ہر انسان اپنی حد کی قید میں آزاد ہے ۔ ۔ ۔اور اسکے باہر بے بسی ہی ہے ۔ ۔ ۔بس رب کے سامنے بے بسی اور احساس ہے اور انسان کے سامنے بےبسی شرف انسانیت کیخلاف مگر یہی آزمائشیں انسان کو اسکی حدود میں رہنے اور اسکی اصل اوقات کی تشریح کرتی ہیں کہ اس رب کا بندہ ہر حال میں راضی ہے ، صبر و شکر کرتا ہے کہ شکوے ، گلے، یا رب سے دوری اختیار کرتا ہے ۔ ۔ ۔
یا دنیا کی ازامئشوں میں وہ کتنا صبر کر پاتا ہے اور کتنا شکر ادا کرنے والا بن پاتا ہے گو کہ بظاہر مشکل امر ہیں پر ناممکن کچھ نہیں ۔ ۔ ۔
رب سے قرب کا سفر وجود کی تاریکیوں کو دور کرنے اور اسے مکمل خالی و ویران کرنے ہی سے میسر آتا ہے ۔ ۔ ۔
وہ وجود جس میں کوئی بھی انسان کی ذاتی پسند سے نہیں جڑا رہتا ، نہ اسکے دل پہ کسی اور کی حکومت ہی رہ پاتی ہے ۔ ۔ ۔وہ مکمل ویران وجود اس کھنڈر کی طرح رہتا ہے جہاں پہ کوئی بھی رہ گزر یا کبھی بسنے والا مزید بسنے لائق ہی نہیں رہتا اپنی زات کو ویران کر کے ہی رب کی محبت کی زرخیزی کا چناؤ ممکن ہے ۔ ۔ ۔ ۔جہاں سب رب کا ہو، رب کیطرف سے ہو، رب کی جانب ہی بڑھنے والا ہو یہی وجود عبد ہونے کی اس ہموار راہ کو ترتیب دے پاتا ہے کہ جس پہ چلنا آسان اور جسکا انجام منزل رب کا قرب رہ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
رب کو محض تسبی و تہلیل والے کمروں میں بند وجود نہیں چاہییں بلکہ رب کو تو وہ وجود چاہییں جن کی خوبصورتی رب کی اصل محبت کی عکاسی کرتی ہو ۔ ۔ ۔جہاں پر رب کی بات پہ غور کیا جاتا ہو اسے محض مکتبی بات سمجھ کر نا عمل کر پانے والا اصول نہ سمجھ لیا جاتا ہو ۔ ۔ ۔بلکہ جہاں بنیاد فکری ، عملی، قلبی طہارت ہو جس کے اوپر علم کی شمعیں جلتی ہوں ۔ ۔ ۔جہاں پہ زینت رب کا عطا کیا میعار ہو میعار رب یعنی ۔ ۔ ۔
ہر عمل، فکر، احساس، کوشش کی بنیاد قربت الٰہی ہق، رب کی خوشنودی ، اسکی رضا اسکی پسند ہو اور اپنی ہر چاہت، ہر پسند، ہر محبوب ترین شے ، عزیز ترین احساس بس رب کے عشق پہ نچھاور کر دئیے جائیں ۔ ۔ ۔جان دے دینا پھر آسان ہے کہ ایک بار رب کے لیے گئی سو ہمیشگی کی کامیابی مل گئی پر پل پل ہر لحظہ اپنی فکروں سوچوں اور عملوں کو طہارت اور پاکیزگی کے حسین زیور سے آراستہ کرنا پل پل انسان کا امتحان ہے ۔ ۔ ۔جسے دیتے دیتے کئی لوگ میدان عمل میں یا تو ہار جاتے ہیں، یا پیچھے رہ جاتے ہیں ، یا واپس لوٹ جاتے ہیں ، یا پھر سمجھ اور بصیرت کی پستی کے باعث غلط عمل کو رب کی خوشی سمجھتے ہوئے انجام دینے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ عشق بنا معرفت ناقص ہے یعنی جس عشق کی بنیاد نافع علم نہ ہو وہ عشق جس قدر بھی اخلاص رکھتا ہو ، کتنا بھی بہترین عمل میں ہو رب کے نزدیک اس عمل کے مقابلے میں کم حیثیت ہی رکھے گاکہ جس میں جدو جہد کی گئی ہو ، سیکھنے کی کوشش کی گئی ہو، جاننے کے لیے وقت صرف کیا گیا ہو ، فکر کے گھوڑوں کو میدان علم و معرفت میں ریا کاری اور تعصب سے مبرا ہو کر دوڑایا گیا ہو ۔ ۔ ۔اور معنویت کے اس اوج کو پانے کی کوشش کی گئی ہو ۔ ۔ ۔جس منطق، وجہ، اور بصیرت کے تحت اس عمل کی جانب رب نے دعوت دی ہے ۔ ۔ ۔
عبد بن جانا اور قرب رب پا لینا اتنا بھی سہل نہیں جب اس دنیا میں کسی معمولی سکول میں داخل بچے اس سکول کے مروجہ اصولوں پہ کاربند رہنے کے پابند ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو رب کی دنیا میں رہ کر اسکے اصولوں کو بنا سمجھے، بنا کانے، بنا اپنائے انسان کیسے سوچ سکتے ہیں کہ وہ رب کے عبد بن گئے ، رب نے صرف تلاوت نہیں چاہی تھی بلکہ کچھ حقیقتیں عیاں کی ہیں ، کچھ اصولوں کی جانب متوجہ کیا ہے انسان کو کہ جب رب کا بندہ ان آیات کی تلاوت کرے تو سمجھے کہ رب کہ کیا رہا ہے ، اپنے بندے سے چاہ کیا رہا ہے اسکی مثال جیسے آیت الکرسی کو پڑھنے کی خاص تاکید ہے کہ بہت سے فوائد رکھتی ہے کہ پڑھنے والے کی محافظ بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔
اور یقیننا رب کا کلام اس قدر طاقت رکھتا ہے مگر یہ کہ انسان کو کامل یقین ہو تو کیا رب صرف یہی چاہتا ہے اسکے بندے سے کہ بس وہ آیت الکرسی کا ورد کر کے بس بھول جائے یا کہ تکرار کا مقصد کچھ اور تھا کہ رب کا عبد ۔ ۔ ۔
جب آلا ھو کہے تو پہلے لا کہنا سیکھے ۔ ۔ ۔یعنی رب کے سامنے کھڑی ہر شے کو لا کہنا سیکھے اور اپنا یقین رب پہ کامل رکھے ۔ ۔ ۔
یعنی طاغوت وقت کا انکار کرے بلکہ ہر وقت ، زمانے،فکر، فہم، رنگ روپ میں لپٹے کسی بھی انداز کے طاغوت کو پہچاننے کی گہری نگاہ رکھتا ہو ۔ ۔ ۔اور بھلے کس قد کاٹھ، رنگ روپ، عم، رنف، شکل ، رتبے ، مقام کا وہ طاغوت ہو اسکی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر اسکے انکار کی مکمل جرات، شجاعت رکھتا ہو اور حقیقی غیرت کا عملی مظاہرہ کر سکے ۔ ۔ ۔ ۔
رب کے عبد اسکے عاشق کسی قیمت بھی جاھل نا سمجھ ، متعصب اور تقسیم کرنے والے نہیں ہوتے ماسوائے جہاں حق و باطل واضح ہو اور کبھی بھی
بلکہ انکا انداز تو دور اندیشی کا ہوتا ہے، توکل و ایمان کا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔جن کا ایمان روپے ، مصنوعات و معدنیات زخائر نہیں ہوتے کہ انہیں کے باعث ہی ترقی ممکن ہے اور اپنا یقین بیچ کر اپنے توکل کا سودا کر کے خود کو بیچ ڈالے کہ رب سے تجارت کرنے والے جب اپنی ہر شے کا سودا رب کیساتھ کر لیتے ہیں تو پھر اس توکل کے امتحان سے نہیں گھبراتے ، کہ تنہائی بھی ملیگی ، رسوائی بھی ملیگی، یقین بھی اپنوں کی نگاہوں سے اٹھتا محسوس ہو گا، اپنی زات کی ہر لحظہ نفی بھی ملیگی ، یہاں تک کہ ایک وقت وہ بھی آئیگا کہ رب کے سوا اسکے عبد کے پاس ظاہرا کچھ نہیں ہو گا مگر عبد حقیقی وہی ہے کہ اسکے یقین میں معمولی سی بھی لغزش، بے یقینی، رب سے ناراحتی کا احساس تک نہ ہو گا ۔ ۔ ۔بلکہ اسکے یقین کی پختگی اوج پھر تھی سو اسی اوج سے بلند کچھ نہ تھا اور پھر اس سے کم کچھ نہیں تھا سو یقین کا کو مقام تھا سو ہر حال میں۔ ایک ہی رہا۔ ۔ ۔
سو رب کے بندے تو اس سفر میں اپنی زات سے ہجرت کر جاتے ہیں اپنے مقام حقیقی کی جانب کہ جہاں پہنچ کر سوائے رب کی خوشی اسکی رضا کے انہیں کچھ درکار نہیں ہوتا انکی خواہشات اور طلب بس رب کی چاہت ، پسند اور خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
کیوں کہ رب کی رضا اور انسان کی چاہت کا فرق ہے جسے قبول نہیں کر پانے کا نام غم ہے سو جب فرق ختم ہو جاتا ہے تو غم بھی نہیں رہتا بلکہ رب کی راہ میں جتنا بھی قربان کر دیا جائے بہت کم محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
اور عبد خدا اپنے رب سے راضی خوش اور پر امید رہتا ہے سخت سے سخت امتحان اور کڑی سے کڑی منزل پہ کھڑے ہو کر شکر خدا بجا لاتا کہ کہ سے رب تیرا شکر کہ تو نے مجھ پہ نگاہ کرم فرما کر مجھے عزت بخشی کے مجھے آزمائش کے قابل سمجھا اس لائق سمجھا کہ میں تیری بارگاہ میں اپنے سب سے بیش قیمت جوہر قربان کرنے کی سعادت پا سکا ۔ ۔ ۔
اصل روح محبت تو بس عمل ، فکر ، معرفت و بصیرت کی بلندیوں کو چھونا ہے تاکہ رب کی پسند کو سمجھنے کی کوشش کر پائے ۔ ۔ ۔
حقیقی عشق بہت طاہر و بلند ہے اسکے لیے اپنا اندر صاف کیے بنا کوئی منزل پائی جا سکے یہ ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
جب تک۔ ۔ ۔ کہ انسان کی زات،خواہشات، طلب، چاہت، ارمان، حسرتیں ،مال و دولت، رشتے ناتے سب ملکیت رب سمجھ کر ، امانتاً استعمال نہ کیے جائیں اور وہ جزبہ اور زمہ داری کا احساس وجود میں پیدا نہیں ہو جائے کہ میرا وجود ہو کہ میرا آل اولاد یا کہ دولت سب رب کی امانت ہے اور رب کی امانت میں کہیں میں خیانت کا مرتکب نہیں ہو جاؤں تب تک انسان رب کا عبد حقیقی معنوں میں نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔
سو اگر عشق میں سچا ہے عبد ربہ تو آگ کے دریا سے کود کر جانا ہو گا ۔ ۔ ۔اور اس زمہ داری سے جانا ہو گا کہ عبد ربی کا وجود الہی اصولوں ۔ ۔ ۔ کی بصیرت سمجھا پانیوالوں میں عملا شامل ہو جاتا ہے کہ رب کو تو وہی پسند ہیں جو اسکی راہ میں حقیقی ، مخلصانہ و با معرفت سعی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ ۔کہ جو اپنے حجروں میں محض بیٹھکر رب کے زیر میں مشغول نہیں ہوتے بلکہ زمانے کے بیچ میں کھڑے ہو کر وقت کے ہر طاغوت کا کھل کر انکار کرتے ہیں اور ہر جہالت کو انسانیت کی سرزمینوں سے کاٹ پھینکتے ہیں ۔ ۔
جہاں بصیرت ،علم، اخلاص، حکمتیں اور عمل اپنے عشق کی حقیقی تصویر بن کر ناچتا دکھائی دیتا ہے کہ زمانے والے اسے بیوقوف و جاھل سمجھتے ہیں جبکہ وہ ایک دور اندیشی ، صاحب بصیرت شخص ہوتا ہے کہ جس کے وجود کی شفافیت اپنے سامنے موجود ہر انسان کو آئنہ دکھانے میں مددگار اور انسان کو حقیقی عبد کی مکمل تعریف سمجھا پانے کا باعث بنتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
رب کا عبد جانتا ہے کہ وہ رب کیطرف سے ہے اور اسی کی جانب لوٹ کر جانیوالا مہاجر ہے اور اس سفر میں اسے مکمل کامیابی سے ہم کنار رہنا ہے اپنے ارد گرد شعور ، علم و بصیرت کے وہ دیے روشن کرنے ہیں کہ بھلے مکمل روشنی نہیں بھی پھیل پائے مگر ہر رہ گزر ان دنوں کی روشنی میں اٹھتے اگلے قدموں نے محفوظ اور درست سمت ہونے کا یقین ضرور کر سکتا ہے ۔ ۔ ۔
کیوں کہ اہل فکر ، زکر وعمل کی جہد و دنیا الگ ہوا کرتی ہے
اور رسموں میں الجھے ، وہموں گمانوں اور جہالتوں میں غرق انسانوں کی دنیا اور ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
اور ہر پست ذہنیت اور کم فکر یہ جب اپنی سمجھ و بصیرت کے ظرف کو وسعت دینے کے لائق نہیں ہوتا تو ہر صاحب فکر و علم کا دشمن بن جاتا ہے اور یہ دشمنی ،نفرت اور انانیت انسان کو حیوان سے بد تر بناتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
جبکہ اہل عشق صاحب معرفت و عمل ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔دور اندیش و باتقوی ہوتے ہیں کے انکے کردار کی مہکار پر اثر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔جو زمانہ بن کے جیتے ہی۔ اور زمانے کی موجوں کو چیر کر اپنی منزل کو آشکار کرتے ہیں۔ ۔ ۔
اہل عشق بڑے باظرف ہوتے ہیں کہ سن دو سب کی لیتے ہیں ۔ ۔ ۔
پر ان پہ حکمرانی رب کی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
وہ رب سے میعار لیتےہیں۔ ۔ ۔ ۔ کہ اہل فکر لوگوں سے رب کا تعلق بڑا الگ سا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کہ رب بھی سونپتا ہے کام انکو کہ جو صاحب افکار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
اخلاص ان کا گہنا ہے ۔ ۔ ۔
جو سب نچھاور کرنے کو ہر پل تیار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
وہ گمنام بھی ہوں تب بھی ۔ ۔ ۔
رب کا میعار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
کہ اہل عشق وہی ہیں جو ریا سے پاک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
جو دنیا بناتے ہیں ۔ ۔ ۔
وہاں سب پاک رکھتے ہیں۔ ۔ ۔
سبھی طاغوت کے دشمن ۔ ۔ ۔
سبھی جہالتوں سے وہ صدا بیزار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
کہ وہ عشق والے ہیں ۔ ۔
وہ صاحب اسرار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
محبت انکی سیاست ہے۔ ۔ ۔
وہ حکمتوں کے امیں بن کر ۔ ۔ ۔
ظلمتیں چیر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
وہ ربط ملت ہیں ۔ ۔ ۔
وہ حق کی آواز ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













