لوگ صبح سات بجے تیار ہوکر جاتے ہیں ابھی تُو رات کے گیارہ بجے ہیں ابھی سے عید کی نماز کے لیے؟

بیس منٹ میں آتے تو اِکا دُکا خواتین، تھوڑی ہی دیر میں خواتین تیار ہو کر آنے لگیں ہر ملک ومِلّت کی خواتین رنگا رنگ لباس،بناؤسنگھار خاص طور پر سیاہ فام خواتین کی چمکتی آبنوسی رنگت،شوخ لباس اور بال بال موتی پروئے ہوئے،چھوٹی چھوٹی مینڈھیاں ،سب نے مل کر ایک دوسرے کو اعتکاف مکمل ہونے کی مبارک باد دی، زبیدہ آپا نے کہا آج غسل ضرور کرنا ہے ہو سکے تُو لباس بھی نیا پہننا،اللہ کی طرف سے یہ انعام وخوشی کا تہوار ہے، آج کی رات کی عبادت سب سے افضل اللہ سے عیدی مانگی ہے لوگو ں یہ شبِ قدرہے لہٰذا اوپر جا کے ہم نے غسل کیا ،تیا ر ہوئے عموماََ ہم دنیاوی تقریبات کے لیے تیار ہوتے ہیں لیکن آج حکمِ خداوندی اور سنت کے مطابق تیار ہونے کا اپنا مزہ ہے، آپ نے دُنیا بھر کی چاند راتیں دیکھی ہوں یا سنی ہوں گی مگر میں دعوے سے کہتی ہوں کہ ایسی حسین چاند رات نہ دیکھی نہ سنی ہوگی جگ مگ جگ مگ کرتا اللہ کا گھر، رنگ ونور کا سیلاب روشنی ہی روشنی ، نور ہی نور، اندر بھی باہر بھی جن لوگوں کو بھی یہ چاند رات نصتب ہوئی وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھیسب کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں ، روشن ہیں ،سب کی کوشش ہے کہ طواف کرلیں،طواف ہے کہ سیلِ رواں کی صورت ہے ہر لب پر ذکر ، تسبیح وتہلیل،درو دوسلام ،دُعائیں ، تمنائیں، اللہ سے عیدی ، رات ایک بجے تک حال میں تل دھرنے ک جگہ نہ رہی،عرب شیوخ کی بیگمات وہیل چےئر پر(ذیادہ تر موٹی تھیں تو وہیل چےئر پر ہی نظر آئیں )اپنی سیاہ فام ملازم بچیوں کے ہاتھ مٹھائیاں اورٹا فیاں تقسیم کرنے لگیں۔قہوے کے تھرماس،طرح طرح کی ٹافیاں ،چاکلیٹ،ہر کوئی اپنے طور پر کچھ نہ کچھ میٹھا دوسروں کو دینے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے ک کوششوں میں مصروف،ایک سر خوشی وسرشاری کی کیفیت۔ایک دوسرے کو مبارک باد اور تلقین کے اللہ سے مزدوری مانگنے کی رات، مانگو مانگو تُو کبھی ذکر وشکر تُو کبھی لب خاموزش اوردل سے صدائیں کہ تجھے سب پتا ہے تُو سب جانتا ہے کہ تُو دلوں کے بھید اور راز جاننے والا،آج اپنے گھر میں یہ سعادت ،کیسی بہترین میزبانی،اعتکاف کی تُوفیق،یہ سب اعتکاف بھی میرے ساہنے رب تیری طرف سے بہت بڑا انعام ،بس تُو قبول کرلے۔
ربّنا تقبّل مِنّا ربّنا تقبّل مِنّا۔
اس طرح جیسے یہ کرم بن مانگے ، سار ی دُعائیں بن مانگے ، دین و دنیا کی نعمتیں ،سار ی مشکلیں حل کر دے ۔جنت، جنت کی نعمتیں،کبھی اللہ سے سرگوشیاں کبھی سجدے میں رو رو کرکبھی با آوازِ بلند کبھی آنسوؤں کی زبانی وترجمانی، کبھی حمد بھرے دل و شکر کے گہرے احساس کے ساتھ، اس چاند رات کی خوشی ، اس وارداتِ قلبی و روحانی کیفیات کو کیسے بیان کروں۔ نہ ہم غالب نہ انیس کے ایک پُھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھیں۔
ہم نے تُو جو کچھ پایا، دیکھا ،محسوس کیا شائد کے ا س کی تر جمانی کر پائیں،اسی طرح دُعائیں مانگتے ،ذکر کرتے غنودگی سی طاری ہونے لگی کہ نمازِ فجر کی آذان گونجی،نمازِ فجر ادا کی تُو تکبیریں شروع ہو گئیں، وقفے وقفے سے مختلف لوگوں کی تکبیریں،تکبیریں سن کر انوکھی سی کیفیت جیسے کائنات تھم جائے گی،ایک خاموشی ،سناٹا اور ا س خاموشی میں تکبیریں ان کی گونج یوں محسوس ہو جیسے قیامت آنے والی ہے،خاموشی ،تکبیریں اور نمازِ عید کا انتظار ، سنا کہ شاہ آئیں گے تُو نمازشروع ہو گی، بلآخر انتطار کی گھڑیاں ختم ہوئی اور عید کی نماز پڑھائی گئی،نماز کے بعد دوبارہ دعائیں۔
اتنے دنوں اعتکاف والوں کے ساتھ رشتہ وانس بن گیا تھا ان سے ملنا اوردعاؤں کی درخواست کے ساتھ الوداع کہنا،ابھی مل ہی رہے تھے کہ حاجی صاحب آگئے کہ بس جلدی چلو بہت تھکاوٹ ہو گئی ہے۔
ابھی دل نہیں چاہ رہا تھا بہ دل خراش باہر نکلے تو ہجومِ بے کرا ں و بے پناہ،معمول سے ہٹ کربنے ،سجے سنورے لوگ،ملک ملک کے لباس و فیشن اور مولاناصاحب کا با ر بار خطبے میں کہناکہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے تُو آ ج اس خوشی کے خاص موقعے پر سب خالصتاََ رب کی خاطر تیار ، حسین وجمیل،بنے سنورے،ہوٹل قریب ہی تھا مگر اس بھیڑ میں راستہ بناتے چلتے ہوئے ہوٹل پہنچنے تک کافی دیر ہو گئی،پھر جو ناشتہ کر کے سوئے تُو ظہر کے قریب آنکھ کھلی عصر کی نماز کے لیے حرم گئے تُوخیال آیا کہ آج حرم میں ویسا ہجوم نہیں ہو گا،باہر حرم خالی مگر طواف میں ویسا ہی رش، مگر بیسمنٹ خالی اعتکاف کی سارے ساتھی کوچ کر گئے عید کی اس شام اپنی مخصوص جگہ پر نماز پڑھی جہاں اعتکاف کیا تھا تو اعتکاف کے ساتھیوں کو یاد کر کے اداسی طاری ہوگئی،خالی قالین ،ٹوٹی ہوئی اور سالم کرسیوں کے ڈھیر وہ کرسیا ں جو ڈھونڈنے سے نہیں ملتی تھیں۔
عید کے دوسرے دن طواف اور طوافِ وداع روتے ہوئے اس دعا کے ساتھ کے پھر بھی ایسے مواقع نصیب ہوں ابھی ہمارے جانے میں دو دن باقی تھے مگر ہمیں جدہ جانا تھاجہاں ہمار سمدھن پانی بیٹی کیاساتھ ٹھہری ہوئی تھیں اور اپنی بہن اور ہماری منتظر تھیں ان کی بیٹی اور داماد عبدالغفور نے خوب آؤ بھگت کی،جدہ میں اعتکاف کی ساتھی عالمہ آپا زبیدہ تھیں ان سے رابطہ کیاعبدالغفور سے کہا مجھے آپا زبیدہ کے پاس جانا ہے اور حجامہ بھی کروانا ہے اللہ خوش رکھے و ہ مجھے زبیدہ آپا کے پاس لے گئے ان کے گھر کی بے شمار سیڑھیاں چڑھ کے اوپر پہنچے تُو انہوں نے اور ان کی بہو نے خوبش دِلی سے استقبال کیا ،کہا کہ مجھے یقین تھا کہ میں نے ہی حجامہ کے بارے میں بتایا ہے تُو نصرت ضرور آئے گی۔
ان کی بہو نے ہی حجامہ کیامیں نے سب سے پہلے سنت کے مطابق گردن پر کروایا۔کپ لگاکر انہوں نے بے شمار کٹ لگائے ہمیں(میری بیٹی کی نند)یہ دیکھ دیکھ کر پریشان اور تکلیف میں مبتلا جع اتنی ڈرپوک مگر سنت پر عمل کرتے ہوئے دل مطمئن و پُر سکو ن،انہوں نے زخموں پر ایک دو دن شہد لگا نے کو کہا۔ہجامہ سنتِ رسول اور ایک حدیث کے مطابق یہ ستر بیماریوں کا علاج ہے لہٰذا سنت پہ عمل کر کے روحانی مسّرت و خوشی سے ہمکنار۔

ان کے مدرسے سے نکل کر ساحلِ سمُندر پر گئے راستے میں کھانا ہوٹل سے لیااور سمندر کے کنار ے ٹھنڈی سمندری ہواؤں میں کھاناکھایا شام آہستہ آہستہ اُترنے کو تھی۔
سمندری پانی ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں د ل ہی د ل میں اللہ تعالیٰ کی ان تما م نعمتوں کا شکر ادا کیا وہاں سے نکلے تُو رات ہو چکی تھی پھر مختلف مالز میں گئے اور خوب گھوم پھر کر رات کو واپس آئے دوسر ے دن دوپہر کو فلائٹ تھی،ناشتہ کر کے ائیر پُورٹ پہنچے اللہ کے گھر کی میزبانی واعتکاف،دربندی پرچند روزے اور بہترین میزبانی اور آخر میں جدہ کی سیریا اللہ تیرا شکر بے حد وبے حساب کہ تُو نے ایسا خوبصورت رزق ،آبِ زم زم ،کھجوراور انواع و اقسام ک بے شمار نعمتیں ہمیں عطافر مائیں،اللہ کے در پر اعتکاف کی سعادت ، چاند رات، عید کا دن غرض کس کس چیز کا کس زبان اور کس طرح شکر اد اکریں، دل تشکر سے معمور،محنوسیت کے زیرِ پا احسانوں سے خمیدہ ومسجود،مگر پھر بھی ’’حق تُو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘۔
ہاں پھر ایک اور سنّتِ نبوی پر عمل کرنے کی توفیق یعنی حجامہ،یا اللہ اس گھر کی برکت سے اپنے پیارے نبیﷺ کی ہر سنّت پر عمل کرنے والا بنا دے، مجھے اور میر ے بچوں کق بار بار تیرے در پہ آنانصیب ہو،اور خاص کر رمضانِ کریم ک مبارک ساعتوں میں22 ،23دنوں کے بعد گھر جانے کی خوشی بھی اور اداسی بھی،خوشی اور غم کے جذبات گڈمڈ،جہاز نے سر زمینِ ہجاز کو چھوڑا اوراس مقدس سر زمین سے اُٹھے تُو آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے دل میں شکر کا ٹھاٹھے مارتا سمندردِل سپاس گزار اور شکر گزارکہ عمرے تُو بہت کیے تھے مگر اللہ کے گھر اعتکاف کی خواہش پُوری ہوئی اس کے ساتھ ہی حرفِ آخر کے طور پر اپنے قارئیں سے درخواست ہے کہ اگرمالی استطاعت ہو تو فوراََ حج وعمرہ کر لیں یہ مت کہیں کے یہ کام ہے وہ کام ہے، یہ ذمہ داریاں پُوری کر لیں ن گے تُو جائیں گے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اس گھر کا عمرہ و حج کر یگا وہ کبھی تنگ دسست نہیں ہوگا۔ آپ گھبرائیں نہیں عمل کر کے دیکھیں انشاء اللہ زندگی کے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے اور اگر نہ کریں تُو ہو سکتا ہے کہ چند سالوں میںآپ کے پاس پیسہ بھی ہو اور فرصت بھی مگر صحت اور چلنے پھرنے کی طاقت نہ ہو،اپنی جونی میں ہی اس فرض سے سبکدوش ہوں تُو بہتر ہے کہ فر صت کا انتظار کرنا ہو تُو وہ مرتے دم تک نہیں ملتی نہ زندگی کے جھمیلے ختم ہوتے ہیں،بس لبیک کہیں اور زندگی کی سب سے خوبصورت جگہ جائیں۔

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY